اعداد وشمار
مادہ
کیا مرد گھر پہ نماز ادا کر سکتا ہے ؟
سوال
کیا مرد گھر پہ نماز ادا کر سکتا ہے ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
مردوں کو مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم ہے
وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ
سورۃ البقرۃ: 43
دور نبوی میں نماز باجماعت سے پیچھے رہنے والے کو واضح منافق خیال کیا جاتا تھا. اور مردوں کو جماعت سے لیٹ ہو جانے کے باوجود گھر میں نماز کی اجازت نہ تھی نماز باجماعت کے لیے مسجد میں آنا مسلمان مرد پہ لازم ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان کا کہوں، پھر ایک آدمی کو کہوں وہ لوگوں کو امامت کروائے، پھر ان مردوں کا پیچھا کروں (جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے) اور ان سمیت انکے گھروں کو جلا ڈالوں
صحيح البخاري: 644
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مَنْ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ
جسے یہ پسند ہو کہ کل اللہ سےمسلمان ہو کر ملاقات کرے، تو اس پہ لازم ہے کہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، یقینا اللہ تعالى نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کےطریقے مشروع کیے ہیں، اور یہ بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہے، اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز ادا کرو گے جیسے یہ پیچھے رہنے والا ادا کرتا ہے ، تو تم اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑ بیٹھو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔
مزید فرمایا:
وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ
اور بلا شبہ میں نے(رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) اپنے(مسلمان) لوگوں کاحال دیکھا کہ اس (جماعت) سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا تھا، سوائے اس منافق کے، جس کا نفاق (سب کو) معلوم ہوتا، اور یقینا (مریض) آدمی کودو آدمیوں کے سہارے (مسجد میں) لایا جاتا حتى کہ صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
صحیح مسلم: 654
البتہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسلمان مرد گھر میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»
جس نے اذان سنی اور وہ نماز ادا کرنے کے لیے نہ آیا تو اسکی نماز نہیں ہے ،سوائے عذر کے۔
سنن ابن ماجہ: 793
یعنی عذر کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنے والے مرد کی نماز مقبول ہو گی، اور بلا عذر گھر میں پڑھنے والے مرد کی نماز گویا کالعدم ہے۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی مرض الموت میں جب مسجد جانے سے عاجز آگئے تو گھر میں ہی نماز ادا کرتے رہے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو امامت کروائیں، پھر جب آپ نے طبیعت میں کچھ ہلکاپن محسوس فرمایا تو مسجد میں گئے اور بیٹھ کر امامت کروائی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ پیچھے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے تھے۔
صحيح البخاري: 664
نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ مسلمان مرد کو مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ، لیکن جب یہ ممکن نہ رہے تو گھر میں نماز ادا کی جاسکتی ہے
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الثلاثاء PM 04:09
2022-01-18 - 953





