اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

تلاوت کا طریقہ

درس کا خلاصہ

ٹھہر ، ٹھہر کر، آیات پر وقفہ کرکے الفاظ صحیح طور پر ادا کرنا اور پھر ہر عذاب کی آیت پر اللہ سے پناہ اور رحمت والی آیت پر رحمت کا سوال کرنا، یہ نبی ﷺ کا تلاوت کا طریقہ ہے ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

تلاوت کا طریقہ

محمد رفیق طاہر عفی عنہ

ام المومنین ام سلمہ﷞ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ  قرآن کی تلاوت کیسے کرتے تھے؟ تو  فرماتی ہیں  کہ نبی کریم ﷺ کی تلاوت اس طرح ہوتی تھی کہ آپﷺ ہر ہر آیت  پر وقف کرکے، ہر آیت کو الگ  الگ کرکے پڑھتے  تھے۔ ہر آیت پر وقف کرتے تھے۔ پھر بطور مثال انہوں نے سورہ فاتحہ کی چند آیات پڑھ کر سنائی ۔فرمایا: ‹الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ› پڑھ کر وقف کرتے۔ پھر ‹الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ›پڑھتے اور وقف کرتے۔ پھر  ‹مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ›پڑھتے اور وقف کرتے۔ اسی طرح نبی ﷺ کی ساری قراءت تھی ۔([1])

سیدنا انس ابن مالک رضی اللہ  عنہ   سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے قرآن پڑھتے تھے؟ فرمایا:

«كَانَتْ مَدًّا»، ثُمَّ قَرَأَ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ»([2])

’’نبی ﷺ کی قراءت الفاظ کو لمباکھینچ کر ہوتی تھی۔ بسم اللہ کو بھی لمبا کرتے۔ الرحمن کو بھی لمبا کرتے۔ الرحیم کو بھی لمبا کرتے۔‘‘

یہ نبی ﷺ کا قرآن پڑھنےکا طریقہ کار تھا  کہ ٹھہر  ٹھہر کر، آیات پر وقف کرکے ، الفاظ کو کھینچ کر، پوراحق دے کر  قرآن کی تلاوت کیاکرتے تھے۔

نبی ﷺ جب کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو  رکتے اوراللہ کی رحمت کا سو ال کرتے  اور کوئی آیتِ عذاب تلاوت کرتے تو  وہاں رک کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے  اس عذاب سے  محفوظ رہنے کےلیے دعا کرتے ۔ ([3])

 اس طرح آپﷺ کا تلاو ت کا طریقہ کار ہوتاتھا ۔ اس حدیث کے عموم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کی مختلف آیات  پر  جیسے ‹سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى› [الأعلی: 1] پر  «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہتے، اللہ کی تسبیح بیان کرتے ۔

ان آیات کا جواب  دینا نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ لیکن اونچی آواز سےان آیات کا جواب دینا    اور ان آیات  پر اونچی  آواز سے دعا کرنا  ثابت نہیں۔ آیت رحمت پر دعا کریں  اور تسبیح بیان کریں  لیکن سراً ، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے:

‹وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ›   

’’ اپنے رب کا ذکر کر عاجزی انکساری کے ساتھ، اللہ ڈرتے ہوئے، اونچی آواز نکالے بغیر۔‘‘

[الأعراف: 205]

 اور دعا مانگنے کے لیے  بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہی اصول مقرر کیا:

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً

’’رب سے دعا کرو  خفیہ  خفیہ، چپکے چپکے اور عاجزی کے ساتھ۔‘‘

[الأعراف: 55]

نہ اونچی آواز سے دعا کرنی ہے  اور  نہ اونچی آواز سے  ذکر کرناہے ۔ ہاں جو آوازیں اونچی آواز سےکرنا ثابت ہیں، وہ  کرسکتے ہیں  ۔ جو  ذکر اونچی آواز میں کرنا ثابت ہے، وہ  کر سکتے ہیں۔ امام فاتحہ اونچی آواز میں  پڑھے گا  لیکن مقتدی اونچی آوازمیں نہیں  پڑھیں گے ۔ امام کا اونچی آواز  میں ثابت ہے  جب کہ مقتدی کا   اونچی  آواز میں  ثابت نہیں۔ لہٰذا ان کے لیے عمومی اصول ہے کہ وہ  سراًپڑھیں گے۔ امام بھی او رمقتدی بھی آمین اونچی آواز میں کہتے ہیں، کیونکہ اس کی احادیث موجود ہیں۔ ایسےہی قنوت نازلہ جب امام کرتاہے تو مقتدی اونچی آواز میں  آمین کہیں گے ۔تو جو  دعا، جو  ذکر  اونچی آواز میں ثابت ہے  وہ اونچی آواز سے کیا جائے گا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد نمازی نےجو قراءت کرنی ہے، چاہے اکیلا ہو، مقتدی ہو یا امامت کروا رہا ہو، ٹھہر ، ٹھہر کر، آیات پر وقفہ کرکے الفاظ صحیح طور پر ادا کرنا   اور پھر  ہر عذاب کی آیت پر اللہ سے پناہ اور رحمت والی آیت پر رحمت کا سوال کرنا، یہ نبی ﷺ کا تلاوت کا طریقہ ہے ۔

 

_______________________________

([1])           أبو داود (4001)، الترمذي (2927)، أحمد (26583)

([2])           البخاري (5046)

([3])           مسلم (772)

 

  • الجمعة PM 06:17
    2023-02-03
  • 926

تعلیقات

    = 1 + 7

    /500
    Powered by: GateGold