اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

رکوع کے لیے تکبیر

درس کا خلاصہ

رکوع میں جانے کے لیے اللہ اکبر کہیں



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

رکوع کے  لیے تکبیر

محمد رفیق طاہر عفی عنہ

سیدناابو ہریرہ﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب نماز پڑھنے کےلیے کھڑےہوتے تو  تکبیر تحریمہ  کہتے۔ جب رکوع کےلیے جھکتے  تو تکبیر  کہتے۔ جب رکوع سے اپنی کمر کو اٹھاتے تو  ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے۔ جب  سجدے کے لیے جھکتے  تو تکبیر کہتے۔ جب سجدے سے سر  اٹھاتے تو  پھر تکبیر کہتے ۔ پھر اگلا سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ جب سجدے سے سر اٹھاتے  تو   تکبیر کہتے۔ یہ کام آپ ساری نماز میں کرتے تھے  اور جب آپ دو رکعتیں پڑھ کر  اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ ([1])

اس روایت میں  سیدنا ابو ہریرہ﷜نے نبی ﷺ  کے تکبیر کہنے کے مواقع  ذکر کیے ہیں  ۔ اب  وہ آدمی جو نماز میں  اس وقت شریک ہوتا ہے جب  امام رکوع کی  حالت میں ہے یا جس وقت امام  سجدےکی حالت میں ہے  تو کیاوہ ایک ہی تکبیر کہے یعنی تکبیرتحریمہ  اور رکوع میں یا سجدے میں چلا جائے  یا رکوع یاسجدے میں جانےکےلیے  الگ تکبیر کہے اور تکبیر تحریمہ الگ سے کہے؟ نبی ﷺ کے اس عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی پہلی تکبیر الگ  ہےاور رکوع میں جانے کے  لیے تکبیر الگ ہے۔لہٰذا  وہ شخص جو اس وقت شامل ہو ا جب امام رکوع کی حالت میں تھا  تو نماز کے آغاز  کےلیے تکبیر تحریمہ کہے گا اور اب امام چونکہ رکوع میں ہے اوراس نے رکوع کےلیے جھکناہے، تو فوراً وہ رکوع کے لیے تکبیر کہے اور رکوع  میں چلا جائے ۔

اور وہ نمازی جو اس وقت شامل ہوا ہے، جب امام رکوع سے  سر اٹھا چکا ہے، ایسی حالت میں شامل ہونے والا نمازی صرف تکبیر تحریمہ کہے گا اور اس سے آگے نماز شروع کردے گا۔چونکہ اس نے رکوع سے سر نہیں اٹھایا، اس لیےیہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ نہیں کہے گا  ۔ صرف تکبیر تحریمہ کہے گا ۔

______________________________

([1])           البخاري (789)، مسلم (392)

  • الاربعاء PM 03:20
    2023-02-08
  • 956

تعلیقات

    = 9 + 7

    /500
    Powered by: GateGold