اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

قراءتِ ظہر و عصر

درس کا خلاصہ

ظہر و عصر کی چاروں رکعتوں میں فاتحہ کے بعد قراءت کرنا مسنون ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

قراءتِ ظہر و عصر

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا ابو ہریرہ﷜ کہتے ہیں: «فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَى أُمِّ القُرْآنِ أَجْزَأَتْ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ» ([1])

’’نماز کی ہر رکعت میں  قراءت ہے (سورہ فاتحہ کے بعد نماز کی ہر رکعت میں کچھ نہ کچھ تلاوت ہے بندہ مزید بھی کچھ پڑھے، چاہے رکعت پہلی ہے یا دوسری یا تیسری ہےیا پھر چوتھی)جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سنوایا وہ ہم تمہیں سنوا دیتے ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے پوشیدہ رکھا ہم اسے تم سے پوشیدہ رکھتے ہیں  ۔(یعنی جن رکعتوں میں نبی ﷺ آہستہ پڑھا کرتے تھے ان میں ہم بھی آہستہ پڑھتے ہیں) اگر تو سورہ فاتحہ سے زیادہ نہ کرے تو تیری نماز ہوجائے گی۔ اگر تو زیادہ کرے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے ۔‘‘

 اب یہ نہیں کہ سری نمازوں میں  تلاوت نہیں ہےبلکہ نمازکی ہر رکعت میں تلاوت ہے ۔

نبی کریمﷺظہر کی  پہلی دو رکعتوں میں سورہ سجدہ کے برابر تلاوت کیا کرتے تھے اور ظہر کی بعد والی دو رکعتوں میں آدھی سورہ سجدہ  کے برابر تلاوت ہوتی تھی ۔ ([2])

اس  کے بارے  میں کہا جارہا ہے کہ کبھی کبھار ایسا ہوتا تھا کہ آپﷺ ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ۔

سیدنا ابو قتادہ ﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے تھےاور آخری دورکعتوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے اور کبھی کبھی آپﷺ ہمیں کوئی آیت سناد یتے تھے اور پہلی رکعت جتنی لمبی کرتےتھے اتنی لمبی دوسری رکعت نہیں کرتے تھے۔ ([3])

پہلی رکعت لمبی کرنے کی وجہ پوچھی گئی توابو قتادہ﷜ نے فرمایا: ہمارے خیال میں آپﷺ اس لیے ایسا کرتے تھے تاکہ زیادہ لوگ پہلی رکعت میں شامل ہوجائیں ۔([4])

اس حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور دوسری رکعتوں میں سورہ  فاتحہ۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ ظہرکی دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کچھ اور پڑھتے تھے یا نہیں؟ بعض لوگوں نے اس  حدیث سے یہ اخذ کرلیا کہ پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد پڑھنا ہے اور دوسری دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد نہیں پڑھنا۔ لیکن یہ مسئلہ اس حدیث سے نہیں  نکلتا کیونکہ یہی حدیث ابو قتادہ ﷜ سے بھی دوسرے الفاظ کے ساتھ مروی ہے،کہتے ہیں کہ نبیﷺ ظہر کی پہلی دو  رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھا کرتے تھے ، پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو چھوٹا کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں آیت سنا دیتے تھے اور پڑھا کرتے تھے فاتحہ اور دو سورتیں۔ اسی طرح  آپ ﷺ صبح کی نما ز میں اور دیگر نمازوں میں کیا کرتے  پہلی رکعت کو لمبا اور دوسری رکعت کو چھوٹا کیا کرتے تھے ۔([5])

سیدنا خباب﷜سے پو چھا گیا کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں تلاوت کیاکرتے  تھے ؟ کہتے ہیں: ہاں۔ پوچھا: آپ کو کیسے پتہ چلتاتھا کہ نبیﷺ ظہر اور عصرکی نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں؟ کہتے ہیں: (رسول اللہ ﷺ کی بڑی گھنی داڑھی تھی تو )آپﷺ کی داڑھی کی حرکت ہمیں محسوس ہوتی تھی۔([6])

اس سے اند ازہ ہوتا تھا کہ آپﷺ کا منہ ہل رہا ہے اور آپﷺ کچھ پڑھ رہے ہیں ۔

نماز ظہر ہو یا عصر اس کی چاروں رکعت میں تلاوت ہے۔ بعد والی دو رکعتوں میں بھی   نبیﷺ پڑھتے تھے کہ ظہر کی بعد والی دو رکعتیں اتنی لمبی ہوتی تھی جتنی لمبی عصر کی پہلے والی دو رکعتیں ہوتی تھی۔ یعنی آدھی سورہ سجدہ کی تلاوت کے برابر قیام ہوتا تھا۔ عصر کی بعد والی دو رکعتیں اس میں تقریباً سات، آٹھ لمبی لمبی آیات پڑھنے کے برابر قیام ہو تا تھا ۔یہ رسول اللہ ﷺ کی ظہراور عصر کی نماز میں قراءت کا ایک اندازہ ہے ۔

____________________________________

([1])           البخاري (772)، ومسلم (396)

([2])           مسلم (452)

([3])           البخاري (776)

([4])           أبو داود (800)

([5])           البخاري (759)

([6])           البخاري (746)

  • الاربعاء PM 03:15
    2023-02-08
  • 986

تعلیقات

    = 5 + 5

    /500
    Powered by: GateGold