اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سجدے کے اعضاء

درس کا خلاصہ

دونوں ہاتھ، اور دو گھٹنے اور دونوں پاؤں کے کنارے اور ماتھا سجدے کے وقت نیچے لگنا چاہیے



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

سجدے کے اعضاء

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا عبداللہ ابن عباس﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ, وَالرُّكْبَتَيْنِ, وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ» ([1])

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں درج ذیل سات ہڈیوں پر سجدہ کروں: دونوں ہاتھ، اور دو گھٹنے اور دونوں پاؤں کے کنارے اور ماتھا۔‘‘ اپنےہاتھ سے اپنے ناک کی طرف اشارہ کیا۔‘‘

 نام ماتھے کا لیا اور اور اشارہ ناک کی طرف کیا، اس لیے کہ یہ ساری ایک ہڈی ہے ماتھے کی اور ناک کی۔یعنی: ماتھا اور ناک ایک، اور دونوں پاؤں کے اطراف تین، دو گھٹنے پانچ اور دونوں ہتھیلیاں  سات، یہ سات اعضاء مجھے زمین پر لگانے کا اور اس کے اوپر وزن دے کر سجدہ کرنے کا  حکم دیا گیا ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ یہ کہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ جب صحابہ کرام ﷢ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیاگیا تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکم دینے والے نبی کریم ﷺ ہیں۔

اب یہاں نبی ﷺ نے فرمایا ہے: دونوں ہاتھ، اور پاؤں کے بارے میں  کہا ہے: دونوں پاؤں کے اطراف یعنی پاؤں پورا زمین پر نہیں لگانا سجدے میں، جبکہ ہاتھوں  کے بار ے میں یہ نہیں کہا کہ ہاتھوں کے اطراف ، بلکہ کہا گیا ہے: "دونوں ہاتھ"۔ عام طور  پرلوگ ہاتھ کو خم دار کرکے رکھتے ہیں تو پھر ہاتھوں کےکنارے زمین پر نہیں  لگتے  ہیں۔ پورا ہاتھ تب لگے گا جب ہاتھ کھول کر زمین پر رکھیں گے۔ پاؤں کے اطراف ہیں، لیکن ہاتھ پورا ہے ۔ اسی طرح نبی ﷺ نے کہا: ماتھا، اور ناک کی طرف اشارہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ممکن کوشش کریں کہ ماتھا اور ناک زمین پر لگے۔  کچھ لوگ سجد ے میں جاتے ہیں اور صرف ماتھا لگاتے ہیں۔ ناک کبھی ہلکا  سا  ٹچ کردیا یا پھر دو سیکنڈ کےلیے لگا کر اوپر کر لیا،یہ کام نہیں کرنا۔سجدہ ایک خاص ہیئت اور کیفیت اورحالت کا نام ہے جس میں ساتوں  اعضاء زمین پر لگے ہوں ۔ ناک اور ماتھا بھی، دونوں ہاتھ بھی اور پاؤں کے اطراف بھی اور دونوں گھٹنے بھی۔یہ ساتوں اعضاء نیچے زمین پر لگے ہوں۔یہ اللہ کا اپنے نبی محمدﷺکو حکم ہے۔اگر  ان میں سے کچھ لگا ہو اور کچھ نیچے نہ لگا ہو، یعنی کچھ اعضاء پر سجدہ نہ ہو  تو شرعی سجدہ نہیں ہے۔ ہاں! کبھی ضرورت یا مجبوری کے تحت اٹھانا پڑ جاتا ہے، یا کبھی  پاؤں زمین پر نہیں لگ سکتا کسی عذرکی وجہ سے، تو وہ ایک عذر ہے۔لیکن کوئی آدمی سجدےمیں جائے اور  بلاعذر پیچھے سے  پاؤں اپنے اٹھالے دونوں یا ایک  ، یا پھر سجدے میں جائے  اور ہاتھ نہ رکھے کہ کبھی داڑھی کو خارش کر رہا ہے، اورکبھی کچھ، تو یہ سجدہ نہیں۔ سجدہ تب بنے گا جب اللہ کے حکم کے مطابق ہوگا، اور وہ تب ہوگا جب دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں اور ماتھا اور ناک لگیں۔ تب مکمل سجدہ ہوگا ۔

_______________________

([1])           البخاري (812)، ومسلم (490) (230)

 

  • الاربعاء PM 09:01
    2023-02-08
  • 923

تعلیقات

    = 3 + 3

    /500
    Powered by: GateGold