اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

مدرکِ رکوع، مدرکِ رکعت نہیں

درس کا خلاصہ

رکوع میں شامل ہونے والے مقتدی کی رکعت نہیں ہوتی۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

مدرکِ رکوع، مدرکِ رکعت نہیں

محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ

سیدنا ابو  موسیٰ اشعری ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ." ([1])

’’جب  امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»کہے تو تم «اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو۔ اللہ تمہاری دعا سنے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمہارے لیے وعدہ کیا ہے جس نے بھی اللہ کی حمد بیان کی،  اللہ نے اس کی دعا سن لی۔‘‘

یہاں سمع اللہ لمن حمدہ  میں شریک ہونے کی بہت اہمیت بیان کی گئی  ہے۔ جو کوئی امام کو رکوع کی حالت میں پائے، وہ کھڑا نہ رہے، بلکہ رکوع میں شامل ہو جائے تاکہ وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہنے میں شامل ہو جائے۔ لیکن اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے  کہ کوئی آدمی اگر رکوع میں شامل ہو گیا تو اس کی رکعت ہوگئی۔یہ نظریہ درست نہیں ہے۔کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

‹وَقُوْمُوْا لِله قٰنِتِيْنَ۝۲۳۸› [البقرة: 238]

’’ اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ خاموش ہوکر ، عاجزی کے ساتھ۔‘‘

لہٰذا قیام کرنا فرض ہے ۔ جو رکوع میں شامل ہوا،  اس نے قیام نہیں کیا۔ اس کا ایک فرض رہ گیا ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

«لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» ([2])

’’جس نے  سورہ فاتحہ نہیں  پڑھی، اس کی نماز نہیں۔‘‘

سورہ  فاتحہ بھی اس کی رہ گئی۔ دو  چیزیں اس کی رہ گئیں: ایک قیام اور دوسری سورہ فاتحہ  کی تلاوت۔دونوں کام نماز کے رکن ہیں،نماز کا حصہ ہیں اور فرض  ہیں۔ ان دو چیزوں کے رہ جانے سے  اس کی رکعت نہیں ہوگی۔رکوع میں شامل ہونےکا اجر و ثواب  حاصل ہو جائے گا ، لیکن  رکعت نہیں ہوگی ۔

 ایک روایت عام طور پر پیش کی جاتی  ہے:

«مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ» ([3])

’’جس نے نما ز کی رکعت پا لی، اس نے نماز پالی۔‘‘

اس سے مرادیہ ہے کہ جو آدمی امام کے ساتھ یا اکیلا  ایک رکعت پا لیتا ہے ۔یعنی:

«مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ العَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ العَصْرَ» ([4])

’’اگر سورج غروب ہونےسے پہلے ایک رکعت عصر کی یا سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت  فجر کی پڑھ لیتا ہے تو گویا اس نے عصر یا فجر کی نماز اس کے وقت میں ادا کرلی۔‘‘

اس حدیث کا یہ معنیٰ ہے۔

اسی طرح ایک روایت کےالفاظ ہیں:

«مَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى , وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى فَلْيُصَلِّ الظُّهْرَ أَرْبَعًا» ([5])

’’جس نے جمعہ کے دن آخری  رکعت کا  رکوع  پالیا، اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے۔ جس نےدوسری رکعت کا رکوع بھی نہیں پایا، وہ ظہر کی چار رکعتیں ادا کرے گا۔‘‘

اب اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آخری رکعت کا رکوع مل گیا  تو ایک اور پڑھنی ہے۔ یعنی یہ رکعت ہو گئی ۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو بات بن جاتی لیکن یہ روایت صحیح نہیں  ، ضعیف ہے۔ اس کی سند میں سلیمان ابن ابی داؤد  الحرّانی  متروک الحدیث ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ  ثقہ راویوں کی مخالفت بھی  کرتا ہے ۔ کیو نکہ  باقی ثقات ان الفاظ کےساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں:

«مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى, وَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ»([6])

’’ جو بندہ  جمعہ کی ایک رکعت پا لے وہ اس کے ساتھ دوسری  رکعت ساتھ ملا لے۔‘‘

یہ رکوع کی بات  نہیں ، رکعت کی پانےکی بات ہے۔ جو ایک رکعت پا لیتا ہے،وہ اس  کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے  تو جمعہ کو پا لے گا۔

اسی طرح ابو داؤد کی  ایک روایت ہے:

«إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ» ([7])

’’جب تم نماز پڑھنے کے لیے آؤ اور ہم سجدے  کی حالت میں ہوں، تو تم سجدہ کرو اور اس کو رکعت شمار نہ کرو۔ جس نے رکعت کو پا لیا، اس نے نماز کو پالیا۔‘‘

اب یہاں پر رکعت کا معنیٰ رکوع نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایک تو رکعت کا معنیٰ رکعت ہوتا ہے، رکوع نہیں۔ دوسری  بات یہ ہےکہ یہ روایت یحییٰ بن  ابی سلیمان کی  وجہ سے ضعیف ہے۔

 اسی طرح ایک روایت کی سنن کبریٰ بیہقی  کی  پیش کی جاتی ہے:

"إِذَا جِئْتُمْ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَارْكَعُوا، وَإِنْ كَانَ سَاجِدًا فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعْتَدُّوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الرُّكُوعُ." ([8])

’’جب تم آؤ تو رکوع کرو۔ اگر امام  سجدے کی حالت میں ہو تو سجدہ کرو ۔ اگر سجدے کے ساتھ رکوع نہ ہو تو سجدےکو تم رکعت شمار نہ کرو۔‘‘

مطلب اگر   رکوع بھی  مل جائے اور سجدہ بھی مل  جائے  تو تمہیں رکعت مل جائے گی۔یہ  روایت بھی  ضعیف ہے۔ سنن کبریٰ بیہقی  والی روایت میں   ’’رجل‘‘ مجہول  اور مبہم ہے۔اس کی  دوسری سند مصنف عبدالرزاق  میں ہے، اس میں شیخ ابن البصار نامی ایک راوی ہے۔ وہ پتہ نہیں کون ہے ؟ مجہول اور نامعلوم ہے۔ اس کی وجہ سے یہ روایت بھی پایۂ ثبوت کو  نہیں پہنچتی۔

مدرک رکوع کو مدرک رکعت ، یعنی رکوع میں شامل ہونے والے کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے رکعت پالی ہے،  اس پر کوئی ٹھوس اور پکی دلیل موجود نہیں۔ صحابہ کرام ﷢ میں سے سیدنا ابو ہریرہ ﷜ کا فرمان امام بخاری﷫ نے اپنی کتاب قراءت خلف الامام میں نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

«لَا يُجْزِئُكُ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْإِمَامَ قَائِمًا» ([9])

’’اس وقت تک رکعت نہیں ہوگی جب امام کو رکوع سے پہلے قیام کی حالت میں تم نہ پالو۔‘‘

یعنی امام کے ساتھ قیام کی حالت میں شامل ہوگے تو تمہاری رکعت ہوگی اور اگر رکوع کی حالت میں شامل ہوگے تو پھر  تمہاری رکعت نہیں ہوگی۔

 تو نبی کریم ﷺ کا فرمان: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» ([10]) ’’جس نے فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں۔‘‘  اور اللہ تعالیٰ کا حكم: ‹وَقُوْمُوْا لِلہِ قٰنِتِيْنَ۝۲۳۸› [البقرۃ: 238] ’’اور اللہ کے لیے قیام کرو۔‘‘ یہ بھی اس بات کی واضح طور پر دلیل ہیں کہ رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت نہیں ہوتی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ  رکوع میں شامل ہونا باعث اجر ہے لیکن رکعت بہرحال یہ دوبارہ پڑھنی پڑے گی۔ یہ رکعت شمار نہیں ہوگی۔

_______________________

([1])           مسلم (404)

([2])           البخاري (756)، ومسلم (394)

([3])           أبو داود (1121)

([4])           البخاري (579)، ومسلم (608)

([5])           الدارقطني (1603)

([6])           النسائي (1/ 274 - 275)، وابن ماجه (1123)، والدارقطني (2/ 12/12)

([7])           أبو داود (893)

([8])           السنن الکبری للبیہقي: 2576

([9])           القراءۃ خلف الإمام للبخاري، ص: 35، رقم: 93، ط: المکتبۃ السلفیۃ

([10])          البخاري (756)، ومسلم (394)

 

  • الاربعاء PM 07:57
    2023-02-08
  • 1585

تعلیقات

    = 5 + 8

    /500
    Powered by: GateGold