اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

دعائے استفتاح

درس کا خلاصہ

دعائے استفتاح یا نیت؟!



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

دعائے استفتاح

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا  علی ابن ابی طالب ﷜ کہتے ہیں جب نبی ﷺ نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو تکبیرتحریمہ کے بعد  یہ دعا پڑھتے:

«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ([1])

’’میں اپنے چہرے کو اس اللہ کی طرف کرتاہوں جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیاہے ، یکسو ہوکر ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، یقیناً میری نماز ، میری قربانی، میرے حج وعمرہ ، میری زندگی ، میری موت  سب اللہ  رب العالمین کے لیے  ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اورمجھے اسی کا حکم دیاگیاہے اور میں مسلمانوں میں سے  ہوں ۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق  نہیں۔ تو میرا رب ہےاور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ اپنے گناہوں کا میں اعتراف کرتاہوں۔ میرے سارے گناہ معاف کردے۔ تیرے سوا کوئی اور گناہوں کو بخشنے والانہیں ہے ۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت دے اور اچھے اخلاق کی ہدایت بھی تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے۔ برےاخلاق کو بھی تیرے علاوہ کوئی دورنہیں کرسکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری بارگاہ میں حاضر ہوکے سعادت مند ہوں ۔ ہدایت ساری کی ساری تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ شر تیری طرف سے نہیں ہے۔ تیری وجہ سے ہی میرا وجود ہے  اور تیری طرف ہی میں نے لوٹ کر جاناہے۔ تو بڑا بابرکت ہے اور  بڑابلند ہے۔ میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘

نبی ﷺ یہ دعا ثناء کے  طور پر پڑھا کرتے تھے۔اس کے بعد تعوذپڑھتے اور پھر بسم اللہ سے سورہ فاتحہ کا آغاز کرتے تھے۔

کچھ لوگوں پر جب یہ اعتراض کیاگیا کہ نماز تو ساری عربی میں ہے اور تم نیت کرتے ہو: ’’دورکعت نماز فرض یا  چار رکعت نمازفرض پیچھے اس امام کے۔‘‘  تو نیت کی جگہ پرانہوں نے قوم کو تسلی دینےکے لیے یہ کام کرنا شروع کر دیا ہےکہ«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ»  یہ نیت ہے،  حالانکہ اس حدیث میں آرہا  ہے کہ  نبی ﷺ تکبیر تحریمہ کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔

________________________

([1])           مسلم (771)

  • الخميس PM 09:53
    2023-02-02
  • 1144

تعلیقات

    = 5 + 1

    /500
    Powered by: GateGold