اعداد وشمار
مادہ
نماز کی نیت
درس کا خلاصہ
نماز کے لیے نیت ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز کی نیت
محمد رفيق طاهر عفا الله عنه
سیدنا عمر بن الخطاب فرماتے ہیں :
«سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى»([1])
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:’’یقینا اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔‘‘
یعنی جس کی جیسی نیت ہوگی ویسا ہی اسے اجر ملے گا۔ اور نماز بھی ایک نیک عمل ہے ، اس کے لیے بھی نیت کا ہونا ضرور ی ہے، خواہ نماز فرض ہو یا نفل۔ نفل کو سنت کہہ لیں ، سنت مؤکدہ /غیر مؤکدہ کہہ لیں، رواتب کہہ لیں، جو بھی نماز ہے، اس کے لیے نیت ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں۔آپ گھر سے مسجد کس نیت سے آئے ہیں؟ نماز کے لیے!۔ یعنی آپ کا گھر سے مسجد کی طرف آنانماز کی نیت سے تھا۔ اگرچہ آپ نے زبان سے یہ نہیں کہا کہ اب میں گھر کے دروازے سے نکل رہا ہوں، پھر میں اس گلی میں مڑوں گا، پھر ادھر کو جاؤں گا، پھر آگے مسجد آئے گی اس میں داخل ہو جاؤں گا تاکہ میں نماز پڑھوں...الخ، یہ سب زبان سے کہے بغیر بھی آپ کی نماز کی نیت تھی! الغرض زبان سے کہنا نیت کے لیے ضروری نہیں! جو آپ نے دل میں ارادہ کر لیا، یہی آپ کی نیت ہے۔ اسی طرح جب آپ وضوء کرتے ہیں تو ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، ناک میں پانی چڑھاتے، ناک جھاڑتے، چہرہ دھوتےہیں، آخر تک سب کام آپ وضوء کی نیت سے کرتے ہیں، زبان سےیہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں وضوء کرنے لگا ہوں۔ ایسے ہی نماز کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے، لیکن نیت زبان کے کلمات اور الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ دل کے ارادہ کا نام ہے۔
آپ فرض نماز ادا کرنے کی نیت سے کھڑے ہوئے، فرض ادا کرنے کے ارادہ سے تکبیر تحریمہ کہی اور نماز کا آغاز کیا، آپ کے دل کا یہ ارادہ نیت کہلاتا ہے۔
کچھ لوگ نماز کے لیے زبان سے نیت کرتے ہیں ’’ چار رکعت نماز فرض ، فرض واسطے اللہ تعالى کے ، منہ طرف کعبہ شریف ، پیچھے اس امام کے، اللہ اکبر‘‘ ان بیچاروں کی نیت اکثر خراب ہو جاتی ہے!کیونکہ اگر آخری رکعت میں بھی یہ نمازی امام کے ساتھ ملا ہے تو بھی یہی نیت کرتا ہے ’’چار رکعت نماز فرض، پیچھے اس امام کے‘‘ حالانکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ ’’چار رکعت نماز فرض، ایک اس امام کے پیچھے اور تین اکیلے‘‘.... !!!۔ الغرض یہ طریقہ کار ہی غلط ہے زبان سے نیت کرنے والا۔
نماز ساری عربی زبان میں ہے، لیکن نیت کوئی پنجابی میں کرتا ہے ، کوئی سرائیکی میں، کوئی اردو میں، کوئی کسی اور زبان میں... ہر کوئی اپنی اپنی مادری زبان میں نیت کرتا ہے۔
زبان سے جو بات کہی جاتی ہے اسے نیت نہیں کہتے، بلکہ اسے ’’اقرار‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ زبان سے کہے گئے الفاظ اقرار ہیں ، نیت نہیں ! اور اقرار کرنے کی حاجت و ضرورت ہی نہیں!اور نہ ہی شریعت نے اس کا مطالبہ کیا ہے!۔ شریعت نے نیت کا مطالبہ کیا ہےکہ نماز کا آغاز کریں تو نماز کی نیت سےکہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ فرض پڑھنے ہیں، فرض کی نیت سے شروع کریں۔ سنتیں یا نوافل ادا کرنے ہیں، اس کی نیت کریں۔ یعنی دل سے ارادہ کریں، دل کے ارادہ کو نیت کہا جاتا ہے۔
________________
-
الاربعاء PM 10:18
2023-02-01 - 1287





