اعداد وشمار
مادہ
نماز میں اطمینان
درس کا خلاصہ
لازم ہے کہ نماز میں اطمینان اور سکون پیدا کریں۔ ارکان تعدیل کے ساتھ، اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور الفاظ سوچ سمجھ کر اپنی زبان سے نکالیں اور ادا کریں ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں اطمینان
محمد رفیق طاہر غفر اللہ لہ
سیدنا ابو ہریرہ کہتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ, ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ, فَكَبِّرْ, ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ, ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا, ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا, ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا, ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا, ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا, ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا» ([1])
’’جب تو نماز کےلیے کھڑا ہونے لگے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ کی جانب رخ کر، اور تکبیر کہہ۔ پھر جو قرآن میسر ہے، اس کی تلاوت کرو۔ پھر رکوع کر، یہاں تک کہ تو اطمینا ن سے رکوع کرلے، پھر اٹھ حتیٰ کہ تو اطمینان سے کھڑا ہوجائے ، پھر سجدہ اطمینان کے ساتھ کر اور پھر سجدے سے اٹھ، حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر اس کے بعد اگلا سجدہ اطمینان کے ساتھ کر۔ پھر اسی طرح سے ساری نماز میں کر۔‘‘
یعنی اطمینان اور سکون کے ساتھ نما زادا کرلے ۔
رفا عہکی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
«فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إلی مفاصلها» ([2])
’’تو اپنی کمر کو اٹھا، حتیٰ کہ ہڈیوں کے جوڑ اپنی اپنی جگہ پر واپس آ جائیں۔‘‘
سنن ابو داؤد اور دیگر کتابوں میں ہے:
«ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ» ([3])
’’تکبیر کہہ کر ام القران کی تلاوت کر اور اس کے بعد جو اللہ نے چاہا ۔‘‘
یہ وہ حدیث ہے جسے حدیثِ مُسِیءُ الصلاۃ کہا جاتا ہے کہ جس میں ایک صحابی نے نبیﷺ کے سامنے تین مرتبہ نما ز ادا کی اور آپ ﷺ نے تینوں بار اسے کہا:
«ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ([4])
’’جا اور جاکر نماز پڑھ، تونے نما زنہیں پڑھی۔‘‘
وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اس سے بہتر میں نما زنہیں پڑھ سکتا تو اسے رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس نما زمیں اس شخص کے اطمینان کی کمی تھی جو نبی کریم ﷺ نے اسے بار بار تلقین کی۔
اطمینان،سکون اور تعدیل ارکان کا ایک معنیٰ تو یہ ہے کہ بندہ ہر رکن میں اپنے جسم کی حرکت کو روکے اوراطمینان کے ساتھ وہ رکن ادا کرے ۔
اور ایک معنیٰ یہ بھی ہے کہ جو الفاظ جس رکن میں پڑھنےکےلیے مختص کیے گئے ہیں، وہ الفاظ اسی رکن میں اسی کی حالت میں ادا کئے جائیں ۔ایسا نہ ہو کہ آپ قیا م کی حالت ختم کردیں اور قرآن کے الفاظ آپ کی زبان پر ہوں ۔ایسے ہی «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»کہنا شروع تب کریں جب آپ رکوع کی حالت میں پہنچ جائیں اورجب تک آپ تسبیحات پوری نہیں کرلیتے، ویسے ہی رہیں۔ایک مرتبہ رکوع میں جاتے جاتے «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»کہہ دیا، ایک مرتبہ رکوع میں پہنچ کر اور ایک مرتبہ ا ٹھتے اٹھتے کہہ دیا۔یہ کام نہیں ہونا چاہیے ۔ایسے ہی سجدہ بھی اطمینان کے ساتھ ہونا چاہیے۔
___________
نماز میں اطمینان (دوسرا حصہ)
نما زمیں اطمینان کا ایک معنیٰ یہ بھی ہے کہ آپ نما ز کے جو کلمات ادا کرتے ہیں،وہ سکون سے ادا کریں۔ بھاگ دوڑ نہیں لگانی۔کیونکہ بندہ نماز میں اللہ سے اپنے راز و نیاز کی باتیں کررہا ہے تو اس کے لیے ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ سکون سے الفاظ ادا کریں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ زبان ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر چلنا شروع ہوتی ہے اور سلام پھرنے تک بغیر بریک کے چلتی رہتی ہے۔ بندہ نماز میں سانس لیتا ہے تب بھی اور جب سانس باہر نکالتا ہے تب بھی زبان سے الفاظ ادا ہورہے ہوتے ہیں۔یہ گفتگو کا کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے۔ نماز میں تو آپ اللہ رب العالمین سے ہم کلام ہیں۔ اللہ سے محو گفتگو ہیں۔ لہٰذا یہ بھی اطمینان کا معنیٰ ہے کہ نماز کے الفاظ کو اطمینان سے ادا کیا جائے ۔
علاوہ ازیں نماز کے الفاظ اور کلمات جو ادا کرنے ہیں، وہ پورے اور مکمل ادا کریں۔ ہوتا یہ ہے کہ بندہ نما زاداکررہا ہے اور اس کا دھیان ادھر ادھر چلا جاتا ہے۔نماز کے کلمات کا رٹا لگایا ہوا ہےبچپن سے، نماز زبانی یاد ہے اور ایسی پکی یا د ہے کہ دماغ جہاں مرضی پہنچ جائے، زبان نہیں لڑ کھڑاتی۔یہ چلتی رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہےکہ نماز پر توجہ کم ہوتی ہے۔
نماز میں ادھر ادھر کےخیالات کو بھگانے کےلیے ایک طریقہ کار یہ بھی اپنائیں کہ آپ غور کریں کہ میری زبان سے لفظ کون سا نکل رہا ہے، کیا نکل رہا ہے؟ اور پھر یہ دیکھیں کہ میں لفظ صحیح طور پر ادا کررہا ہوں یا نہیں۔
نماز میں اطمینان نماز کی صحت کےلیے ضروری ہے ۔ جیسے نبیﷺ نے کوئی اور بات نہیں کی، صاف بات کی ہے کہ ’’جا، جاکر نماز پڑھ، تونے نماز نہیں پڑھی۔‘‘یہ نہیں کہا کہ تونے پڑھ تو لی ہے، چونکہ، چنانچہ، نہیں! بس صاف بات کہ تونے نماز نہیں پڑھی۔وہ صحابی تھا، نبیﷺ کا شاگرد تھا، اس نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرکے دوسری مرتبہ نبیﷺ کے طریقے کے مطابق نماز پڑھی۔ پھر تیسری مرتبہ اور اچھے انداز میں نماز پڑھی۔ لیکن اس کی نما زمیں اطمینان نہیں تھا۔ آپ ﷺنے کہہ دیا:
«ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»
’’جااور جا کر نما زپڑھ، تونے نما ز نہیں پڑھی۔‘‘
ہمیں بھی اپنی نمازوں کی تھوڑ ی فکر کرنی چاہیے۔ ا س میں اطمینان اور سکون پیدا کریں۔ ارکان تعدیل کے ساتھ، اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور الفاظ سوچ سمجھ کر اپنی زبان سے نکالیں اور ادا کریں ۔
_______________________
([1]) البخاري (757)، ومسلم (397)، وأبو داود (856)، والنسائي (2/ 124)، والترمذي (303)، وابن ماجه (1060)، وأحمد (2/ 437)
([2]) أحمد (4/ 340)، وابن حبان (1787)
([4]) البخاري (793)، ومسلم (397)
-
الاربعاء PM 09:57
2023-02-01 - 1108





