اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

دوسری رکعت

درس کا خلاصہ

نماز کی پہلی رکعت کے سوا کسی بھی رکعت میں دعائے استفتاح نہیں باقی رکعات کا آغاز تعوذ سے ہوگا جس کے بعد فاتحہ اور مزید قرآن پڑھا جائے گا۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

دوسری  رکعت

محمد رفیق طاہر شکر اللہ سعیہ

پہلی رکعت مکمل کرنے کے بعد ، جلسہ استراحت سے اٹھ کر دوسری  رکعت کا آغاز سورہ فاتحہ کی تلاوت سےکرنا ہے۔ پہلی رکعت میں دعائے استفتاح ہے:

«اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ» ([1])

یا:

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ, تَبَارَكَ اسْمُكَ, وَتَعَالَى جَدُّكَ, وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ([2])

یا کوئی اور دعا  استفتاح جو نبی کریم ﷺ  پڑھا کرتے تھے۔یہ دوسری رکعت میں نہیں ہے۔  صرف اس وقت ہے جب نماز کا آغاز کرنا ہے۔ اگر کوئی نمازی،نماز میں شامل ہوا اور اس وقت امام صاحب رکوع جانے کے قریب تھے،جہری نما ز میں چونکہ اندازہ ہوجاتا ہے جیسے اگر امام صاحب کسی چھوٹی سورت  کی تلاوت کر رہے ہیں تو مقتدی کو چاہیے کہ سورہ فاتحہ پڑھے  تاکہ اس کی رکعت ہو جائے کیونکہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ۔ایسی حالت میں دعائے استفتاح پہلی رکعت میں بھی نہیں پڑھی جائے گی، کیونکہ یہ فرض نہیں ہے۔قیام میں فرض صرف اور صرف سورہ فاتحہ ہے:

«لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»([3])

’’ اس شخص کی نماز نہیں جو سورہ  فاتحہ نہیں پڑھتا۔‘‘

دوسری رکعت کا آغاز ہی سورہ فاتحہ سے کرنا ہے۔ سورہ فاتحہ قرآن مجید ہے اور  اللہ تعالیٰ نے تو اس کو قرآن عظیم قرار دیا ہے:

‹وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ۝۸۷› [الحجر: 87]

’’ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھے جانے والی  اور قرآن عظیم  عطا کیاہے۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا:

«الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي، وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ» ([4])

’’سورہ فاتحہ ہی سبع مثانی ہے اوریہی قرآن عظیم ہے۔‘‘

تو قرآن مجید کی تلاوت کے لیے  اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اصول اور قاعدہ ذکر کیا ہے:

‹فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۝۹۸› [النحل: 98]

’’جب بھی آپ قرآن کی تلاوت کرنے لگیں تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ آپ کو شیطان مردود کے شر سے بچائے۔‘‘

لہٰذا نماز کی ہر رکعت کے  آغاز میں  سورہ فاتحہ  سے پہلے تعوذ پڑھ لیں۔یہ پڑھنا اللہ رب  العالمین کا حکم ہے  اور مستحب ہے، فرض نہیں۔ کیونکہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی  گفتگو کے  دوران قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز کیا اور ’’اعوذ باللہ‘‘ نہیں پڑھی۔ اس سے  معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم فرضیت کے لیے نہیں۔البتہ  افضل اور مستحب یہی ہے کہ نماز کی ہر رکعت کا آغاز  ، چاہے پہلی ہو ، دوسری  ہو یا تیسری، چوتھی ، پانچویں ، چھٹی ، ساتویں،آٹھویں  ، نویں ہو، سورہ فاتحہ کا آغاز کرنے سے پہلے تعوذ پڑھ لیا جائے۔ اگر کوئی بندہ نہ بھی پڑھے تو بہرحال نماز اس کی ہو جائے گی۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں سورہ فاتحہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ سورہ فاتحہ کی پہلی آیت ہے ۔دوسری رکعت کے لیے جب اٹھتے ہیں تو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرتے ہیں۔ اگر کوئی ’’الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔سے ۔۔۔ولا الضالین‘‘ تک پڑھے، اس کی رکعت نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔ فاتحہ کا کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے ۔ فاتحۃ الکتاب ’’بسم اللہ‘‘ سے شروع ہوکر ’’ولا الضالین‘‘ پر ختم ہوتی ہے۔ حکم ہے کہ جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں۔ سورہ فاتحہ کا بعض حصہ پڑھ لے اور بسم اللہ چھوڑدے   یا آخری آیت چھوڑدے یا آخری آیت سے ایک دو لفظ چھوڑ دے، کبھی  بھی سورہ فاتحہ نہیں بنے گی۔وہ تب بنے گی جب ’’بسم اللہ‘‘ سے آغاز کرکے ’’ولا الضالین‘‘ تک پڑھیں گے۔ وگرنہ وہ فاتحہ نہیں، بلکہ فاتحہ کا کچھ حصہ ہے۔ تو قیام میں پوری فاتحہ پڑھیں، اس میں کوئی اور سورت ملائیں اور اس کے بعد رکوع اور دو سجدے کرکے رکعت مکمل کریں۔ ام المومنین سیدہ  عائشہ صدیقہ﷞ کہ نبی کریم ﷺ ہر دو رکعتوں میں التحیات  بیٹھتے تھے۔ اپنا بایاں پاؤں پھیلا کراس  پر بیٹھتے او ر دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے تھے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع کرتے تھے۔ ([5])

بندہ دونوں پاؤں کھڑے کرکے دونوں پاؤں کی ایڑیوں پر بیٹھے  اور ہاتھ زمین پر رکھے، یہ عقبۃ الشیطان ہے  جس سے نبی کریم ﷺ نے منع کیا ہے کہ نماز میں اس طرح نہیں بیٹھنا۔ دوسری رکعت بالکل پہلی رکعت کی طرح ہی ہے۔ کوئی فرق نہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ پہلی رکعت میں ثنا ء ہے، دعائے استفتاح  ہے۔ باقی سارا کچھ پہلی رکعت کی طرح ہی ہے ۔ہاں  نبی کریم ﷺ فرض نمازوں میں تھوڑا اور  فرق بھی کرتے تھے، وہ یہ کہ آپ ﷺ پہلی رکعت کو دوسری رکعت کی بہ نسبت لمبا کرتے ([6])تاکہ زیادہ لوگ پہلی رکعت میں شامل ہو جائیں۔ باقی طریقہ کار ایک سا ہی ہے۔

 ______________________

 

([1])           البخاري (744)

([2])           أبو داود (775)، والنسائي (2/ 132)، والترمذي (242)، وابن ماجه (804)، وأحمد (3/ 50)

([3])           البخاري (756)، مسلم (394)

([4])           البخاري (4474)

([5])           مسلم (498)

([6])           مسلم (454)

 

  • الاربعاء PM 10:03
    2023-02-08
  • 913

تعلیقات

    = 7 + 6

    /500
    Powered by: GateGold