اعداد وشمار
مادہ
مقتدی کے لیے رکوع کا وقت
درس کا خلاصہ
مقتدی رکوع کے لیے کب جھکے؟
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مقتدی کے لیے رکوع کا وقت
محمد رفیق طاہر ستر اللہ ذنبہ
نماز میں ارکان کی تعدیل کا یہ معنیٰ ہے کہ ہر رکن کو بندہ پورا پورا حق دے۔ جب تک اس رکن میں مکمل طور پر داخل نہ ہو جائے اس رکن کے اذکار اور تسبیحات شروع نہ کرے۔ جب تک وہ اپنے اذکار ،تسبیحات مکمل نہ کر لے، اتنی دیر تک اس کی جو خاص حالت ہے، اسے ختم نہ کرے ۔ لہٰذا جب بندہ تکبیر کہہ کے رفع الیدین کرکے رکوع کے لیے جھکے اور رکوع کی پوری ہیئت اور کیفیت بن جائے، اس کے ہاتھ دنوں گھٹنوں پر آجائیں، انگلیاں کھلی ہوئی ہوں، بازو اس کے بالکل سیدھے ہوں،کمر بالکل سیدھی ہو اور رکوع میں اس کا سر نہ کمر سے نیچے اور نہ اوپر اور نہ سر تھوڑا سا دائیں یا بائیں مڑا ہوا، جب رکوع میں پوری کیفیت اور حالت بن جائے، پھر رکوع کی تسبیحات کہنا شروع کرے۔ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» یا کوئی اور دعا جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہو ، پڑھے۔ جب تک رکوع کی حالت اور کیفیت نہیں بنتی تب تک رکوع کی تسبیحات شروع نہیں کرنی۔یہ تعدیل ارکان کا معنیٰ ہے۔
دوسری اہم بات جو یہاں سمجھنے والی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: «إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا»([1])
’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب امام رکو ع میں چلا جائے تو تم فوری رکوع میں جاؤ۔‘‘
اور ایک روایت میں یہ لفظ بھی آتے ہیں: «وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ»([2])
’’اور تم اتنی دیر تک رکوع کےلیے نہ جھکو، جب تک امام رکوع میں نہ پہنچ جائے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے امام کی اقتداء کا جو حکم دیا ہے، اس میں رکوع کے حوالے سے دو باتیں قابل غور ہیں:
ایک یہ بات کہ جب امام رکوع میں پہنچ جائے تو تم فوراً بعد رکوع میں جاؤ۔
عربی زبان میں ایک چیز کے بعد دوسری چیز کا ذکر کرنا ہو تو دو الفاظ استعمال ہوتے ہیں: ایک ہوتا ہے ’’ف‘‘ اور دوسرا ہوتا ہے ’’ثم‘‘ ان دونو ں میں تھوڑاسا فرق ہے۔’’ثم‘‘ وقفہ ہوتا ہے کہ ایک کام ہو گیا اس کے کچھ وقفہ کے بعد دوسرا کام ہوا۔ لیکن’’ف‘‘میں کہتے ہیں: فوری۔ اس کے ساتھ جڑا ہوا۔ ایک کام جونہی آخر تک پہنچے تو دوسرا اس کے ساتھ ہی شروع ہوجائے۔ ا ب یہ کہا جارہا ہے کہ جب امام رکو ع میں چلا جائے ،رکوع والی پوری کیفیت بن جائے «فَارْكَعُوا»
یعنی جونہی امام رکوع کی پوری ہیئت بنا لے تو تم رکوع کے لیے جھکنا شروع کرو۔ امام صاحب رکوع میں پہنچ جائیں تو کھڑے نہیں رہنا۔ یہ کام غلط ہے۔ کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ مثلاً مقتدی نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی ہے۔ ابھی ‹الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ› پر پہنچا تھا کہ امام صا حب رکوع میں چلے گئے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ مقتدی اپنی سورہ فاتحہ مکمل کرنے میں لگا رہتا ہے، جبکہ حکم کیا ملا ہے؟ «وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا»
’’جب امام رکوع میں پہنچ جائے تو اس کے فوراً بعد تم بھی رکوع کرو۔‘‘
حکم کا تقاضا یہ ہے کہ امام رکوع میں کمر سیدھی کرے تو تم بھی کھڑے نہ رہو، رکوع میں چلے جاؤ۔ چاہےسورہ فاتحہ آدھی ہوئی ہے۔ رکوع میں چلے جائیں اور نماز مکمل کریں۔ جس رکعت کی سورہ فاتحہ رہ گئی، اس رکعت کو بعد میں اٹھ کر پورا کر لیں۔ کیونکہ سورہ فاتحہ جب تک پوری نہ پڑھی جائے گی، وہ رکعت نہیں ہوگی ۔
دوسری بات جو اس حوالےسے ہے، وہ یہ ہے کہ «وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ»
’’اس وقت تک رکوع نہ کرو، جب تک امام رکوع میں نہ پہنچ جائے۔‘‘
یعنی تاخیر بھی نہیں کرنی اور جلد بازی بھی نہیں کرنی ۔ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب نےرکوع کےلیے اللہ اکبر کہااور ابھی وہ رکوع کےلیے جھک رہے ہیں، رکوع میں پوری طرح سےپہنچے نہیں اور مقتدیان ِکرام پہلے ہی رکوع میں پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ کا م بھی غلط ہے۔ فرمایا: «وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ»
’’جب تک امام رکوع میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرلے، اتنی دیر تک رکوع کےلیے جھکنا نہیں ہے۔‘‘
امام کی اللہ اکبرکی آواز اور اس کے رکوع میں جانےکی حرکت جب دونوں ختم ہو جائیں تو اس کے فوراًبعد مقتدی رفع الیدین کرے اور رکوع میں تکبیرِ رکوع کہتا ہو ا جھکنا شروع کردے۔ تاخیر نہ کرے اور نہ ہی اس سے جلدی کرے ۔ دونوں باتوں کا خیال رکھے۔ یہ ہےامام کی پوری پوری اقتداء ۔
______________________________
([1]) البخاري (734)، ومسلم (417)
-
الاربعاء PM 07:48
2023-02-08 - 1012





