اعداد وشمار
مادہ
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنا
درس کا خلاصہ
دورانِ نماز پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنا
محمد رفیق طاہر عفی عنہ
سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:
«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا» ([1])
’’نبی کریمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آدمی نماز کے دوران اپنے پہلو پر ہاتھ رکھے۔‘‘
دورانِ نماز پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
«أَنَّ ذَلِكَ فِعْلُ الْيَهُودِ» ([2])
’’یہ یہودیوں کا فعل ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث کا معنیٰ تو واضح ہے۔ لیکن بسا اوقات پہلو کی طرف ہاتھ لے جانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ مثلاً دورانِ نماز کسی کی شلوار ٹخنوں سے نیچے چلی جائے تو وہ اس کو صحیح کرنے کےلیے اوپر ایک دو بَل دے لیتا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے۔ یہ ضرورت کے تحت ہے۔ بلا ضرورت پہلو پر ہاتھ رکھنا منع ہے۔ اس کو یہودیوں کا فعل کہا گیا ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے نماز کی جو ہیئت اور طریقہ کار سکھایا ہے، اسی ہیئت اور طریقہ کار کو اپنایا جائے۔ اس کے علاوہ نماز کے اندر بلا ضرورت کوئی حرکت نماز کے خشوع کو ختم کردیتی ہے یا کم کر دیتی ہے۔
_____________________________
([1]) البخاري (1219و 1220)، ومسلم (545)
-
الاربعاء PM 04:21
2023-02-01 - 1029





