اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

کھانا اور نماز

درس کا خلاصہ

کھانے کی موجودگی میں یعنی جب کھانا حاضر ہوتو نماز نہیں ہوتی۔ اسی طرح بندے کو جب دو خبیث چیزیں یعنی بول وبراز تنگ کررہے ہوں ، پیشاب پاخانے کا زور ہو، تب بھی نماز نہیں ہوتی۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

کھانا اور نماز

محمد رفیق طاہرکان اللہ لہ

سیدنا انس بن مالک﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا الْمَغْرِبَ» ([1])

’’جب تمہارے سامنے شام کا کھانا پیش کردیا جائے (مغرب سے پہلے، پھر مغرب کی اذان ہوجائے تو تم نے کھانا چھوڑ کر نماز پڑھنے کےلیے نہیں جانا۔بلکہ) کھانا پہلے کھا لو، مغرب بعد میں پڑھ لینا۔‘‘

مغرب اور فجر کا وقت باقی نمازوں کی نسبت کم ہوتا ہے جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ رہتا ہے۔ اس کے باوجود یہ حکم دیا گیا ہے کہ کھانے کی موجودگی میں نماز کی طرف نہ جایا جائے کیونکہ بندہ جب کھانا چھوڑ کر نماز کےلیے جاتا ہے تو اس کا سارا دھیان کھانے کی طرف ہی رہتا ہے۔اس طرح نماز کے خشوع وخضوع میں فرق آتا ہے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ پہلے کھانا کھا لو، پھر تسلی سے مغرب کی نماز ادا کرلینا۔

اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ کو معلوم ہو کہ نماز کا وقت قریب ہے تو آپ جان بوجھ کر کھانا حاضر کرلیں۔ پھر کھانا کھانا شروع کردیں اور کہیں کہ کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہوتی۔ یہ کام کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ یہ اتفاق کی بات کی جارہی ہے کہ اتفاقاً کھانے پیش ہوا ۔ آپ کو علم نہیں ہے۔ اچانک نماز کا وقت ہوجاتا ہے ۔ یعنی نماز کے وقت کی طرف دھیان نہیں گیا۔ بندہ بھول گیا اور کھانا پیش ہوگیا۔ اب پہلے تسلی سے کھانا کھا لیں۔ لیکن جب نماز کا وقت معلوم ہے، پھر جان بوجھ کر نماز سے متصل پہلے کھانا منگوا  کر کھانا شروع کردیا جائے تو پھر یہ رُخصت نہیں ہے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ طَعَامٍ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ»([2])

’’کھانے کی موجودگی میں یعنی جب کھانا حاضر ہوتو نماز نہیں ہوتی۔ اسی طرح بندے کو جب دو خبیث چیزیں یعنی بول وبراز تنگ کررہے ہوں ، پیشاب پاخانے کا زور ہو، تب بھی نماز نہیں ہوتی۔‘‘

پہلے کھانا کھانے اور قضائے حاجت سے فارغ ہولیں، پھر تسلی اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیں تاکہ نماز کے خشوع میں فرق نہ آئے۔

رمضان المبارک میں عام طور پر علم ہوتا ہے کہ نماز کا وقت قریب ہے، پھر بھی افطاری کا اتنا لمبا چوڑا بندوبست بنا لیا جاتا ہے کہ مغرب کی نماز فوت ہوجاتی ہے۔ کبھی ایک رکعت رہ جاتی ہے اور کبھی پوری جماعت  نکل جاتی ہے۔ یہ غلط ہے۔ رسول اللہﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپﷺ چند تَر کھجوروں سے روزہ افطار کرلیتے تھے۔ اگر تَر کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ افطار کرلیتے جو دس سے کم ہوتی تھیں۔ اگر وہ بھی دستیاب نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ بھر کر روزہ کھول لیتے۔ اتنی مختصر افطاری کرکے نماز پڑھ لیں، پھر کھانا کھا لیں۔ طبی طور پر بھی اس کے فوائد ہیں اور شرعی طریقہ کار بھی یہی ہے۔ سارا دن کا بھوکا بندہ یکدم پیٹ نہ بھرے ۔ تھوڑا سا کھا کر تھوڑا سا آسرا کرے، پھر نماز پڑھے  اور نماز کے بعد باقی کھانا کھا لے۔  

یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ نماز کے وقت کا علم نہیں ہوا، خیال نہیں گیا اور آپ کھانا کھانے بیٹھ گئے ہیں تو پھر آپ تسلی سے کھانا کھا لیں۔ شریعت نے اتنی رخصت دی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آپ کو نماز کے وقت کا علم ہے اور پھر آپ جان بوجھ کر نماز سے پہلے کھانا حاضر  کرلیں ، یہ ناجائز اور غلط ہے۔ اس میں رُخصت نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کو پیشاب پاخانے کا زور ہو تو پھر وہ پہلے اپنی حاجت پوری کرے ، پھر نماز میں شریک ہو۔

__________________________

([1])           البخاري (672)، ومسلم (557)

([2])           البخاري (672)، ومسلم (557)

 

  • الاربعاء PM 06:35
    2023-02-01
  • 673

تعلیقات

    = 3 + 7

    /500
    Powered by: GateGold