اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

وجوب فاتحہ

درس کا خلاصہ

سورہ فاتحہ کی تلاوت فرض اور لازم ہے۔ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

وجوب فاتحہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا عبادہ بن صامت﷜کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا» ([1])

’’اس شخص کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ اور سورہ فاتحہ سے زائد  نہیں پڑھتا۔‘‘

یعنی  سورہ فاتحہ  نماز کا رکن ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

سیدنا انس ابن مالک﷜ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ،ابو بکر، عمر اورعثمان﷢ یہ سبھی  قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتے تھے ۔ ([2])

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞کہتی ہیں کہ آپﷺ نماز کا آغاز تکبیر کے ساتھ کرتے اور قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتےتھے۔([3])

یعنی دوسری  کوئی بھی سورت یا آیات پڑھنے سے پہلے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے۔ فاتحہ کے بعد قرآن سے جو میسر آتا، وہ تلاوت کرتے۔

معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت فرض اور لازم ہے۔ اس کے بغیر  نماز مکمل نہیں  ہوتی۔ نماز پڑھنے والا امام ہے، مقتدی ہے یا  اکیلا نماز پڑھنے والا اور نماز میں امام چاہے  اونچی آواز سے قراءت کرے یا  سری  نماز پڑھے،  مقتدی کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھے ۔

نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے سوال کیا: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟» قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» ([4])

’’شاید کہ تم اپنے امام کے پیچھے  کچھ پڑھتے ہو؟ تو صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں! ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھو ۔‘‘

یعنی فاتحہ کے علاوہ  جب  امام اونچی آواز سے کچھ پڑھ رہا ہو تو فاتحہ  کے علاوہ کچھ نہ پڑھو۔  جب  امام سراً پڑھ رہا ہو تو فاتحہ بھی پڑھو  اور قراءت  بھی کرو۔ پھر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن جن نمازوں میں امام جہری تلاوت کرتا ہے،جیسے عشاء کی پہلی دو رکعتیں، مغرب کی پہلی دو رکعتیں اور فجر کی دو رکعتیں ہیں،ان میں مقتدی  سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام و منفرد و مقتدی ہر حال میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے۔ سورہ  فاتحہ کی تلاوت  لازم اور ضروری ہے۔

______________________

([1])           مسلم (394)

([2])           البخاري (743)، ومسلم (399)، أبو داود (782)، الترمذي (246)

([3])           مسلم (498)

([4])           أحمد (5/ 321 - 322)، وأبو داود (823)، والترمذي (311)، وابن حبان (1785)

  • الجمعة PM 07:02
    2023-02-03
  • 1101

تعلیقات

    = 8 + 9

    /500
    Powered by: GateGold