اعداد وشمار
مادہ
نماز میں مصحف تھامنا
درس کا خلاصہ
قرآن پکڑ کر نماز ادا کرنے سے ہاتھ باندھنے والے حکم پہ عمل نہ ہو تو یہ ناجائز ہوگا۔ اور اگر چھوٹا مصحف یا موبائل اس طریقے سے پکڑیں کہ ہاتھ بندھے رہیں تو کچھ گنجائش بامر مجبوری ایسا کرنے کی نکل سکتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں مصحف تھامنا
محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ([1])
’’ویسے نماز پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ کا ر مختلف صحا بہ کرام نے بیان کیا ہے۔ سیدنا وائل ابن حجر قیام کی حالت میں نبیﷺ کا طریقہ کا ر بیان کرتے ہوئے کہتےہیں:
’’آپ اپنا دایاں یاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے ۔‘‘([2])
سیدنا سہل ابن سعد ابن مالک فرماتےہیں:
«كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ» ([3])
’’لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز کےدوران حالت قیام میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ذراع /بازو پر رکھیں ۔‘‘
سیدنا وائل ابن حجرفرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا اور دونوں ہاتھوں کو آپ نے سینے پر باندھا ۔([4])
سیدنا علی نے آیت ‹فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۲ۭ› [الکوثر: 2] کی تفسیر میں فرمایا:
’’دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ ہنسلی کے نیچے باندھنا۔‘‘([5])
ہنسلی سے نیچے کا مطلب سینے پر ہے۔
مختصراً یہ کہ نبی ﷺ نمازمیں ہاتھ باندھتے تھے اور بغیر ضرورت اورمجبوری کے ہاتھ نہ کھولتے تھے۔ یہ قیام کی ایک حالت ہے جو شریعت نے متعین اور مقرر کی ہے کہ نماز میں قیام کے دوران ہاتھ بندھے ہوئے ہوں ۔
رسول اللہ ﷺ سے نماز کے دوران کچھ افعال منقول ہیں جو آپ نے کیے۔ مثلاً:
آپﷺ جماعت کروارہے تھے تو اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب کو آپ ﷺ نے اٹھا کر نماز پڑھی ۔([6])
ایک مرتبہ سیدہ عائشہ صدیقہنےدروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ ﷺ گھر میں نفل نما زادا کررہے تھے۔ آپ ﷺ نماز کے دوران ہی کچھ قدم آگے بڑھے، دروازہ کھولا اور الٹے قدم واپس پیچھے آئے ۔([7])
یعنی ضرورت کے تحت ہاتھ کھولا اور اپنی نماز جاری رکھی۔ اگر بندہ نماز کےدوران اتنا ہاتھ کھول لے تو سمجھ آتی ہے کہ یہ ضرورت ہے، لیکن کچھ لوگ خاص کر رمضان کے قیام اللیل میں جب تروایح کی جماعت ہوتی ہےتو موبائل یا مصحف/قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر اوپر سے دیکھ کر سنتے ہیں۔ حالانکہ حکم ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر باندھنا ہے ۔تو جو یہ کر رہے ہوتے ہیں وہ آپ ﷺ کی نافرمانی اور حکم عدولی ہے۔
کچھ لوگ بعض روایات پیش کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہکا ذکوان نامی غلام مصحف سے دیکھ کر امامت کروایا کرتا تھا۔ ([8])
حالانکہ مصحف کو دیکھنا الگ بات ہے اور مصحف کو پکڑنا الگ بات ہے ۔ اس کے علاوہ جو مصحف صحابہ کرام کے دور میں تھا، کوئی چھوٹا سا تو نہیں تھا کہ جس کو آسانی سے اٹھا لیا جائے۔ وہ تو چمڑے کے اوپر لکھا ہوا تھا ۔ اس کا وزن تقریباً اسی (80)کلو بنتا ہے۔ ممکن نہیں اس کو ہاتھ میں اٹھا کر طویل قیام کرسکے ۔
جتنا کسی کو یاد ہے، اتنا ہی پڑھ لے۔ لمبا قیام کرنا ہے تو جو اس کو یاد ہے، اسی کو بار بار پڑھ لے۔ دس بار ایک سورت پڑھ لے۔ ایک رکعت میں ایک سورت سو بار پڑھ لے، منع تو نہیں ہےدہرانا۔ لیکن ہاتھ باندھنےکا حکم ہے۔ اگر مصحف پکڑےگا تو ہاتھ باندھنے کا حکم پورا نہیں ہوگا ۔
جن لوگوں نے مصحف ہاتھ میں پکڑا ہوتا ہے تو رکوع میں ایک ہاتھ گھٹنے پر ہوتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے قرآن پکڑ کر سینے سے لگایا ہوتا ہے، حالانکہ رکوع میں حکم ہے کہ دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھا جائے۔([9])
لہٰذا مصحف سے دیکھ کر پڑھنا درست کام نہیں ہے۔ جس کو جتنا زبانی یاد ہے، اتنا پڑھے۔ خاص کر جو پیچھے کھڑے ہوئے مقتدی ہوتے ہیں، ان کا مقصد ہی کوئی نہیں مصحف اٹھانے کا۔وہ کہتے ہیں کہ اوپر سے دیکھ کر سننے میں لطف آتا ہے۔ اگر لطف ہی لینا ہے وہ ریکارڈنگ چلا کر دیکھ کر سنتا رہے، مگر نما زمیں ایسانہ کرے، اور وہ کام کرے جو نبیﷺ کا حکم ہے، اور فرمایا کہ ویسے نماز پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
آپ ﷺ کا عمل ہے کہ آپ ﷺ نے قیام میں ہاتھ باندھے ہیں۔ کھولے یا چھوڑے نہیں۔ اور حکم بھی دیا ہے ہاتھوں کو باندھنے کا۔اس لیے نماز کے دوران ہاتھوں کو باندھ کر رکھیں۔
_______________________
([5]) موضح أوهام الجمع والتفریق للخطیب بغدادي: 2/340 (379)
-
الاربعاء PM 04:07
2023-02-01 - 1040





