اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

قيام میں قراءت کی مقدار

درس کا خلاصہ

پانچوں فرض نمازوں میں فاتحہ کے بعد قراءت کی مسنون مقدار



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

قيام میں قراءت کی مقدار

محمد رفیق طا ہر ستر اللہ عیوبہ

سیدنا ابو سعید خدری﷜ کہتے ہیں: ’’ظہر اور عصر کی نماز میں (چونکہ امام اونچی آواز میں قراءت  نہیں کرتا تو) ہم نبی ﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے ، ہم نے اندازہ لگایا کہ نبی کریم ﷺ کی ظہر کی پہلی دو رکعتوں کا قیام سورہ سجدہ کی تلاوت کے برابر ہوتا تھا  ۔(یہ تین صفحات پر مشتمل ہے اور تیس بڑی بڑی آیات  پر  مشتمل ہے) اور ظہر کی بعد والی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا ہوتا تھا۔ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے  برابر قیام ہوتا اور عصر کی بعد والی دو رکعتو ں میں اس سے بھی آدھا قیام ہوتا۔‘‘ ([1])

اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ آپﷺ عصر کی بعد والی دو رکعتوں میں بھی قیام کرتے تھے۔عصر کے پہلے والی دو رکعتیں اور ظہر کی نماز کی بعد والی دو رکعتیں ، دونوں کا قیام برابر ہواکرتاتھا ۔

سلیمان بن یسار﷫ کہتےہیں کہ کوئی آدمی تھا جو ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا اور ظہر کی آخری دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کی نسبت چھوٹی پڑھاتا، اسی طرح عصر کی نماز بھی چھوٹی ہوتی تھی۔ مغرب میں وہ قصار مفصل کی تلاوت کرتا،  عشا ء میں اوساط مفصل کی اور فجر میں طوال مفصل کی،  تو سیدنا ابو ہریرہ﷜ نے اس آدمی کے بارے کہا: «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ» ([2])

’’میں نے کسی بندے کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز اتنی زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو۔‘‘

 یعنی اس بندےکی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بہت زیادہ مشابہ ہے۔ وہ کیا کرتا تھا؟ ظہر کی پہلی دو رکعتیں زیادہ لمبی کرتا اور عصر کی دو رکعتوں کی نسبت اس کی پہلی دو رکعتیں زیادہ لمبی ہوتی۔مغرب میں وہ قصار مفصل، عشاء میں اوساط مفصل اور فجر میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا۔

یہ اصل میں اصطلاح ہے۔ طوال مفصل کہتے ہیں: سورہ حجرات سے سورہ البروج تک جو سورتیں ہیں۔ نبیﷺ اکثر فجر میں یہ پڑھا کرتے تھے۔ سورہ بروج سے سورہ بینہ تک کو اوساط مفصل کہتے ہیں۔ان سورتوں کی تلاوت عشاء کی نماز میں اور سورہ بینہ سےسورہ الناس تک کو قصار مفصل کہتےہیں۔ان سورتوں کی اکثر تلاوت مغرب کی نماز میں ہوتی تھی۔ یہ نبی ﷺ کے قیام کی عمومی مقدار ہے کہ عام طور پرآپ ﷺ کا قیام اتنا ہوتا  تھا۔

کبھی کبھی اس سے لمباقیام بھی آپﷺ فرما لیتے تھے۔جیساکہ سیدنا جبیر ابن مطعم ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورہ طور کی تلاوت کرتے سنا ۔([3])

نبی ﷺ نےاپنی زندگی کی آخری مغرب کی جو نماز کروائی اس میں سورہ مرسلا ت کی تلاوت کی۔([4])

سیدنا ابو ہریرہ﷜کہتے ہیں کہ نبیﷺ جمعہ کےدن فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سورہ سجدہ مکمل تلاوت کرتے اور  دوسری  رکعت میں سورہ دھر  کی تلاوت کیاکرتے تھے ۔([5])

سیدنا حذیفہ﷜ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب رحمت والی کوئی آیت ہوتی تو آپﷺ رک کر رحمت کا سوال کرتے،اور کوئی عذاب والی آیت ہوتی تو پناہ پکڑتے۔([6])

یعنی نبی ﷺ قرآن مجید کی تلاوت اطمینان اور سکون سے کیا کرتے تھے ۔

سفر کےدوران ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سورہ فلق اور دوسری رکعت میں سورہ ناس کی تلاوت کی ۔ ([7])

ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نمازِ فجر کی دونوں رکعتوں میں سورہ زلزال کی تلاوت کی۔([8])

معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی سورت دونوں رکعتوں میں تلاوت ہوسکتی ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں بندہ ایک ہی سورت پڑھے تو ٹھیک ہے ۔عام طور پر فجر کی نمازمیں آپ کا قیام ساٹھ سے سو آیات ہوتا تھا۔([9]) سورہ  سجدہ اور سورہ دھر  دونوں کی تیس ، تیس آیات ہیں۔ یہ ملا کر ساٹھ آیات بن جاتی ہیں۔آپﷺ کبھی اس سے مختصر اور کبھی اس سے لمبا قیام بھی کرلیا کرتے تھے۔

ایک با ر سیدنا ابو بکر صدیق ﷜نے فجر کی جماعت کروائی اور اس میں پوری سورہ بقرہ تلاوت کردی۔ سیدنا عمر ﷜ کہنے لگے: ’’امیر المومنین! قریب تھا کہ سورج نکل آتا۔‘‘ فجر کا تھوڑا ٹائم ہو تا ہے جتنا مغرب کا ہوتاہے یعنی تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ، تو ابو بکر﷜ نے فرمایا: ’’اگر طلوع بھی ہوجاتا ہمیں غافلوں میں نہ پاتا۔‘‘([10])

 ______________________________

([1])           مسلم (452)

([2])           أبو داود (982)

([3])           البخاري (765)، ومسلم (463)

([4])           البخاري (4429)، ومسلم (462)

([5])           البخاري (891)، ومسلم (880)

([6])           مسلم (772)

([7])           أبو داود (1462)

([8])           أبو داود (816)

([9])           البخاري (547)، ومسلم (647)

([10])          مصنف ابن أبي شیبۃ (3545)

 

  • الاربعاء PM 02:57
    2023-02-08
  • 957

تعلیقات

    = 3 + 5

    /500
    Powered by: GateGold