اعداد وشمار
مادہ
نماز میں جمائی لینا
درس کا خلاصہ
نماز کے دوران جمائی آئے تو مقدور بھر اسے روکنے کی کوشش کرے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں جمائی لینا
محمد رفیق طاہر غُفِرَ لَہ
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«التَّثَاؤُبُ مِنْ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ»([1])
’’جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جس قدر ہوسکتا ہے، اسے روکے۔‘‘
ترمذی میں یہ الفاظ ہیں:
«فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ» ([2])
’’جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران جمائی آئے تو مقدور بھر اسے روکنے کی کوشش کرے۔‘‘
انسان میں سستی پیدا کرنے کےلیے شیطان کی طرف سے جمائی آتی ہے۔ کچھ لوگ جمائی لیتے ہوئے منہ کھول دیتے ہیں اور آگے ہاتھ بھی نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ پورا منہ کھول کر جمائی لیتے ہیں اور آگے ہاتھ رکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے حدیث پر عمل کرلیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ منہ کے آگے ہاتھ رکھا جائے ، لیکن جو اصل تعلیم دی ہے، وہ یہ ہے کہ بندہ جمائی کو روکے۔ اسے روکنے کی کوشش کرے۔ یہ نہیں کہ جب جمائی آنے لگے تو بندہ پہلے سے ہی تیار ہوجائے کہ اچھی طرح جمائی لے لوں۔ بس ہاتھ رکھ لوں گا تو کافی ہوجائے گا۔ اس مسئلہ میں اصل تعلیم یہ ہے کہ جمائی کو روکنے کی کوشش کریں۔ اگر نہ رکے تو آگے ہاتھ رکھ لیں۔ لمبی سے لمبی جمائی نہ لیتے جائیں۔
__________________
-
الاربعاء PM 07:07
2023-02-01 - 984





