اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نماز میں اِدھر اُدھر جھانکنا

درس کا خلاصہ

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے سے نمازی کا اجر کم ہوجاتا ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نماز میں اِدھر اُدھر جھانکنا

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ فرماتی ہیں:

«سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ» ([1])

’’میں نے نبی کریمﷺ سے نماز میں التفات یعنی اِدھر اُدھر جھانکنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپﷺ  نے فرمایا: ’’یہ ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کی نماز کا ثواب اُچک لیتا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے سے نمازی کا اجر کم ہوجاتا ہے۔ اس لیے نماز میں اپنی نگاہ بلا وجہ اِدھر اُدھر گھمانا منع ہے۔ ایسا کرنا درست نہیں۔ اس طرح نماز میں نقص اور کمی واقع ہوجاتی ہے۔

سیدنا جابر بن سمرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ» ([2])

’’جو لوگ نماز کے دوران اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں، وہ ضرور اس سے باز آجائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی آنکھیں واپس ہی نہ لوٹیں۔‘‘

واپس نہ لوٹنے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بندہ نگاہ اوپر اٹھائے اور وہ ہی باقی نہ رہے ، یا اس کی نگاہ ہی ختم کردی جائے۔

اس لیے دورانِ نماز اِدھر اُدھر جھانکنا یا اوپر دیکھنا دونوں کام منع ہیں۔ آپﷺ نے ان دونوں سے سختی سے روکا ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ  دورانِ نماز اپنی توجہ سامنے رکھے۔البتہ بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت دیکھا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ دورانِ نماز سانپ اور بچھو کو مارا جاسکتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ سانپ یا بچھو نمازی کے سامنے آئے گا تو ایک جگہ پر ٹکے گا نہیں۔ نمازی اسے مارنے کی کوشش کرے گا تو وہ دائیں بائیں ہوگا۔ یہ حدیث بھی پہلے آچکی ہے کہ نبی کریمﷺ اپنی نواسی امامہ بنت زینب﷞ کو اٹھا کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ جب رکوع اور سجدہ کےلیے جھکتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے اور جب اگلی رکعت کےلیے اٹھتے تو اسے اٹھا لیتے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نفل نماز گھر میں ادا کررہے تھے۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپﷺ نے چند قدم آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور پھر واپس لوٹ گئے۔ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔  ([3])

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ضرورت جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو، بندہ بقدرِ ضرورت نگاہ ادھر اُدھر گھما سکتا ہے۔ لیکن بلا ضرورت ادھر اُدھر دیکھنا ناجائز اور غلط ہے۔ اس سے بسا اوقات نماز کا اجر ختم ہوجاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ عمل اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے۔ اس لیے بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت اپنی نگاہ ادھر اُدھر کرسکتے ہیں، وگرنہ پوری توجہ نماز کی طرف ہونی چاہیے۔

_______________________________

([1])           البخاري (751)

([2])           مسلم (428)

([3])           أبو داود (922)

 

  • الاربعاء PM 06:49
    2023-02-01
  • 1594

تعلیقات

    = 3 + 2

    /500
    Powered by: GateGold