اعداد وشمار
مادہ
‹ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ ....الخ› کا درست مفہوم
درس کا خلاصہ
اس آیت میں شور شرابا کرنے سے منع کیا گیا ہے بامقصد بات کرنے سے نہیں!
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
‹ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ ....الخ› کا درست مفہوم
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اما م کے پیچھے سورہ فاتحہ بھی نہیں پڑھنی۔اس کی ایک دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
‹ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ›
’’جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔‘‘
[الأعراف: 204]
اب یہاں اللہ تعالیٰ نے عام بات کی ہے ۔وہ کہتےہیں کہ جب امام پڑھ رہاہے تو آپ کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن یہ بالکل باطل نظریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ قرآن مجید جب پڑھا جارہا ہو تو اس وقت قرآن پڑھنا جائز اور درست ہے۔ فاتحہ سے منع کرنے والے بھی اسے جائز سمجھتے ہیں۔مساجد اور مدارس میں تمام بچےایک ساتھ پڑھ رہےہوتے ہیں۔ کوئی نہیں کہتا کہ ایک پڑھے، باقی سارے سنیں۔بلکہ جب قرآن مجید کی تلاوت کی جارہی ہو تو اس وقت قرآن کی تلاوت اونچی آواز سے بھی منع نہیں ہے ۔لیکن نماز میں مقتدی کو اونچی آواز میں کچھ بھی پڑھنا منع ہے سوائےفاتحہ کے بعد آمین کے۔
مذکورہ بالا آیت اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ پر نازل کی تھی۔ تو جن پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، وہ خود سمجھا رہے ہیں کہ امام جب اونچی آواز میں پڑھ رہا ہوتو فاتحہ کےعلاوہ نہ پڑھو۔ سوچیے کہ رسول اللہﷺ نے جو معنیٰ اور مفہوم سمجھا ہے، وہ زیادہ بہتر ہے یاجو بعد والوں نے سمجھا ہے، وہ بہتر ہے؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ کافر شور شرابہ کرتے تھے۔ ان کو ڈر تھا کہ اگر کسی نے قرآن سن لیا اور یہ بہت پرتاثیر کتاب ہے تو کہیں سن کر کوئی متاثر ہوکر اسلام قبول نہ کرلے۔اللہ نے ان کی اس سازش کا ذکر بھی قرآن مجید میں کیا ہے۔ فرمایا:
‹لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ›
’’یہ قرآن نہ سنو، بلکہ شور مچاؤ تاکہ تم غالب آجاؤ۔‘‘
[فصلت: 26]
یہ کافروں کا منصوبہ تھا ۔ اللہ نے ان کے مقابلے میں اہل ایمان کو کہا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم نے شور نہیں کرنا، آواز بند رکھنی ہے اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
یہ اس آیت کا اصل پس منظر ہے ۔
نبیﷺ نے ایک صحابی کو کہا:
«اقْرَأْ عَلَيَّ» قُلْتُ: آقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، حَتَّى بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] قَالَ: «أَمْسِكْ» ([1])
’’قرآن پڑھ۔‘‘ اس نے پڑھنا شروع کیا۔ آپ ﷺ سنتے گئے حتیٰ کہ جب وہ صحابی اس آیت پر پہنچے ‹فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚبِشَہِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ شَہِيْدًا›
’’پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔‘‘
[النساء: 41]
تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بس کر۔‘‘
اب قرآن کی تلاوت کے دوران آپ ﷺ نے اسے بس کرنے کا کہا ہے۔ اگر قرآن کی تلاوت کے دوران بامقصد بات کرنا بھی منع ہوتا تو پھر نبیﷺ اسے بس کرنے کا نہ کہتے ۔
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی قرآن کی تلاوت کررہا ہے تو اسے روک کر کوئی اور کام بھی کہا جاسکتاہے ۔
معلوم ہوا کہ ایک تو قرآن کی تلاوت کے دوران بامقصد بات کرنا اور دوسرا قرآن کی تلاوت کرنا منع نہیں ہے۔ لہٰذا سورۃ الاعراف کی اس آیت کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ فاتحہ امام کے پیچھے نہیں پڑھی جاسکتی، یہ بالکل بےبنیاد بات ہے۔
پھر ایک اور لطف کی بات ہے کہ جب امام قرآن مجید کی تلاوت کررہاہو تو لیٹ آنے والا مقتدی کیا کرے گا؟ چپ کرکے نما زمیں کھڑا ہوجائے یا اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرے گا؟ یہ تو سارے کہتے ہیں کہ وہ اللہ اکبر یعنی تکبیر تحریمہ کہے گا۔ تو یہ بھی تو بول پڑا ہے نا!
لہٰذا یہ خواہ مخواہ کی غلط تاویل ہے۔
___________________
-
الجمعة PM 07:42
2023-02-03 - 945





