اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

جلسہء استراحت

درس کا خلاصہ

پہلی رکعت کے دو سجدوں کے بعد دوسری رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے لمحہ بھر بیٹھیں، یہ سنت ہے، اسے جلسہء استراحت کہتے ہیں۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

جلسہء استراحت

محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ

سیدنا مالک ابن الحویرث ﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تھے تو اس وقت تک اٹھتے نہیں تھے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے ۔([1])

 دو سجدے کرنے کے بعد یا تو بندے نے تشہد بیٹھنا ہوتاہے یا اگلی رکعت کے لیے اٹھنا ہوتا ہے، تو جب دو رکعتوں کے بعد تشہد نہیں اور اگلی رکعت کے لیے اٹھناہے تو سجدہ کرتے ہی سیدھے کھڑے نہیں ہوجاتے تھے ، بلکہ سجدہ کرنے کے بعد اٹھتے اور سیدھے ہوکر بیٹھتے۔ بیٹھنے کے بعد پھر کھڑے ہو جاتے ۔ اس بیٹھنے کو علماء کی زبان میں ’’جلسۂ استراحت‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں کچھ نہیں پڑھنا۔ بس بیٹھ کر کھڑے ہوجاناہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ  کا طریقہ کار ہے اورنبی کریم ﷺ کافرمان ہے:

«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ([2])

’’ویسے  نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو ۔ ‘‘

جلدبازی میں  لوگوں نے جلسہ استراحت تقریباً  بھلا دیاہے۔ سجدے کے بعد فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی بیٹھتا ہے تو تسلی کے ساتھ بیٹھتا نہیں ہے۔ جبکہ مالک ابن الحویرث﷜ فرما رہے ہیں کہ نبی ﷺ اطمینان سے بیٹھتے۔ کچھ امام ایسا کرتے ہیں کہ سجدے سے اٹھے  چپ کرکے، تکبیر نہیں  کہتے ، اٹھ کے بیٹھے، جلسہ استراحت کیا اور پھر جلسہ استراحت سے اٹھتے ہوئے  اللہ اکبر  کہا  ۔ یہ طریقہ بھی نبیﷺ کےطریقے کے خلاف ہے ۔

سیدنا عمران بن حصین﷜ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ  جب اپنا سر سجدے سے اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔ ([3])

اس لیے امام ہو، مقتدی ہو، منفرد ہو، سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہنا ہے ۔ امام بھی ایسا ہی کر ے۔امام کی آواز ختم ہوگی تو مقتدی سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے  اللہ اکبر  کہے۔ ان کے اٹھتے اٹھتے امام کا جلسہ استراحت ختم ہو جائے گا۔ مقتدی جب اٹھیں گے توامام کو بیٹھتا ہوا پائیں گے۔ پھر جونہی مقتدی بیٹھیں گے امام کھڑا ہونا شروع ہوجائےگا۔ امام کےسیدھا کھڑے ہونے تک مقتدی بیٹھے رہیں گے کیونکہ نبی ﷺ کے پیچھے صحابہ کرام ﷢ نے جو اقتداء کا طریقہ کار اختیارکیا، وہ آپﷺ نے برقرار رکھا۔ وہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوتےتھے۔ جب تک نبی ﷺ کا ماتھا زمین پر نہیں لگتا تھا ، صحابہ کرام   جھکنا شروع نہیں کرتے تھے۔ ([4]) ایسے ہی سجدوں کے بعد جب کھڑے ہوتے، اس وقت تک ان میں سے کوئی آدمی  سجدے سے سر نہیں اٹھاتاتھا، جب تک آپﷺ  قیا م میں اپنی کمر سیدھی نہ کرلیتے۔ امام بالکل سیدھا کھڑا ہوجائے  تو مقتدی اٹھنا شروع کریں۔یہ جلسہ استراحت کا دو سیکنڈ کا وقت ہے۔ یہ نبی ﷺ کی سنت اور طریقہ کار ہے کہ دو سجدوں کے بعد اٹھنا ہے تو سیدھے ہو کر بیٹھ کر جلسہ استراحت کرکے کھڑے ہونا ہے ۔

________________________

([1])           البخاري (823)

([2])           البخاري (631)

([3])           النسائي (1082)

([4])           البخاري (811)

  • الاربعاء PM 09:54
    2023-02-08
  • 1377

تعلیقات

    = 7 + 2

    /500
    Powered by: GateGold