اعداد وشمار
مادہ
مقتدی کے لیے تسمیع کا وقت
درس کا خلاصہ
مقتدی سمع اللہ لمن حمدہ کب کہے؟
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مقتدی کے لیے تسمیع کا وقت
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
نبی ﷺ جب رکوع سے سر کو اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اس کے بعد ربنا لک الحمد کہتے۔ سیدنا انس ابن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہے تو ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہو۔([1])
«رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ»یا «رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ»یا «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ» تینوں الفاظ حدیث سے ثابت ہیں۔ ([2])اور امام بھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ اور ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہے گا اور مقتدی بھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ اور ’’ربنا ولک الحمد‘‘ کہے گا ۔ اسی طرح کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تو وہ بھی اس میں تسمیع اور تحمید دونوں کرے گا۔یہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
«إِذَا قَالَ الإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ» ([3])
کہ جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے گا تو تم ’’اللهم ربنا لک الحمد‘‘ کہو۔‘‘
یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«إِذَا قَالَ الإِمَامُ: ‹غَيْرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ› فَقُولُوا: آمِينَ» ([4])
’’جب امام ‹غَيْرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ›کہے تو تم آمین کہو۔‘‘
اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ مقتدی ‹غَيْرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ› نہ کہے۔یہ معنیٰ نہیں ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ مقتدی کی آمین امام کی’’ولالضالین‘‘ کے بعد ہو۔ بالکل یہی معنیٰ یہاں پر ہے کہ جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو مقتدی کی ’’ربنا لک الحمد‘‘امام سے پہلے یا امام کے برابر نہ ہو، بلکہ امام کے بعد ہونی چاہیے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:
«إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ , فَلْيَقُلْ مَنْ وَرَاءَهُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»([5])
’’ جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو تم بھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہو۔‘‘
یہ دونوں کلمات بھی ایک روایت میں آتے ہیں۔ جب امام کا ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنا ختم ہوجائے، اس کے فوراً بعد رکوع سے سر کو اٹھائے اور ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے۔ یعنی مقتدی کی رکوع سے سر کو اٹھانے والی حرکت اور اس کا ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنا امام کے ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہہ چکنے کے بعد شروع ہو، اس سے پہلے نہیں۔ امام کی یہ اقتداء ہے اور یہ اس کا طریقہ کار ہے ۔ اسی طرح مکبر بھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ ہی کہے گا جب رکوع سے سر کو اٹھائے گا۔ امام نے ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہا ہےتو مکبر بھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے گا تاکہ اس کو سننے والے رکوع سےسر کو اٹھالیں ۔
لیکن امام اور مکبر میں تھوڑا فرق ہے۔ وہ یہ کہ اما م کی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنےکی آواز جب ختم ہوگی، مقتدی نے پھر رکوع سے اٹھنا شروع کرنا ہے، جبکہ مکبر کی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنےکی آواز جونہی کان میں پڑے گی، وہ فوراً اٹھنا شروع کردے گا۔مکبر کےساتھ ہی وہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہہ سکتا ہے کیونکہ وہ امام نہیں۔ اقتداء والا معاملہ صرف امام کےساتھ ہے۔ مکبر جو اونچی آواز سے کہہ رہا ہے ، وہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ ہی کہے گا ۔
بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے او رمقتدی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ نہ کہے، بلکہ ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہے، اس لیے ان کے مکبربھی ’’ربنا لک الحمد‘‘ ہی کہتے ہیں، ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ نہیں کہتے۔
یہاں ایک اور سمجھنےکی بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
«وَإِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ» ([6])
’’جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے تو تم ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا ۔ ‘‘
’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنا بہت بڑے اجر اور ثواب کا باعث ہے۔ وہ لوگ جو نماز میں تاخیر سے پہنچتے ہیں، مثلاً امام رکوع میں ہے ابھی، اور وہ انتظار میں رہتے ہیں کہ امام ابھی ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے، رکوع سے سر کو اٹھائے، تو پھر ہم جماعت میں شامل ہوں، تو یہ بڑا گھاٹے کا سودا ہے۔ جب امام رکوع میں ہے ، آپ مسجد میں آگئے ہیں، صف تک پہنچ چکے ہیں تو آپ رکوع میں چلے جائیں۔ ایک تو اس لیے کہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے :
«إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَالإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الإِمَامُ» ([7])
’’جب تم مسجد میں آؤ اور امام کسی بھی حال میں ہو، تو جیسے امام کررہا ہے، ویسے کرو۔‘‘
یعنی امام رکوع کررہا ہے تو تم رکوع میں شامل ہو جاؤ ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر رکوع میں شامل نہیں ہو گا تو رکوع میں شمولیت اور ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنے کے اجر سے بھی محرومی کا شکار ہوجائے گا۔ تو یہ محرومی در محرومی ہے ۔اس لیے انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جس حال میں اما م کو پایا ہے اس کےساتھ اسی حال میں شامل ہوجائیں اور پھر جب امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہہ کےرکوع سے سر اٹھا تا ہے، چاہے آپ کے رکوع میں جھکتےہی فوراً امام ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہہ دے، کوئی بات نہیں۔ لیکن جب تک امام کی’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنےکی آوا ز ختم نہیں ہو گی، آپ نے رکوع میں رہنا ہے۔ اتنے لمحات میں آپ نے ایک مرتبہ بھی «سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ» کہہ دیا، گویا آپ نےرکوع پالیا، اور رکوع میں شامل ہونےکا اجر آپ کو مل گیا۔
_____________________________
([1]) البخاري (734)، ومسلم (417)
([2]) البخاري (789)، (796)، (734)
([3]) البخاري (796)، ومسلم (409)
-
الاربعاء PM 08:38
2023-02-08 - 1686





