اعداد وشمار
مادہ
فاتحہ کے بارے احناف کا موقف
درس کا خلاصہ
احناف میں سے بعض کے نزدیک صرف قیام فرض ہے کچھ بھی پڑھنا فرض نہیں اور بعض کے نزدیک مطلق قراءت فرض ہے خواہ فاتحہ ہو یا کچھ اور ۔ پھر مطلق قراءت میں بھی اختلاف ہے کہ کتنی ضروری ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
فاتحہ کے بارے احناف کا موقف
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»([1])
’’جو بندہ سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں۔‘‘
کسی بھی نمازی کی کوئی بھی نماز، جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے، وہ نماز نہیں۔
کچھ لوگ سورہ فاتحہ امام کے پیچھے پڑھنے سے منع کرتے ہیں جب امام اونچی آواز میں جہراً قراءت کررہا ہو۔ ان کے کچھ اعتراضات ہیں۔ بنیادی طور پر ان لوگوں کا یہ موقف ہے کہ سورہ فاتحہ نہ امام کےلیے ضروری ہے، نہ مقتدی کے لیے، نہ اکیلے آدمی کے لیے ضروری ہے، بلکہ ان کاموقف، جو فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ ‹فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ۰ۭ› [المزمل: 20]
’’قرآن میں جو میسر آئے، وہ پڑھ لو ۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ مطلق قرآن پڑھنا فرض ہے بس! اگر کوئی آدمی تکبیر کہہ کرنماز شروع کرے اور کہہ دے: ‹مُدْهَامَّتَانِ› [الرحمن: 64] اور رکوع کرلے تو کہتے ہیں کہ اس کافریضہ ادا ہوگیا اور اس کی نماز ہوگئی۔
یہ ان کا اصل موقف ہے جو علمی موقف ہے اور جو ان کی کتابوں میں درج اور مذکور ہے۔ اب یہ ’’جتنی میسر آئے قراءت ‘‘ کتنی ہے تو اس کے بارے میں کوئی کہتا ہے: ایک آیت۔ کوئی کہتا ہے: دو آیات۔ کوئی کہتا ہے: تین آیات۔ کوئی کہتا ہے: چھوٹی ہوں تو تین آیات اور بڑی ہوں تو ایک آیت کافی ہے۔ یعنی کم از کم ایک آیت ہونی چاہیے۔ اب اس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے نزدیک اگر کوئی آدمی ‹مُدْهَامَّتَانِ› [الرحمن: 64] پڑھے تو اس کی رکعت ہوجائے گی او ر اگر سورہ بقرہ کی آیت دَین یا مداینہ یعنی : ‹يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْہُ ..... الخ› [البقرۃ: 282]
یہ بہت لمبی آیت ہے۔ اس کے آخر سے دو تین لفظ چھوڑدے، باقی ساری پڑھ لے تو نماز نہیں ہوگی، کیونکہ ایک آیت مکمل نہیں ہوئی۔ یا یوں کہیں کہ آیت الکرسی ساری پڑھتا جائے اور آخر سے ‹وَھُوَالْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ›نہ پڑھے اور رکوع میں چلا جائے نماز نہیں ہوگی۔ البتہ دو لفظ پڑھ لے مُدْهَامَّتَانِ [الرحمن: 64] یا ایک دو لفظ کی کوئی اور آیت پڑھ لے تو نماز ہوجائے گی۔
یہ عجیب ساموقف ہے، حالانکہ ‹مَا تَيَسَّرَ› کےاند ر تو آیت کا ایک ٹکڑا بھی شامل ہے۔ پھر جب یہ احادیث پیش کی جاتی ہیں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : ’’جو بندہ (امام کےپیچھے ہو یا اکیلا ہو یاخود امام ہو یا کوئی بھی ہو) نماز میں فاتحہ نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں۔‘‘ تو کہتے ہیں یہ صرف امام اور منفرد کےلیے ہے ، مقتدی کے لیے نہیں ہے۔ امام اور منفرد کےلیے بھی اسے واجب کہتے ہیں، فرض نہیں۔ ان کے نزدیک فرض اور واجب کے درمیان بھی فرق ہے، حالانکہ اس میں کوئی فرق نہیں۔ قرآن حدیث کے مطابق ایک ہی کچھ ہے۔ تو اگر کوئی یہ کہے کہ «لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»سے مقتدی پر فاتحہ پڑھنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ تو امام اوراکیلےکےلیے ہے تو اسے کہیں کہ آپ کے موقف کےمطابق تو امام کے لیے بھی فاتحہ پڑھنا لازم نہیں ہے۔ وہ اگر ایک آیت پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو آپ کے موقف کے مطابق نماز ہوجاتی ہے۔ آپ کا تو حدیث سے لینا دیناہی کوئی نہیں۔ یہ اصل حقیقت اور ان لوگوں کا موقف ہے جو مقتدی کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ امام بھی فاتحہ نہ پڑھے تو کام چل جاتاہے۔ اور یہ کام وہ کرتےہیں۔ یہ ایک حقیقت تھی جو آپ کے سامنے واضح کرنا ضروری تھی ۔
نبی ﷺ کا فرمان واضح ہے اور نبی ﷺ ‹مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ› کامعنیٰ مقرر کریں کہ کم از کم سورہ فاتحہ بندہ نماز میں پڑھے، وہ قبول نہیں اور ان کے اپنے بڑے مقرر کرلیں کہ ‹مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ› سے مراد ایک آیت ہےتو اس کوقبول کرلیں۔گویا نبی ﷺ کی بات قبول نہیں اور اپنے بڑوں کی باتیں قبول ہیں ۔ یہ بہت بڑی زیاتی اور ظلم ہے۔
دوسری بات، جو اہم ترین ہے، یہ ہے کہ علمی موقف اورعوام میں جو مشہور اور معروف موقف پایاجاتا ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہو کر کچھ بھی نہیں پڑھنا چاہے۔ امام اونچی آواز سے پڑھے یا سراً پڑھے، وہ قیام کی حالت میں امام کے پیچھے اللہ اکبر کہہ کر چپ ہی رہتے ہیں حالانکہ جب ان کےعلماء سے حدیث پر بات کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب امام پڑھ رہا ہو توکچھ نہ پڑھو ۔ جب امام اونچی آواز میں پڑھ رہا ہو اور عوام کا شعور اس سے بھی گرا ہوا ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہوکر کچھ پڑھنا ہی نہیں۔ بس چپ کرکے کھڑے رہو۔ چاہے عشاء کی پہلے والی دو رکعتیں ہوں یا بعد والی دو رکعتیں ہوں۔ ظہر کی چاروں رکعتیں بس چپ کرکے کھڑے رہو۔ امام پڑھ رہا ہے، کافی ہے۔ امام تو رکوع، سجدہ بھی کر رہاہے تو پھر مقتدی رکوع سجدے میں بھی نہ پڑھے۔ نہ تشہد میں پڑھے۔ امام جو پڑھ رہا ہے !! امام کا پڑھنا مقتدی کے لیے کافی نہیں۔ مقتدی کو پڑھنا پڑے گی بلکہ سورۃ فاتحہ کو نبیﷺ نے ہی نہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی نماز قرار دیاہے کہ یہ نمازہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ .... الخ» ([2])
’’میں نے نماز کو اپنےاور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کرلیاہے۔‘‘
یہ حدیث ساری سورہ فاتحہ کے بارے ہے کہ سورہ فاتحہ کو اللہ نے نماز قرار دیاہے تو مقتدی جو پیچھے آیا وہ کیاپڑھنے آیاہے ؟ نماز! تو سورہ فاتحہ نماز ہی ہے ۔ اس لیے چاہے امام ہو، مقتدی ہو، چاہے منفرد ہو، وہ سورہ فاتحہ لازمی پڑھے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور ہر نماز ی مکمل پڑھے، اول تا آخر، پھر اس کی وہ رکعت ہوگی، وگرنہ نہیں ۔
_________________________
([1]) البخاري (756)، مسلم (394)
-
الجمعة PM 07:24
2023-02-03 - 1467





