اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

اونچی آواز سے بسم اللہ پڑھنا

درس کا خلاصہ

آپﷺ جہراً بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

اونچی آواز سے بسم اللہ پڑھنا

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا انس بن مالک﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ، ابو بکر صدیق اور عمر فاروق﷞ اپنی قراءت کا آغاز ﴿اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے کرتے تھے۔  ([1])

﴿اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سورت فاتحہ کا نام ہے۔اس لیے مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ، ابو بکر اور عمر﷠قراءت کا آغاز سورت فاتحہ سے کرتے تھے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورت فاتحہ کی آیت ہے۔ اس روایت کو سمجھنے میں بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔ وہ اس روایت کا مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ الحمد للہ سے آغاز کرنے کا مطلب  یہ ہے کہ بسم اللہ اونچی آواز سے نہیں پڑھی جاتی تھی۔ لیکن یہ معنیٰ ومفہوم درست نہیں کیونکہ خود سیدنا انس بن مالک﷜ سے جب نبی کریمﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا : «كَانَتْ مَدًّا»، ثُمَّ قَرَأَ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ» ([2])

’’آپﷺ لمبا کھینچ کر ادائیگی کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور لفظ اللہ، الرحمن اور الرحیم کو لمبا کھینچ کر پڑھا۔‘‘

اس روایت سے یہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انس﷜ نے    رسول اللہﷺ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے سنا تھا، تبھی تو وہ آپﷺ کے پڑھنے کا انداز بتا رہے ہیں کہ آپﷺ الفاظ کو لمبا کھینچ کھینچ کر ادا کرتے تھے۔ اس لیے اوپر والی روایت سے یہ مفہوم اخذ کرنا کہ نبی ﷺ، ابوبکر اور عمر ﷠ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً نہیں پڑھتے تھے، غلط ہے۔

نُعَیْم مُجْمِرْ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ﷜ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ﷜ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز سے پڑھی، پھر پوری سورت فاتحہ پڑھی اور پھر اونچی آواز سے آمین کہا۔ پھر نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم» ([3])

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نماز کے اعتبار سے میں تم سب سے زیادہ  رسول اللہﷺ کے مشابہ ہوں۔‘‘

یعنی میری نماز تم سب کی نسبت نبی کریمﷺ کی نماز کے زیادہ مشابہ ہے۔ اس روایت کے مطابق ابو ہریرہ﷜ نے اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھ کر دکھائی اور انہیں بتایا کہ نبیﷺ کی نماز اسی طرح تھی۔ اس نماز میں انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو جہراً پڑھا۔تو معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ بھی بسم اللہ جہراً پڑھا کرتے تھے۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «إِذَا قَرَأْتُمْ الْفَاتِحَةَ فَاقْرَءُوا: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) ، فَإِنَّهَا إِحْدَى آيَاتِهَا» ([4])

’’جب تم فاتحہ پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھا کرو، کیونکہ بسم اللہ سورت فاتحہ کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوا

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم سورت فاتحہ کی ایک آیت ہے۔
  2. نبی کریمﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
  3. آپﷺ جہراً بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔

ہمارے برصغیر پاک وہند میں شائع  ہونے  والے قرآن مجید کے بعض نسخوں میں سورت فاتحہ  میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد گول دائرہ تو موجود ہے لیکن آیت نمبر نہیں لکھا گیا۔ جبکہ عرب ممالک میں جو قرآن مجید طبع ہوتا ہے، اس کا کوئی بھی نسخہ اٹھا کر دیکھ لیجیے، سب میں بسم اللہ کے بعد آیت نمبر ایک لکھا ہوا ہوگا۔ برصغیر پاک وہند میں شائع ہونے والے بھی کچھ نسخہ جات ایسے ہیں جن میں بسم اللہ کے بعد آیت نمبر ایک لکھا ہوا ہے۔ جبکہ زیادہ تر میں آیت نمبر نہیں لکھا ہوا۔ وہ ﴿صراط الذین أنعمت علیهم﴾ کے بعد آیت نمبر 6 لکھ دیتے ہیں اور ﴿غیر المغضوب علیهم ولا الضالین﴾ کو آیت نمبر 7 قرار دیتے ہیں۔ یہ ان کا ستم ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو سورت فاتحہ کی ایک آیت قرار دیا ہے۔ 

____________________________

([1])           البخاري (743)، ومسلم (399)، واللفظ للبخاري.

([2])           البخاري (5046)

([3])           النسائي (2/ 134)، وابن خزيمة (499)

([4])           الدارقطني مرفوعا وموقوفا (2/ 312)

  • الجمعة PM 06:56
    2023-02-03
  • 1042

تعلیقات

    = 2 + 4

    /500
    Powered by: GateGold