اعداد وشمار
مادہ
قعدہ وسطیٰ (درمیان والا تشہد)
درس کا خلاصہ
درمیان والے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
قعدہ وسطیٰ (درمیان والا تشہد)
محمد رفیق طاہر عفی عنہ
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نبی کریم ﷺ کی نماز کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
«وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ» ([1])
’’ رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے۔ اپنا بایاں پاؤں پھیلاتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع کرتے تھے۔‘‘
دونوں پاؤں کو کھڑا کرکے ایڑیوں پر بیٹھنے کو شیطان کی طرح بیٹھنا کہتے ہیں۔دو سجدوں کے درمیان دونوں پاؤں کھڑے کرکے بیٹھنا اور ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ اسے اقعاء کہتے ہیں۔ اقعاء اور عقبة الشیطان میں یہ فرق ہے کہ اقعاء میں ہاتھ گھٹنے پر رکھتے ہیں اور عقبة الشیطان میں ہاتھ سائیڈوں پر رکھتے ہیں ۔
سیدنا عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں:
«أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ» ([2])
’’نبی ﷺ جب تشہد کےلیے بیٹھتے تھے تو بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن (53)کی گرہ بناتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے ۔‘‘
عربی زبان میں اشاروں کی گنتی ایک سے لے کر ننانوے تک دائیں ہاتھ پر کی جا سکتی ہیں ۔ترپن بنتاہے پہلی تین انگلیوں کو بند کیا جائے اور انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کی جڑ میں رکھاجائے۔ یہ ہے تریپن کی گرہ جو نبی ﷺ لگاتے تھے۔
سیدنا وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ پھر انہوں نے نماز کا طریقہ بیان کیا۔اس میں یہ بھی بتایا کہ جب نبی ﷺ دو رکعتوں میں بیٹھتے یعنی درمیانے تشہد میں تو بایاں پاؤں لٹا دیتے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے۔ دایاں ہاتھ ، دائیں ران پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کی انگلی کو کھڑا کرتے دعا کے لیے ، اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے ۔ ([3])
سیدنا عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں:
«مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ الْقَدَمَ الْيُمْنَى، وَاسْتِقْبَالُهُ بِأَصَابِعِهَا الْقِبْلَةَ وَالْجُلُوسُ عَلَى الْيُسْرَى» ([4])
’’سنت یہ ہے کہ آپ دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور اس کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف کریں اور بائیں پر بیٹھیں۔‘‘
جب صحابہ کرام کہتے ہیں کہ یہ کام کرنا سنت ہے تو اس سے نبی کریم ﷺ کی سنت مراد ہوتی ہے۔
نبی ﷺ کا ایک دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تینو ں انگلیوں کو بند کیا اور انگوٹھے کو درمیانی انگلی میں رکھا۔ ([5])
یہ اشارہ کرنے کا دوسرا طریقہ ہے ۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نےدونوں انگلیوں کو بند کیا اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا دائرہ بنایا اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا ۔ ([6])
تو ہاتھ رکھنے کی یہ تین کیفیات ہیں ۔
سیدنا وائل ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ شہادت والی انگلی کو حرکت دیتے تھے اور اس کے ساتھ دعا کرتے تھے ۔([7])
انگلی کو آخری دعاء تک، یعنی سلام پھیرنے تک حرکت دی جائے ۔ کچھ لوگ صرف ’’أشهد أن لا إله إلا الله‘‘ پر انگلی کو حرکت دیتے ہیں جو کہ درست نہیں ۔ سارے تشہد میں انگلی کو حرکت دینی ہے ۔
_____________________________
-
الاربعاء PM 10:11
2023-02-08 - 1049





