اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

طلوع آفتاب کے قریب فجر کی سنتیں

درس کا خلاصہ

اگر کوئی لیٹ ہوگیا اور سورج نکلنے کے قریب ہو تو پہلے فجر کے فرض پڑھ لے، سنتیں بعد میں ادا کرے



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

طلوع آفتاب کے قریب فجر کی سنتیں

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا ابو ہریرہ﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ, وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ»([1])

’’جس نے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت بھی  پڑھ لی تو اس کو فجر کی نماز مل گئی اورجس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت بھی پڑھ لی اس نے پالیا ، یعنی  اس نے نماز  عصر کو پالیایا اس نے نمازعصر بروقت ادا کرلی۔‘‘

یعنی اس کی نماز قضاء نہیں ہوئی، بلکہ اس کی فجر کی نماز ادا ہوگئی۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکلنے کا وقت بالکل قریب ہو اور بندہ سویا رہ گیا اور لیٹ آنکھ کھلی اور سورج کے طلوع ہونے میں پانچ سات منٹ باقی ہیں اور اب وہ جلدی سے وضو  کرے اور فجر کی سنتیں چھوڑ دے اور فرائض ادا کرلے، کیونکہ اگر سورج نکلنے کے بعد اس فرض ادا کئے تو پھر وہ قضاء ہوگئے، ادا نہیں ہوئے۔اور فجر کی سنتیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔لہٰذا  فرض کو قضاء ہونے سے بچانے کے لیے سنتوں کو مؤخر کردے، کیونکہ اصل نماز فرض ہے۔ فجر کی سنتوں کی اگرچہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق بہت اہمیت ہے ، جیسا کہ فرمایا: 

«رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» ([2])

’’دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔‘‘

 لیکن یہ فرائض کے برابر  نہیں ہیں۔ فرض کے لیے وقت متعین اور مقرر ہے۔ اس کو اس مقرر اور متعین وقت میں ادا کرے ۔ اسی حدیث سے ایک اور بات بھی پتہ چلی کہ اگر کوئی آدمی فجر کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھے گا تو دوسری رکعت سورج طلوع ہونے کے دوران پڑھے گا۔ سورج جب طلوع ہونا شروع ہوجائے تو نماز کا آغاز کرنا منع ہے۔ اگر اس سے پہلے اتنا وقت اس کے پاس ہے کہ وہ ایک رکعت اداکر سکتا ہے  اوروہ ایک رکعت ادا کرلے تو اس کی نماز بر وقت ہوگی اور دوسری رکعت  وہ سورج کے طلوع کے دوران کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔

سیدنا عبد اللہ ابن عمر ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ، وَلاَ تَحَيَّنُوا بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، أَوِ الشَّيْطَانِ»([3])

’’جب سورج کی ٹکیہ ظاہرہوجائے تو نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ وہ اچھی طرح سے ظاہر ہو جائے اور جب سورج کی ٹکیہ غائب ہونا شروع ہوجائے تو نماز چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ اچھی طرح سے غائب ہوجائے۔ اور سورج کے طلوع ہوتے اور غروب ہوتے نماز ادا نہ کرو  کیونکہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سورج طلوع اور غروب ہوتاہے ۔‘‘

سیدنا عمرو ابن عَبَسَہ ﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«.... وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ» ([4])

’’جب سورج نکلتا یاغروب ہوتا ہے تو کفا ر سورج کو  سجدہ کرتے ہیں۔‘‘

سیدنا عمرو ابن عبسہ سُلَمِیْ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کاارشاد ہے:

«.... فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ وَهِيَ سَاعَةُ صَلَاةِ الْكُفَّارِ، فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ قِيدَ رُمْحٍ وَيَذْهَبَ شُعَاعُهَا» ([5])

’’ سورج شیطان کے دو سینگوں کےدرمیان طلوع ہوتاہے  اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے۔ جب سورج طلوع ہوناشروع ہوجائے تو نماز نہ پڑھ ، نماز سے رک جا ،حتیٰ کہ وہ ایک نیزے کے برابر اونچا ہوجائے اور سورج  کی شعاع پھیل جائے ۔‘‘

سورج کی ٹکیہ کے غائب ہونے کے فوراً بعد نماز پڑھ سکتے ہیں۔لیکن جب سورج نکلے تو سورج کے باہر نکلتے ہی فوراً نماز نہیں پڑھنی بلکہ انتظار کرنا ہے حتی کہ ایک نیزے جتنا اونچا ہوجائےاوراس کو تقریباً بارہ منٹ لگتے ہیں اور سورج کے طلوع، غروب اور زائل ہونے میں دو منٹ اور پینتیس سیکنڈ لگتے ہیں۔ لہٰذادو منٹ اور پینتیس سیکنڈسورج کی ٹکیہ کے نمودار ہوتے لگیں گے اوربارہ منٹ اسے اونچا ہونے اور اس کی شعاع کے پھیلنے میں لگیں گے۔یہ کل ساڑھے چودہ منٹ بنتے ہیں۔اس لیے کلینڈر اور ڈیجیٹل کلاک وغیرہ پر جو وقت لکھا ہوتا ہے، اس سے ٹھیک پندرہ منٹ بعدآپ نماز فجر ادا کریں،یافجر کی سنتیں اگر رہ گئی ہیں، وہ ادا کرلیں۔ اس سے پہلے ادا نہ کریں۔ جنہوں نے اشراق ادا کرنی ہے، وہ بھی اتنے وقت کے بعد اداکرے۔ جو زوال کا وقت ہے، اس میں تین منٹ جمع کرلیں جو لکھا ہوتاہے۔ اس کے بعد آپ نماز ادا کرلیں۔ اسی طرح غروب کا جو وقت لکھا ہوتا ہے، اس سےتین منٹ پہلے نماز سے رکنا ہے، یہ نظام الاوقات کی ترتیب ہے۔

_________________________________

([1])           البخاري (579)، ومسلم (608)

([2])           مسلم (725)

([3])           البخاري (3272، 3273)، ومسلم (829)

([4])           مسلم (832)

([5])           النسائي (572)

  • الاربعاء PM 03:00
    2023-02-01
  • 647

تعلیقات

    = 8 + 2

    /500
    Powered by: GateGold