اعداد وشمار
مادہ
رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا
درس کا خلاصہ
رکوع کے بعد قومے میں ہاتھ باندھنا درست نہیں ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا
محمد رفیق طاہر اَعانہ اللہ
رکوع کے بعد قیام، جسے قومہ کہتے ہیں، اس میں کچھ لوگ ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے والے دو طرح کے دلائل سے استدلال کرتے ہیں۔ ایک تو سدل سے منع کی روایتیں ہیں اوردوسرا عمومات سے استدلال کرتے ہیں ۔
سدل عربی زبان میں کہتے ہیں: ’’الإرخاء‘‘ کسی بھی چیز کو آزادنہ طور پر لٹکا دینا سدل ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے نماز میں سدل سے منع فرمایا ہے۔([1])
اب اس حدیث سے لیتے ہیں کہ اگر ہاتھ کھلے چھوڑدیں گے تو یہ بھی سدل ہوجائے گا جو کہ نماز میں منع ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو سدل نما ز میں منع ہے، وہ ہے:
إرسال الثوب حتى يصيب الأرض. ([2])
’’کپڑے کو لٹکا نا حتیٰ کہ وہ زمین سے جالگے۔‘‘
یہ سدل منع ہے۔ اس کےعلاوہ لغوی سدل منع نہیں ہے۔ وگرنہ اگر سدل کا محض لغوی معنیٰ یعنی لٹکا دینا مراد ہو، پھر تو نماز پڑھنا ناممکن ہوجائے گا۔ جیسے اگر کسی نےقمیص پہنی ہوئی ہے، وہ بھی آگے پیچھے سے لٹک رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح پگڑی وغیرہ کو باندھتے ہیں، وہ بھی سدل ہے۔ اس کے علاوہ سر اور داڑھی کے بال بھی لغت کے اعتبار سے سدل میں آجاتے ہیں ۔ دراصل شریعت میں اس سدل سےمنع کیا گیا ہے کہ سر یا کندھوں سے کپڑےکو لٹکایا جائے حتیٰ کہ وہ زمین کو آلگے۔ یہ سدل منع ہے اور عام طور پر لوگ تکبر کااظہار کرنے کے لیے اس طرح کالباس پہنا کرتے ،لمبی بڑی چادریں اوپرلی ہوتی اور وہ چلتے اور پیچھے کپڑا گھسٹتا رہتا ۔تو اس سے شریعت اسلامیہ نے منع کیا ہے۔اسی طرح شلوار ٹخنوں سےنیچے چلی جائے، اسے بھی رسول اللہﷺ فرمایا ہے:
«وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ، فَإِنَّهَا مِنَ المَخِيلَةِ» ([3])
’’شلوار کا ٹخنے سے نیچے جانا ہی تکبر ہے اور یہ منع ہے ۔‘‘
دوسری جو روایا ت ہیں وہ عمومات ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا۔([4])
ان روایات میں یہ وضاحت نہیں کہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد۔ عام الفاظ ہیں کہ آپﷺ کھڑے ہوتے تو قیام کی حالت میں ہاتھ باندھتے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ نبی ﷺ نماز میں جب بھی کھڑے ہوتے تھے تو ہاتھ باندھتےتھے اور رکوع کے بعد بھی تو قیام ہے، لہذا ہاتھ باندھنے چاہیے۔یہ استدلال بھی درست نہیں۔
ابو قلابہ کہتے ہیں مالک بن حویرثنے ہمیں دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے نماز پڑھا کرتے تھے۔ کہتے ہیں: رکوع کے بعد سر کو اٹھایا، سمع اللہ لمن حمدہ کہا، رفع الیدین کیا تو تھوڑی دیر کے لیے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ۔ ([5])
’’انصباب‘‘ عربی زبان میں کہتے ہیں کسی چیز کے بہہ جانے کو ، یعنی جسم کو بالکل ڈھیلا ڈھالا چھوڑ دیا۔یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ رکوع کےبعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔کیونکہ اگر بندے نے ہاتھ باندھے ہوں اور وہ جسم کو ڈھیلا چھوڑے تو پھر بندھے ہوئے ہاتھ بھی کھل جاتے ہیں ۔
سیدنا ابو حمید ساعدی نے نبی کریم ﷺ کی نماز کاطریقہ کار بیان کیا کہ وہ کیسے نماز پڑھتے تھے، تو جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو تے تو اعتدال کےساتھ کھڑے ہوتے۔ اپنے ہاتھو ں کو اٹھاتے حتیٰ کہ کندھوں کے برابر ہوجاتے۔ پھر ہاتھوں کو اٹھاتے تو اللہ اکبر یعنی تکبیر تحریمہ کہتے اور نماز پڑھناشروع کردیتے۔یہ نبی ﷺ کی نماز پڑھنے کا طریقہ کار تھا ۔ نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رکوع سے اٹھتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، رفع الیدین کرتے، پھر اعتدال کے ساتھ کھڑے ہوتے۔([6])
یعنی نماز سے پہلے کھڑے ہونے کا جو طریقہ کار بیان کیا ہے، وہی رکوع کے بعد کھڑے ہونے کا طریقہ کار بیان کیا ہے۔ ایک ہی لفظ کہا ہے اور نماز سے پہلے بھی تو ہاتھ بندھے ہوئے تو نہیں ہوتے۔ اس حدیث میں بھی اشارہ ہے کہ رکوع کے بعد ہاتھو ں کو چھوڑاجائے۔
یہ خاص موقع یعنی رکوع کے بعد ہاتھوں کو چھوڑنےکی واضح دلیل ہے۔ لہٰذا عام روایات سے استدلال درست نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کا طریقہ کار نماز کےدوران رکوع کے بعد ہاتھوں کو چھوڑکر کھڑے ہونےکا ہے، ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کا نہیں ہے۔
________________________
([2]) العین للخلیل بن أحمد الفراھیدي، ج: 7، ص: 228، ط: مکتبۃ الھلال، ومعالم السنن للخطابي، ج: 1، ص: 179، ط: المطبعۃ العلمیۃ.
-
الاربعاء PM 08:23
2023-02-08 - 1786





