اعداد وشمار
مادہ
مقتدی کے لیے آمین اور فاتحہ کا وقت
درس کا خلاصہ
مقتدی کو جب بھی میسر ہو فاتحہ پڑھ سکتا ہے۔ اور آمین بالجہر امام کے ولا الضالین کہنے کے بعد کہے گا۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مقتدی کےلیے آمین اور فاتحہ کا وقت
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
قرآن مجید کی تلاوت کےدوران قرآن مجید کی تلاوت کرنا ، بامقصد گفتگو کرنا منع نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہے اور نبیﷺ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد بآواز بلند آمین کہا کرتے تھے اور صحابہ کرام بھی اونچی آواز سے آمین کہتے تھے۔رسول اللہﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ جب امام ‹غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ۷ۧ› [الفاتحۃ: 7] کہے تو تم فوراً آمین کہو۔([1])
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اما م کی ‹وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ› کے فوراً بعد مقتدی نے آمین کہنا ہے۔ اب وہ آدمی جو نماز میں تاخیر سے پہنچا، مثلاً امام ‹ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ› پر پہنچاہے اور مقتدی نے آکر تکبیر تحریمہ کہی ہے۔ رسول اللہﷺ کا حکم کہ ’’جب امام ‹وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ› کہے تو تم فوراً آمین کہو‘‘، اس مقتدی کو بھی حکم ہے کہ یہ بھی ساتھ ہی بآواز بلند آمین کہے۔ امام کے ساتھ آمین کہنے میں شامل ہوجائے ، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق آگئی اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
اب یہاں ایک اور سوال اٹھتاہےکہ اس نے آمین تو امام کے ساتھ کہہ دی، اب یہ سورہ فاتحہ کب پڑھے گا؟ عام طور پر ذہن پایا جاتاہے کہ امام جب چپ کرے تو پھر جلدی جلدی سورہ فاتحہ پڑھ لے۔ اس کی بنیاد وہ روایت ہے جس میں یہ ہے کہ نبیﷺ نماز میں دو سکتے کیا کرتے تھے۔ ایک سکتہ سورہ فاتحہ کی قراءت کرنے سے پہلے، دوسرا رکوع کرنے سے پہلے۔([2]) کچھ روایا ت میں آتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قراءت کی تلاوت کے بعد اور دوسری کوئی سورت پڑھنے سے پہلے درمیان میں وقفہ ہوتا ۔([3]) لیکن یہ تمام روایا ت پایہ ثبوت کونہیں پہنچتی ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب امام تلاوت کرتاہے اور ‹اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱ۙ› کہتاہے تو اتنی دیر چپ رہے کہ مقتدی بھی ‹اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱ۙ› پوری آیت پڑھ لے۔ پھر ‹الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۲ۙ› کہے تو اتنی دیر امام چپ رہے کہ مقتدی پوری آیت پڑھ لے۔ اسی طرح ساری سورت فاتحہ میں کیا جائے کہ امام اتنی دیر تک چپ رہے کہ مقتدی پڑھ لے ۔ یہ اپنی طرف سے بنایا ہوا یک ڈھکوسلا ہے اور کچھ نہیں۔
تو پھر ایسا مقتدی جو لیٹ آیا ہے، وہ شامل ہی آمین کے بعد ہو اہے، وہ کیا کرے گا؟ اب کیا اس کے لیے بھی اما م ہر ہر آیت کے بعد رکے گا کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھ لے؟ یہ تو خواہ مخواہ کا ایک تکلف ہے جو لوگوں نے پید ا کرلیا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا امام کےپیچھے کچھ پڑھتے ہو؟ صحابہ نے جواب دیا کہ آپ کے ساتھ ساتھ ہی کھینچتے ہیں۔ فرمایا:
«فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ» ([4])
’’سورہ فاتحہ کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھو۔‘‘
اس سے دو باتیں پتہ چلتی ہیں:
ایک تو یہ کہ اما م جب تلاوت کرے تو فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھنا۔
دوسرا فاتحہ پڑھنےکا طریقہ کار پتہ چل رہا ہے کہ صحابہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ساتھ ساتھ کھینچتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتاہے مقتدی امام کے ساتھ ساتھ تلاوت کر سکتاہے۔
اسی سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ مقتدی اما م سے پہلے سورہ فاتحہ پڑھ سکتاہے۔کیونکہ امام کی اقتداء جن کاموں میں مقرر کی گئی ہے، ان میں پڑھنا نہیں ہے۔امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنی ہے۔ جبکہ تکبیراتِ انتقال یعنی ایک رکن سے دوسرے رکن میں جاتےہوئے جو تکبیرات کہی جاتی ہیں، وہ امام کے بعد ہونی چاہییں۔
سورہ فاتحہ امام کےساتھ ساتھ پڑھ لیں یا امام سےپہلےپڑھ لیں یا امام کے بعد پڑھ لیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل بنیاد یہ بنائی جاتی ہےکہ امام پڑھ رہا ہےتو ہم نے صرف سننا ہے، پڑھنا نہیں۔یہ بنیاد ہی غلط ہے۔ امام کے پڑھتے ہوئےپڑھنا منع نہیں ہے۔ صرف فاتحہ کے علاوہ قرآن کی تلاوت منع ہے۔ اس کےعلاوہ کچھ منع نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ کی فاتحہ پوری ہے، یا درمیان میں پہنچے ہیں یا ابھی آپ نے فاتحہ کا آغاز کیاہی نہیں، صرف تکبیر تحریمہ کہی یعنی اللہ اکبر کہا ،ہاتھ باندھے اور امام نے ‹وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ›کہہ دیا تو آپ فوری آمین کہیں۔ کیونکہ حکم ہے کہ جب امام ‹وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ›کہے تو اس کے متصل بعد، فوراً آمین کہیں۔ اس کے بعد آپ فاتحہ کی تلاوت شروع کریں۔ فاتحہ مکمل کریں اور امام کی قراءت سنیں ۔
__________________________
([2]) أبو داود (778)، الترمذي (251)، ابن ماجہ (844)،
([4]) القراءۃ خلف الإمام للبخاري (33)
-
الجمعة PM 09:32
2023-02-03 - 1598





