اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نقش ونگار اور نماز

درس کا خلاصہ

نمازی نے جہاں نماز پڑھنی ہے، چاہے وہ گھر ہو یا مسجد، اس کے سامنے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو اس کی توجہ کو نماز سے ہٹائے اور اس کے خشوع وخضوع کو متاثر کرے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نقش ونگار اور نماز

محمد رفیق طاہرغفر اللہ لہ

سیدنا انس بن مالک﷜ بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ کا ایک پردہ تھا جسے وہ اپنے گھر کی ایک جانب جو مسجد کی طرف تھی، لٹکایا کرتی تھیں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا، فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي» ([1])

’’اپنا یہ پردہ ہم سے ہٹا لو کیونکہ اس کی تصاویر  یعنی نقش ونگار نماز میں مجھے تنگ کرتے ہیں۔ یعنی میری توجہ کو ہٹاتے ہیں۔‘‘

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں:

«صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهُ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمِ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي عَنْ صَلَاتِي» ([2])

نبی کریمﷺ نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی۔ اس میں کچھ لائنیں اور نقش ونگار بنے ہوئے تھے۔ دورانِ نماز آپﷺ کی توجہ ان نقش ونگار کی طرف گئی۔ نماز سے فارغ ہوکر آپﷺ نے فرمایا:  ’’میری یہ چٹائی لے جاؤ اور ابو جہم کا انبجانیہ نامی کپڑا لے آؤ۔اس نقش ونگار والے مصلے نے مجھے نماز سے غافل کردیا۔‘‘

انبجانیہ اونی کپڑا ہوتا تھا جو بالکل سادہ ہوتا تھا بغیر نقش ونگار کے۔ معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ ایسا جائے نماز یا نمازی کے سامنے ایسی کوئی بھی چیز  کہ دورانِ نماز اگر نمازی کی اس پر نگاہ پڑے  تو نمازی اسی کی طرف متوجہ ہوکر رہ جائے، ناپسند کرتے تھے اور اسے بدلنے کا حکم دیتے تھے۔

آج مسئلہ یہ ہے کہ بازار میں سادہ مصلیٰ لینے جائیں تو باوجود تلاش بسیار کے دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ امت کا اجتماعی مسئلہ ہے  کہ نبی کریمﷺ سادہ مصلیٰ پسند فرماتے ہیں اور ہمارے بازاروں میں یہ دستیاب نہیں۔ چھوٹے پیمانے پر تو اس کا حل نکالا جاسکتا ہے کہ مثلاً گھر میں نماز پڑھنے کےلیے جو مصلیٰ ہے، اس پر کوئی سادہ کپڑا بچھا لیا جائے۔ اس طرح نقش ونگار نظر نہیں آئیں گے۔ لیکن مساجد میں بچھنے والے قالین، چٹائیاں اور دریاں  نقش ونگار والی ہوتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اس کا متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ قالین اگر سادہ نہیں ملتا تو کارپٹ تو دستیاب ہوتا ہے۔ قالین کی جگہ کارپٹ استعمال کرلیا جائے۔ تھوڑا عرصہ چلے گا تو کوئی بات نہیں۔ اللہ کا گھر ہے، معاملہ چلتا رہے گا۔  اسی طرح عام طور پر مساجد کی قبلہ والی دیوار پر بھی  کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو نمازی کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کروا لیتا ہے۔ چاہے وہ اذکار کے پینا فلیکس ہوں یا ٹائم ٹیبل والی گھڑی ہو۔ اگر قاری صاحب نماز میں دو آیات زیادہ پڑھ دیں تو نمازی دیکھتا ہے کہ کتنے منٹ اوپر ہوگئے ہیں۔ حالانکہ نماز کے دوران نگاہیں اوپر اٹھانے پر جو وعید ہے، وہ گزشتہ سے پیوستہ درس میں بیان کی جاچکی ہے۔ اس لیے کوئی بھی ایسی چیز جو نمازی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے، اسے نمازی کے سامنے نہیں ہونا چاہیے۔ سائیڈ پر لگا لیں تاکہ نمازی کی نماز خراب نہ ہو۔ پچھلی دیوار پر بھی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ ٹائم ٹیبل کا مقصد تو نماز کا وقت معلوم کرنا ہے، نہ کہ دورانِ نماز وقت دیکھنا۔ اس لیے دائیں، بائیں یا پیچھے لگا لیں تو بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نمازی نے جہاں نماز پڑھنی ہے، چاہے وہ گھر ہو یا مسجد، اس کے سامنے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو اس کی توجہ کو نماز سے ہٹائے اور اس کے خشوع وخضوع کو متاثر کرے۔

__________________

([1])           البخاري (374)

([2])           البخاري (373)، ومسلم (556)

 

  • الاربعاء PM 07:12
    2023-02-01
  • 1013

تعلیقات

    = 6 + 1

    /500
    Powered by: GateGold