اعداد وشمار
مادہ
وجوب فاتحہ
درس کا خلاصہ
سورہ فاتحہ کی تلاوت فرض اور لازم ہے۔ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
وجوب فاتحہ
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا عبادہ بن صامتکہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا» ([1])
’’اس شخص کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ اور سورہ فاتحہ سے زائد نہیں پڑھتا۔‘‘
یعنی سورہ فاتحہ نماز کا رکن ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
سیدنا انس ابن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ،ابو بکر، عمر اورعثمان یہ سبھی قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتے تھے ۔ ([2])
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہکہتی ہیں کہ آپﷺ نماز کا آغاز تکبیر کے ساتھ کرتے اور قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتےتھے۔([3])
یعنی دوسری کوئی بھی سورت یا آیات پڑھنے سے پہلے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے۔ فاتحہ کے بعد قرآن سے جو میسر آتا، وہ تلاوت کرتے۔
معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت فرض اور لازم ہے۔ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔ نماز پڑھنے والا امام ہے، مقتدی ہے یا اکیلا نماز پڑھنے والا اور نماز میں امام چاہے اونچی آواز سے قراءت کرے یا سری نماز پڑھے، مقتدی کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھے ۔
نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے سوال کیا: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟» قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» ([4])
’’شاید کہ تم اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟ تو صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں! ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھو ۔‘‘
یعنی فاتحہ کے علاوہ جب امام اونچی آواز سے کچھ پڑھ رہا ہو تو فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھو۔ جب امام سراً پڑھ رہا ہو تو فاتحہ بھی پڑھو اور قراءت بھی کرو۔ پھر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن جن نمازوں میں امام جہری تلاوت کرتا ہے،جیسے عشاء کی پہلی دو رکعتیں، مغرب کی پہلی دو رکعتیں اور فجر کی دو رکعتیں ہیں،ان میں مقتدی سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام و منفرد و مقتدی ہر حال میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے۔ سورہ فاتحہ کی تلاوت لازم اور ضروری ہے۔
______________________
([2]) البخاري (743)، ومسلم (399)، أبو داود (782)، الترمذي (246)
([4]) أحمد (5/ 321 - 322)، وأبو داود (823)، والترمذي (311)، وابن حبان (1785)
-
الجمعة PM 07:02
2023-02-03 - 1101





