اعداد وشمار
مادہ
رکوع کی دعائیں
درس کا خلاصہ
نماز کے رکوع میں پڑھی جانے والی چند تسبیحات اور ان کی تعداد
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
رکوع کی دعائیں
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز ادا کی۔ آپﷺ نے سورہ بقرہ کی تلاوت کرنا شروع کی۔ میں نے دل میں سوچا کہ آپ ﷺ سو آیات پڑھ کر رکوع کریں گے۔ سو آیات پوری ہوئیں تو آپﷺ پڑھتے گئے۔ میں نے سوچا کہ ایک رکعت میں مکمل سورہ بقرہ کی تلاوت کریں گے، لیکن آپﷺ نے سورہ بقرہ مکمل کی اور پڑھتے گئے۔ اس کے بعد آپﷺ نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی۔ وہ مکمل پڑھی ۔ سورہ نساء کے بعد سورہ آل عمران شروع کردی۔ آپ ﷺ رک ،رک کر اطمینان کے ساتھ پڑھتے تھے۔ جب ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں اللہ کی تسبیح ہوتی ،تو آپ ﷺ تسبیح بیان کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں تعوذ ہوتا تو تعوذ کرتے۔ پھر آپﷺ نے رکوع کیا تو رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» کہنے لگے۔ آپ ﷺ کا رکوع قیام کی طرح ہی تھا۔ یعنی جتنا لمبا قیام کیا، اتنا ہی لمبا ہی رکوع کیا۔ رکوع میں مسلسل «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»، «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» بار بار کہتے رہے۔ رکوع کے بعد اٹھے تو اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر آپ ﷺ نے رکوع کیا تھا۔ آپ ﷺ اللہ کی حمد وثناء بیان کرتے رہے۔ اس کے بعد سجدے میں گئے اور آپﷺ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہتے رہے۔ آپ ﷺ کا سجدہ آپ ﷺ کے قیام کے قریب ، قریب تھا۔([1])
یعنی آپﷺ کا رکوع اور سجدہ ،آپﷺ کے قیام کے برابر تھا۔ جس طرح آپﷺ نے قیام کیا ، بالکل اسی طرح آپ ﷺ کا رکوع اور سجدہ طویل تر تھا۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہنے کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی تسبیحات طاق تعداد میں ہونی چاہییں، یہ بے بنیاد ہے ۔ سنن ابی داوؤد میں حدیث ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز جماعت کرواتے تو رکوع اور سجدے میں دس دس تسبیحات کہتے۔سیدنا انس بن مالک نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی نماز سے مشابہ نماز کسی کی نہیں دیکھی جتنی ان کی ہے۔ اور وہ رکوع اور سجودمیں دس ،دس تسبیحات کہتے تھے۔([2])
او ر دس تو جفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ سے دس تسبیحات کہنا بھی ثابت ہے۔ اور رکوع اور سجدے میں کہیں نہیں کہ طا ق پڑھو یا جفت پڑھو تین پڑھو ،یا چار پڑھو تعداد کا کوئی تعین نہیں ۔
اسی طرح ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ, اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ([3])
’’اے ہمارے رب! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ ،اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘
سورہ نصر کے نازل ہونے کے بعد یہ نبیﷺ کی اکثر دعا ہوتی تھی۔
سیدنا عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا, فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ, وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ, فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»([4])
’’مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا۔ رکوع میں اللہ کی تعظیم بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو زیادہ سے زیادہ دعا کرو قریب ہے کہ سجدے میں کی گئی تمہاری دعا قبول ہو۔‘‘
رکوع اور سجدے میں قرآنی دعا کرنا منع ہے۔قرآن میں بھی دعائیں ہیں اور قرآنی دعا بھی قرآن ہے۔ قرآنی دعا تشہد میں کرسکتے ہیں۔ رکوع اور سجدے میں اللہ کے نبی ﷺ نے کہا کہ مجھے قرآن پڑھنےسے منع کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کہیں کہ مجھے منع کیاگیا یا کہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے،تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین حکم دے رہا ہے۔تو رکوع اور سجدے میں قرآن نہیں پڑھنا۔ رکوع میں اللہ کی تعظیم بیان کریں۔ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»کہیں اور دوسری دعائیں جونبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں جیسے «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ, اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» اور اس سجدے میں جو دعا میسر آتی ہے زیادہ سے زیادہ دعا کریں۔
______________________
([1]) مسلم (772)، وأبو داود (871)، والترمذي (262)، والنسائي (1133)، وابن ماجہ (1351)
([2]) أبو داود (888)، والنسائي (1135)
([3]) البخاري (817)، ومسلم (484)
-
الاربعاء PM 07:09
2023-02-08 - 1164





