اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

خاموشی قراءت کے منافی نہیں

درس کا خلاصہ

خاموشی اور پڑھنا دونوں جمع ہو سکتے ہیں کہ بندہ خاموش بھی رہے اور پڑھ بھی رہاہو ۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

خاموشی قراءت کے منافی نہیں

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ‹وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ› 

’’اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو   اسے  غور سے سنو تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔‘‘

[الأعراف: 204]

قرآن مجید کی تلاوت کےدوران قرآن کی تلاوت کرنا  یا کوئی بامقصد بات کرنا منع  نہیں ہے ، بلکہ یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔ اور اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین شور ڈالتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے  شور ڈالنے سے منع کیا ہے ۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول!  میرے ماں باپ آپ پر فداہوں۔ آپ تکبیرتحریمہ کہنے  کے بعد کچھ دیر خاموش رہتے ہیں۔ تو جب آپ  خاموش رہتے ہیں تو کیا پڑھتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ»([1])

’’جب میں خاموش رہتا ہوں تو پڑھتا ہوں تو مذکورہ بالا دعاء پڑھتا ہوں۔‘‘

 اس حدیث  سے ایک بات سمجھ  میں آتی ہے  کہ خاموش رہنا پڑھنے سے منع نہیں  کرتایعنی  پڑھنے کے منافی نہیں ہے۔بلکہ خاموش رہ کر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے  تو خاموش رہو۔یہ تو نہیں کہا کہ کچھ بھی نہ  پڑھو ۔ نبی ﷺ  نے تکبیر تحریمہ کے بعد خاموش رہتے  لیکن  خاموش رہ کر پڑھتےتھے۔ یعنی خاموشی اور پڑھنا دونوں جمع ہو سکتے ہیں کہ بندہ  خاموش بھی رہے اور پڑھ بھی رہاہو ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایاہے:

‹وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ›

’’اور اپنے رب کا ذکر کر دل میں ، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اونچی آواز نکالے بغیر۔‘‘

[الأعراف: 205]

یعنی دل میں بندہ پڑھے تو خاموشی کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتاہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُس آیت میں خاموش رہنےکا حکم دیاہے، پڑھنے سے منع نہیں کیا ۔

نبی کریم ﷺ  کا فرمان ہے:

«إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا» ([2])

’’جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دےرہاہو تو وہ دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھے۔‘‘ 

خطبہ جمعہ کے لیے حکم ہے کہ بندہ خاموشی اختیار کرے ([3])اور آنے  والے کو کہا جا رہا  ہے کہ امام خطبہ دے  رہا ہو تو دو رکعتیں پڑھے ۔ یعنی خاموش رہ کر پوری دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں تو خاموش رہ کر سورہ فاتحہ کیوں نہیں پڑھی جاسکتی  ؟ معلوم ہوا کہ خاموش  رہنا  پڑھنے کے مخالف نہیں ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:

«لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»([4])

’’جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں ہے ۔‘‘

کچھ لوگ کہتے ہیں: اس میں مقتدی کا ذکر نہیں کہ مقتدی سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں۔ اچھا یہی سوال اس  آیت پر بھی ہوسکتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

‹وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ›

’’اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو   اسے  غور سے سنو تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔‘‘ 

[الأعراف: 204]

 کیا یہاں پر سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم ہے؟ اگر وہاں سورہ فاتحہ مقتدی کےلیے ذکر نہیں تو یہاں سورہ فاتحہ نہ پڑھنےکا بھی ذکر نہیں  ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ عام ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی نمازی کی کوئی بھی نماز نہیں ہوگی۔ اب  وہ نماز فرض ہو، نفل ہو ، تہجد ہو، عید ہو ، وتر ہو ، جنازہ  ہو، کوئی بھی نماز ہو، ہر اس بندےکی نہیں  ہوگی  جو فاتحہ نہیں پڑھتا۔ چاہے امام ہے ، چاہے مقتدی ہے ، چاہے اکیلا  نماز پڑھنے والاہے ۔ا ب اس میں تخصیص کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ پھر اسی طرح سے جب نبی ﷺ نے یہ کہا:

«وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» ([5])

’’جب امام پڑھے  تو تم چپ رہو۔‘‘

وہاں پر بھی خاموش رہنےکا حکم ہے اور آپ سمجھ چکے ہیں کہ خاموش رہنا فاتحہ پڑھنےکو یا کچھ بھی قراءت کرنےکے  منافی نہیں ہے۔ اس کی وضاحت حدیث میں بھی ہے کہ آپ ﷺ نے  فرمایا:

«لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ, فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» ([6])

’’امام کے پیچھے نہ پڑھو سوائے  فاتحہ کے کیونکہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔‘‘

اصل میں نبیﷺ کے پیچھے کچھ لوگوں نے اونچی آواز میں قراءت کی، تو آپﷺ نے اونچی آواز سے پڑھنےسے منع کیا۔آوازنکالےبغیر پڑھنا منع نہیں کیاگیا۔ تو خاموشی اور دل میں پڑھنا، یہ دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے منافی نہیں  ہے۔

___________________________________

([1])           البخاري (744)

([2])           مسلم (875)

([3])           البخاري (934)، مسلم (851)

([4])           البخاري (756)، مسلم (394)

([5])           مسلم (404)

([6])           أحمد (5/ 321 - 322)، وأبو داود (823)، والترمذي (311)، وابن حبان (1785)

 

  • الجمعة PM 07:31
    2023-02-03
  • 1030

تعلیقات

    = 4 + 6

    /500
    Powered by: GateGold