اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا

درس کا خلاصہ

فجر کی سنتیں ادا کرکے دائیں کروٹ لیٹنا نبیﷺ کی سنت اور طریقہ ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا

محمد رفیق طاہر غفر اللہ لہ

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب فجرکی سنتیں ادا کرتے  تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔([1])

سیدنا ابو ہریرہ﷜کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ, فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ»([2])

’’ جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں ادا کرے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے ۔‘‘

ام المو منین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞فرماتی ہیں:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ المُؤَذِّنُ بِالأُولَى مِنْ صَلاَةِ الفَجْرِ قَامَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الفَجْرِ، بَعْدَ أَنْ يَسْتَبِينَ الفَجْرُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ المُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ» ([3])

’’جب مؤذن فجر کی اذان دیتا  تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور دو ہلکی پھلکی رکعتیں ادا کرتے ،پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹ جاتے پھر حتی کہ مؤذن آپ ﷺ کے پاس اقامت کے لیے آتا۔‘‘

ان تینوں احادیث سے ایک تو یہ پتہ چلا کہ فجر کی سنتیں ادا کرکے دائیں کروٹ لیٹنا نبیﷺ کا عمل ہے اور یہ آپﷺ کی سنت اور طریقہ ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ ﷜ والی روایت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ نبیﷺ نے اسے صرف اپنے لیے خاص نہیں رکھا، بلکہ کہا کہ جب بھی تم میں سے کوئی فجر کی دو رکعتیں ادا کرے تو دائیں کروٹ لیٹے۔

تیسری یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ نبی ﷺ فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بعد لیٹتے اور لیٹے رہتے حتیٰ کہ اقامت کا وقت ہوجاتا۔ مؤذن آپﷺ کو بلاتا اور آپ ﷺ جاکر امامت کرواتے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فجر کی سنتوں کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو تہجد پڑھتے ہیں۔ لیکن نبیﷺ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ جس نے رات کو قیام کیا ہے، وہ دو سنتیں پڑھ کر لیٹے۔بلکہ آپﷺ نے حکم بھی دیا کہ جب بھی تم میں سے کوئی آدمی فجر کی سنتیں ادا کرے تو دائیں کروٹ لیٹ جائے۔ یہ تہجد پڑھنےوالوں کے لیےخاص نہیں ہے۔

کچھ لوگ ایسا کرتےہیں کہ فجر سے پہلے دو سنتیں اد اکیں اور تھوڑا سا پہلو لگایا اور سیدھےہو کر بیٹھ گئے۔ دو تین سیکنڈ پہلو زمین پر لگا کر سمجھتےہیں کہ ہم نے سنت پر عمل کرلیا۔ جبکہ یہ  سنت نہیں ہے۔یہ مذاق بن جاتا ہے۔ سنت طریقہ  کچھ دیر تک لیٹنا ہے ۔

________________________________

([1])           البخاري (1160)، ومسلم (736)

([2])           أحمد (2/ 415)، وأبو داود (1261)، والترمذي (420)

([3])           البخاري (626)

 

  • الاربعاء PM 02:43
    2023-02-01
  • 915

تعلیقات

    = 6 + 7

    /500
    Powered by: GateGold