اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

رکوع کا طریقہ

درس کا خلاصہ

رکوع کرنے کا مسنون طریقہ دلائل کی روشنی میں



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

رکوع کا مسنون طریقہ

محمد رفیق طاہر عُفی عنہ

سیدنا ابو حميد ساعدی ﷜ نے نماز پڑھ کر دکھائی  کہ رسول اللہ ﷺ نماز کیسےپڑھتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے ،دونوں ہاتھوں کو دونوں کندھو ں کے برابر اٹھاتے ، رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھتے۔ پھر بالکل سیدھے ہوجاتے تھے نہ اپنے سر کو کمر سے جھکاتے  نہ کمر سے اونچا کرتے بلکہ کمر کے بالکل برابرکرتے تھے۔([1])

شروع اسلام میں طریقہ کار تطبیق والا تھا۔ یعنی رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہاتھوں میں ڈالتے اور گھٹنوں کے اندررکھ لیتے تھے۔([2]) لیکن یہ حکم منسوخ ہوگیا اور حکم آیا گھٹنوں کو پکڑنے کا ،تو نبی ﷺ اپنی ہتھیلی گھٹنے پر رکھتے تھے ۔([3])

سیدنا وائل ابن حجر﷜ کہتے ہیں: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ, وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ. ([4])

’’نبیﷺجب رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو کھول دیتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنی انگلیوں کو ملالیتے۔‘‘

یعنی جب سجدے میں ہاتھ رکھیں تو انگلیاں جڑی ہوئی ہوں اور رکوع میں جب  گھٹنوں پر  ہاتھ رکھنے ہیں تو انگلیاں کھلی ہوئی ہوں  اور ہاتھوں کے ساتھ گھٹنوں کو پکڑا ہوا ہو۔

ام المومنین سیدہ  عائشہ ﷞ کہتی ہیں: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ, وَالْقِرَاءَةَ: بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ, وَلَمْ يُصَوِّبْهُ, وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ. ([5])

’’نبی کریم ﷺ نماز کاآغاز تکبیر سے کرتے اور قراءت کا آغاز سورہ فاتحہ سے کرتے اور جب رکوع کرتے تو  اپنا سر نہ نیچے گراتے نہ اوپر اٹھاتے۔رکوع کے دوران سر بالکل کمر کی سیدھ میں رکھتے ۔‘‘

سیدنا ابو مسعود انصاری ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ - يَعْنِي - صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ» ([6])

’’بندے کی وہ نماز ،نماز ہی نہیں ہوتی جس نماز میں بندہ اپنے رکوع اور سجدے میں کمر کو سیدھا نہ کرے۔‘‘

تو رکوع میں کمر بالکل سیدھی ہونی چاہیے۔کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں  تو اتنا جھکنا  اپنے لیے  کافی سمجھتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھو ں کی انگلیاں گھٹنوں پر رکھیں  اور کہنی بالکل سیدھی رکھیں۔ حدیث میں ہے کہ جس طرح کمان کا پچھلا  دھاگا ہوتا ہے  جس پر تیر کو  رکھ کر چلایا جاتا ہے، یہ صورت بن جاتی ہے۔([7]) دھڑ کمان کی گولائی کی طرح مڑا ہوا اور بازو بالکل سیدھے ،ہاتھو ں کی انگلیاں کھول کر گھٹنے پر رکھ کر ، اور  کہنی کو خم نہیں دینا۔ بازو بالکل  سیدھا  اور کمر کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دینا ہے۔ یہ اپنے آپ بالکل برابر ہو جائے گی۔ اور سر  نہ زیادہ  جھکا  ہو ا اور نہ زیادہ اوپر ، بلکہ کمر کے بالکل برابر سر  رکھنا ہے ۔ یہ نبی کریم ﷺ کے رکوع کا طریقہ کار ہے  ۔

_______________________________

([1])           أبو داود (730)

([2])           النسائي (1030)

([3])           النسائي (1031)

([4])           الحاكم (1/ 224، 227)

([5])           مسلم (498)

([6])           الترمذي (265)

([7])           الترمذي (260)

  • الاربعاء PM 03:30
    2023-02-08
  • 1819

تعلیقات

    = 1 + 9

    /500
    Powered by: GateGold