اعداد وشمار
مادہ
سجدے میں پاؤں کی کیفیت
درس کا خلاصہ
سجدے میں پاؤں کی ایڑیاں جڑی ہوئی اور انگلیوں کا رخ قبلے کی جانب اور دونوں پاؤں کھڑے ہوں۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
سجدے میں پاؤں کی کیفیت
محمد رفیق طاہر عفی عنہ
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو تلاش کیا۔ آپﷺ اندھیرے میں تہجد پڑھ رہے تھے۔ چونکہ نظر نہیں آ رہے تھے، اس لیے میں نے ٹٹولا ۔ میرا ہاتھ آ پ کے دونوں پاؤں پر لگا۔ آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ سجدے میں دعا کررہے تھے:
«اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ([1])
’’اے اللہ! تیرے غصے اور تیری ناراضگی سے بچنے کے لیے میں تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری عافیت کی پناہ چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے عذاب سےاور تیری گرفت سے بچنے کےلیے میں تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔ میں ویسے تیری ثناءنہیں بیان کر سکتا، نہیں شمار کرسکتا جیسے تو نےاپنی ثناء خود بیان کی ہے۔‘‘
سنن کبریٰ بیہقی اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپﷺ میرے ساتھ بستر پر سو رہے تھے۔ جب آنکھ کھلنے پر انہیں موجود نہ پایا تو میں نے تلاش کیا:
«فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ، مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ»([2])
’’میں نے آپﷺ کو سجدے کی حالت میں پایا۔آپ ﷺ کے دونوں پاؤں کی ایڑیاں خوب اچھی طرح سے ملی ہوئی تھیں اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رُخ تھے۔‘‘
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے نبی ﷺ کے دونوں پاؤں کی حالت اور کیفیت بیان کی کہ سجدے میں آپ ﷺ کےدونوں پاؤں کھڑے تھے اور پاؤں کی ایڑیاں آپس میں ملی ہوئی تھی اور آپﷺ نے اپنے پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی جانب کر رکھاتھا۔
سیدنا ابو حمید ساعدی نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کاطریقہ کا ر بیان کیا تو فرمایا: جب آپﷺ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھو ں کو زمین پر رکھتے۔ نہ تو آپ ﷺ اپنے دونوں بازوؤں کو زمین پر پھیلاتے تھے اور نہ ہی انہیں اپنےجسم کے ساتھ جوڑتے تھے۔بلکہ بازوؤں کو جسم سے الگ کرکے زمین سے اٹھاکر رکھتے تھے اور فرماتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی جانب کرتے تھے۔([3])
رسو ل اللہ ﷺ کے پاؤں کی کیفیت اور حالت سجدے میں یہ ہے کہ دونوں پاؤں سیدھے کھڑے ہوں، پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی جانب ہو اور دونوں پاؤں کی ایڑیاں آپس میں ملی ہو ئی ہوں۔
کئی لوگوں کی نماز کی نیت دائیں پاؤں کے انگوٹھےکےنیچے ہوتی ہے۔ شاید آپ نےبھی سنا ہو۔ کچھ لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ بس نماز میں دائیں پاؤں کا انگوٹھا جہاں ہے، وہاں سے ہلنا نہیں چاہیے۔کیوں؟ اس لیے کہ اس کے نیچے نیت ہوتی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ پاؤں تھوڑا سا دائیں بائیں اگر ضرورت کے تحت کرنا پڑگیا، مثلاً: اگر کسی نمازی کا وضو ٹوٹ گیا، وہ وضو کرنے کے لیے چلا گیا، اب دوسرے نمازی آپس میں مل کراس کی جگہ پُرکریں۔اگر اگلی صف میں جگہ بچ گئی ہے تو صف پوری کرنےکے لیے پچھلی صف سے نمازی نکل کر آگے آجائے گا۔
ضرورت کی وجہ سے ہلنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ، ایسےہی جب سجدے میں دونوں پاؤں کو جوڑناہے، دونوں پاؤں کی ایڑیاں ملانی ہیں اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلےکی جانب رکھنا ہے تو اس کے لیے دونوں پاؤں کو اٹھا کر درمیان میں رکھنا پڑے گا۔ اس طرح پاؤں کے ہلنے کے ساتھ نماز کی نیت ٹوٹنے کا کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ آپ ﷺ کی سنت اور طریقہ کار ہے۔
______________________
([2]) السنن الکبری للبیھقي (2719)، ابن حبان (1933)
-
الاربعاء PM 09:12
2023-02-08 - 1192





