اعداد وشمار
مادہ
نماز میں ہاتھ باندھنا
درس کا خلاصہ
ہاتھ باندھنا لازم اور فرض ہے۔ ہاتھ چھوڑکر نما ز نہیں ہوتی۔ ہاتھ باندھیں گے اور باندھنے سینے پر ہیں ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں ہاتھ باندھنا
محمد رفیق طاہر غُفِر َلہ
نماز کے لیے سب سے پہلے تو نماز کی نیت ہے کہ بندہ کیاپڑھنےلگا ہے۔ دل کے ارادے کا نام ہی نیت ہے۔ اس کے بعد قبلہ رو ہو اور قبلہ رو ہو کر دونوں ہاتھوں کو کم از کم کندھوں تک اور زیادہ سے زیادہ کانوں کی لَو تک بلند کرے ، رفع الیدین کرے۔ ہاتھ اس کے بالکل سیدھے ہوں۔ ہتھیلی کا رُخ قبلہ کی جانب ہو، ہاتھوں کی انگلیاں نہ تکلفاً بند کریں اور نہ ہی زیادہ کھولیں او راللہ اکبر کہتے ہوئے نماز کا آغاز کرلیں ۔
سنن ابو داؤد میں طاؤسکی مرسلاً روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے اور پھر ان دونوں کو اپنے سینے پر باندھتے تھے ۔([1])
نبیﷺ اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے بائیں ہاتھ کے رسغ پر ،جس کو کلائی کہتے ہیں، اس پر اور بازو پر رکھا کرتے تھے۔([2])
بعض روایات میں ناف سے نیچے([3])اور بعض میں ناف سے اوپر ([4])کا ذکر ہے۔ لیکن ان میں سے کچھ بھی صحیح نہیں۔واضح اور صریح طور پر حدیث میں جہاں ہاتھ باندھنے کا ذکر ہوا ہے، وہ سینہ ہے([5])اور سینہ کہتے ہیں: جہاں پسلیاں آ کر جڑتی ہیں۔یہاں سے اوپر اور بغلوں سے نیچے یہ تھوڑا سا حصہ سینہ کہلاتا ہے ۔ یہ نبی ﷺ کا طریقہ کا ر تھا ۔
سہل ابن سعد ابن مالک فرماتےہیں: لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز کےدوران حالت قیام میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ذراع /بازو پر رکھیں ۔([6])
ذراع کہنی تک کے حصے کو کہتے ہیں ۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھ باندھنا لازم اور فرض ہے۔ ہاتھ چھوڑکر نما ز نہیں ہوتی۔ ہاتھ باندھیں گے اور باندھنے سینے پر ہیں ۔
_________________________
-
الاربعاء PM 10:54
2023-02-01 - 1188





