اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

فاتحہ خلف الامام

درس کا خلاصہ

مقتدی پر بھی فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ نہیں پڑھے گا تو اسکی نماز نہیں ہوگی!



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

فاتحہ خلف الامام

محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ

ام المومنین  سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتے تھے  ([1])

رسول اللہ ﷺ کا یہ ہمیشہ کا معمول تھا، کیونکہ جو لفظ جو انہوں نے کہے ہیں، انہیں گرامر میں ماضی استمراری کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے کیاکرتے تھے۔ یعنی تسلسل کے ساتھ ان کا یہی کا م  تھا اور نبی ﷺ نے امام بن کر بھی جماعت کروائی ہے اور اکیلے بھی  نمازپڑھی ہے اور مقتدی بن کر بھی نماز پڑھی ہے  ۔

نبی ﷺ فرماتے ہیں: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ..... ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ»

’’دو مرتبہ جبرائل امین﷤ نے بیت اللہ کے قریب میری امامت کروائی۔ پہلے دن پانچوں نمازیں اول وقت میں اور دوسرے دن پانچوں نمازیں آخر وقت میں پڑھائی اور فرمایا: ’’ان دونوں وقتوں کےدرمیان درمیان وقت ہے۔ ‘‘([2])

ایک مرتبہ آپﷺ سفر میں تھے۔ راستے میں رکے اور پڑاؤ ڈالا۔ آپ ﷺ قضائے حا جت کے لیے نکلے اور کچھ دیر ہوگئی۔ لوگوں  نے عبدالرحمن ابن عوف﷜کو امامت کےلیے آگے کھڑا کردیا۔انہوں نے امامت کروائی۔ نبی ﷺ جب تشریف لائے تو ایک رکعت گزر چکی تھی۔ نبی ﷺ نے دوسری رکعت عبد الرحمن ابن عوف ﷜ کے پیچھے ادا کی۔جو رکعت رہ گئی تھی، وہ آپ ﷺ نے بعد میں مکمل کی ۔([3])

جب آخری عمر میں آپ بیمار ہوئے تو ابو بکر صدیق﷜ کی اقتداء میں بھی آپ ﷺ نے کچھ نمازیں ادا کی ہیں ۔

مختصر یہ کہ نبی ﷺ امام بھی بنے ہیں ، مقتدی بھی بنے ہیں اور منفرد   یعنی اکیلے بھی نماز پڑھی ہے۔ ہر حال میں نبی ﷺ کامعمول ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞بیان کرتی ہیں کہ وہ قراءت کا آغاز ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے ہی کیا کرتے تھے خواہ کسی بھی حالت میں ہوتے۔

نبیﷺ فرماتے ہیں: «لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»([4])

’’جو نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہے۔‘‘

اس میں  سب کو حکم دیاگیا ہے۔ اب چاہے وہ امام ہو یا مقتدی ہو یا منفرد ہو، کسی کی بھی نماز نہیں ہوگی۔

ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام﷢ سے پوچھا: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟» قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ, فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» ([5])

’’شاید کہ تم امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: ’’جی ہاں! کرتے ہیں۔‘‘  آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم امام کے پیچھے ہو تو  سورہ فاتحہ کے علاوہ اور کچھ قراءت نہ کیاکرو۔‘‘

یعنی جب امام جہراً پڑھ رہاہو تو مقتدی صرف فاتحہ پڑھے گا اور  فاتحہ کے بعد والی سورتیں نہیں پڑھے گا، بلکہ فاتحہ پڑھ کر خاموش ہوجائے گا۔ نبیﷺ نے جہری نمازمیں بھی مقتدی کو  فاتحہ پڑھنے کا حکم دیاہے ۔

رسو ل اللہ ﷺ نے اس آدمی کو جو نماز میں جلدی اور تیزی کرنے والا تھا،  اسے کہا تھا: «ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» ([6])

’’جو قرآن تجھے میسر ہو، وہ پڑھ۔‘‘

 اس سے کچھ لوگ استدلال کرتے ہیں کہ جب امام سراً پڑھے تو پڑھو۔ نہیں تو خاموش رہو اور فاتحہ بھی نہیں پڑھنی۔ یہ بات  بالکل غلط ہے کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے جب کسی نے پوچھاکہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں اور امام جہراً قراءت کر رہا ہوتاہے تو ہم کیاکریں؟ تو آپ﷜ نے فرمایا: «اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ»([7])

’’اپنے دل میں پڑھ  لو۔‘‘

دل میں سورہ فاتحہ پڑھنی ہے ۔

_______________________

([1])           مسلم (498)

([2])           أبو داود (393)

([3])           أبو داود (149)

([4])           البخاري (756)، مسلم (394)

([5])           أحمد (5/ 321 - 322)، وأبو داود (823)، والترمذي (311)، وابن حبان (1785)

([6])           البخاري (757)، ومسلم (397)، وأبو داود (856)، والنسائي (2/ 124)، والترمذي (303)، وابن ماجه (1060)، وأحمد (2/ 437)

([7])           مسلم (395)

 

  • الجمعة PM 07:13
    2023-02-03
  • 1302

تعلیقات

    = 7 + 1

    /500
    Powered by: GateGold