اعداد وشمار
مادہ
فجر کی سنتوں کی قضا
درس کا خلاصہ
فجر کی نماز کے فورا بعد بھی فجر کی سنتوں کی قضائی دی جاسکتی ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
فجر کی سنتوں کی قضا
محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ
سیدنا قیس ابن عمرو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ([1])
’’ صبح کی نماز تو دو رکعتیں ہیں۔‘‘ (دو رکعتیں تونے جماعت کےساتھ پڑھ لی ہیں تو پھر تونے یہ دو رکعتیں کیا پڑھی ہیں؟) اس نے جو اب دیاکہ فجرسے پہلے کی دو سنتیں میں نے نہیں پڑھی تھیں۔ وہ میں نے اب پڑھی ہیں۔ نبیﷺ نے جب اس کا یہ جواب سنا تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یعنی اسے کچھ نہیں کہا ۔
اس سےمعلوم ہوتا ہے فجر کی سنتوں کا اصل مقام نماز فجر سے پہلے ہے، لیکن اگر کوئی لیٹ ہو جاتا ہے تو وہ فجر کی جماعت کے ساتھ شامل ہوجائے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد فجر کی سنتیں پڑھے۔یعنی نما زکے بعد ان کی قضائی دے دے ۔
کچھ لوگ فجر کی نماز کھڑی ہونے کے بعد بھی ایک سائیڈ پر کھڑے ہوکر فجر کی سنتیں پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔یہ طریقہ کار درست نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ کا ہے:
«إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ» ([2])
’’جب اقامت ہوجائے تو فرض نماز کےعلاوہ اورکوئی نمازنہیں ہے۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ اگر فجر کی سنتیں فجر سے پہلے نہیں پڑھیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھے، حالانکہ یہاں نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ فجر کی نماز دو رکعتیں ہیں، وہ تو نے جو ہمارے ساتھ پڑھ لی ہیں۔ اس نے کہا کہ میں نے فجر کی سنتیں ادا کی ہیں تو آپﷺ نے کچھ نہیں کہا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فجر کی سنتیں فجر کی نماز ادا کرنے کے فوری بعد اداکی جاسکتی ہیں۔
سورج کے طلوع ہونے تک فجر کی سنتوں اور فرائض کےعلاوہ اور کوئی نماز نہیں ہے۔صرف تحیۃ المسجدپڑھی جائے گی۔ اس کے بارے میں نبیﷺ کا فرمان ہے:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ»([3])
’’ جب بھی تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے ۔‘‘
اگر لیٹ ہونے والی پوری جماعت ہے، مثلاً کسی کی بھی آنکھ نہیں کھلی یا مسجد میں ہی اذان لیٹ ہوئی ہے یا کسی اور وجہ سے ، تو ایسی صورت میں یہ نہیں کہ جلدی جلدی بس فرائض ادا کرنے کی کریں، بلکہ پہلے سنتیں ادا کریں ۔
کچھ لوگ لیٹ ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اب اسپیکر میں اذان نہ دو بلکہ ویسے ہی دے دو ۔ یہ نبی ﷺ کا طریقہ نہیں ہے ۔ ایک بار آپ ﷺ سفر پر تھے۔ رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالااور سو گئے۔پھر سار ے ہی سوئے رہ گئے۔ جب سورج کی تپش پڑی تو لوگ بیدار ہوئے۔ سیدنا عمر اونچی آوازسے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنےلگے تاکہ نبیﷺ بھی بیدار ہوجائیں۔آپﷺ جب بیدار ہوئےتو فرمایا: ’’یہاں سے آگے چلو۔‘‘ پھر دوسری جگہ پر جاکر رکے ۔ وضو کیا۔ بلال کو کہا۔ انہوں نے اذان دی۔ پھر فجرکی سنتیں ادا کیں۔ اس کے بعد آپﷺ نے لوگوں کو جماعت کروائی اورباجماعت نماز ادا کی۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ» ([4])
’’بندہ اگر کبھی سویا رہ جائے تو اس میں کو ئی کوتاہی نہیں ہے۔ کوتاہی بیداری میں ہے۔‘‘
اگر کوئی بیدار کردے اور پھر بھی سستی کرکے لیٹا رہے اور نماز ادا نہ کرے تو یہ کوتاہی ہے اور اگر آنکھ کھلی نہیں تو پھر بندے پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔
اسی طرح کبھی امام صاحب لیٹ ہو گئے اور مقتدی سارے پہنچ چکے ہیں تو اب امام صاحب جلدی جلدی آکر جماعت نہ شروع کروادیں، بلکہ پہلے سکون کے ساتھ سنتیں اداکریں۔ نمازیوں پر لازم ہے کہ امام کے سنتیں ادا کرنے کا انتظارکریں۔اگر جماعت دس منٹ لیٹ بھی ہوگئی تو کوئی حرج نہیں ۔
سیدنا بلال فرماتے ہیں کہ وہ نبیﷺ کو بیدار کرنے کے لیے ، فجر کی نماز کے لیے بلانے گئے تو سیدہ عائشہ نے کچھ باتیں پوچھنا شروع کردیں۔ اسی میں دیر ہوگئی۔ جب صبح تھوڑی سی زیادہ روشن ہوئی تو بلال نے بتایا کہ نماز کا وقت ہوگیاہے۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نکلے نہیں بلکہ آپ ﷺ نے اطمینان کے ساتھ فجر کی سنتیں ادا کیں اور اس کے بعد لوگوں کو جا کر نماز پڑھائی۔ بلال نے بتایا کہ عائشہ نے مجھے باتوں میں لگا دیا تھا۔ میں ان کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوگیا اور اس کے بعد آپ کو بیدار کیا، لیکن پھر بھی آپﷺ لیٹ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: «لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا، وَأَحْسَنْتُهُمَا، وَأَجْمَلْتُهُمَا» ([5])
’’میں نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے لیٹ ہوگیا۔‘‘ بلال کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے بہت زیادہ صبح کردی کہ روشنی زیادہ ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جتنی صبح ہوگئی ہے، اگر اس سے زیادہ صبح ہوجاتی تو میں یہ فجر کی دو رکعتیں ضرور پڑھتا ، اور انہیں خوب اچھی طرح سے ادا کرتا، پھر جماعت کروانےکےلیے آتا ۔‘‘
اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی مقتدی لیٹ آئےتو نماز کے بعد سنتیں ادا کرلے اور اگر امام لیٹ ہو جائےتو پہلے فجرکی سنتیں ادا کرے، پھر جماعت کروائے ۔اگر کچھ تاخیر ہوبھی جاتی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ سورج کے نکلنے تک نماز فجر کاوقت ہے۔ وقت کے اند ر ادا ہونی چاہیے ۔
____________________
([1]) أبو داود (1267)
([3]) البخاري (11639)، ومسلم (714)
([4]) مسلم (681)، أبو داود (437)
-
الاربعاء PM 02:50
2023-02-01 - 828





