اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

دورانِ نماز تھوکنا

درس کا خلاصہ

شریعت نے دوران نماز قبلہ رو تھوکنے سے سختی سے روکا ہے۔ البتہ بائیں جانب نیچے کو مناسب جگہ تھوکنے کی اجازت ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

دورانِ نماز تھوکنا

محمد رفیق طاہر عفی عنہ

سیدنا انس بن مالک﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ» ([1])

’’تم میں سے کوئی آدمی جب نماز ادا کررہا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کررہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے راز ونیاز کی باتیں کررہا ہوتا ہے۔ اس لیے دورانِ نماز اگر اسے تھوکنے کی ضرورت پیش آجائے تو نہ اپنے دائیں طرف تھوکے اور نہ سامنے، بلکہ بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوک لے۔‘‘

اس وقت چونکہ مساجد کچی ہوتی تھیں۔ اس لیے زمین پر تھوک پھینکا جاتا تو وہ اسے چوس لیتی تھی۔ آج کل یہ معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے اگر کسی کو ایسا مسئلہ ہو کہ تھوکنا ضروری ہو مثلاً بلغمی کھانسی لگ جائے تو اسے چاہیے کہ نماز کے دوران کھانسی کے ساتھ نکلنے والی بلغم کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرکے رکھے۔ مثلاً ٹشو پیپر یا رومال وغیرہ۔ تھوکتے وقت یہ خیال رکھنا ہے کہ سامنے یا دائیں طرف منہ نہ ہو بلکہ بائیں طرف سر نیچے کرکے تھوکا جائے۔

نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو  دیکھا جو لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا۔ اس نے قبلہ کی جانب تھوکا۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا: یہ شخص آج کے بعد تمہاری امامت نہ کروائے۔ پھر کسی دن اس نے امامت کروانی چاہے تو لوگوں نے اسے روک دیا اور رسول اللہﷺ کا حکم سنایا۔ اس  نے آکر رسول اللہﷺ سے پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا:

«إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ([2])

’’تو نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو تکلیف دی ہے۔ ‘‘

یعنی جب منع کردیا تھا کہ قبلہ کی جانب نہیں تھوکنا تو تم نے تھوک کر غلط کیا۔ یہ لوگ کسی سفر سے واپس آئے ہوں گے، اس لیے جماعت کروائی ہوگی۔

اس حدیث سے  یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے پیچھے اگرچہ نماز ہوجاتی ہے، لیکن اسے امام بنانا درست نہیں۔ نبی کریمﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

ایک روایت میں ہے:

«مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ» ([3])

’’جو بندہ قبلہ کی جانب تھوکتا ہے، وہ قیامت کے روز اس حالت میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کے ماتھے پر لگا ہوا ہوگا۔‘‘

معلوم ہوا کہ شریعت نے اس کام سے سختی سے روکا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

_____________________________________

([1])           البخاري (1214)، ومسلم (551)

([2])           أبو داود (481)

([3])           أبو داود (3824)

 

  • الاربعاء PM 06:56
    2023-02-01
  • 1067

تعلیقات

    = 2 + 5

    /500
    Powered by: GateGold