اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) میں درود

درس کا خلاصہ

پہلے تشہد میں درود پڑھنا بھی واجب ہے اور دعاء مانگنا بھی فرض ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں   اس موضوع پہ تفصیلی دلائل کے لیے یہ مضمون پڑھیں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) میں درود

محمد رفیق طاہر عفی عنہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پہلی دو رکعتوں میں  جب بیٹھتے تو گویا کہ آپﷺ گرم پتھر پر ہیں۔ ([1])

اس میں اشارہ ہے کہ  رسول اللہ ﷺ کا پہلا تشہد مختصر ہوتا تھا۔ لیکن ایک تو یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ سیدنا عبداللہ ابن مسعود﷜ کے بیٹے ابو عبیدہ  کا سماع اپنے والد سے نہیں ہے۔ انہوں  نے اپنے والد سے نہیں سنا ۔ ابھی چھوٹے تھے کہ والد فوت ہوگئے۔ لہٰذا سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری با ت  یہ ہے کہ اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیں، پھر بھی اس حدیث  سے یہ ثابت نہیں ہوتا  کہ نبی ﷺ درمیانے  تشہد میں درود نہیں پڑھتے تھے ۔صرف اتنا  پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کا درمیانہ تشہد مختصر ہوتا تھا۔ کتنا مختصر ہوتا تھا؟ اس کی کوئی توضیح نہیں۔ بہرحال  اس  روایت کو کچھ لوگ  بطور دلیل پیش کرتے ہیں  کہ تشہد میں درود نہیں پڑھنا چاہیے۔ لیکن یہ دلیل بننے کی قابل نہیں ہے ۔

جبکہ اس کے مقابل صحیح مسلم میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ کی روایت ہے۔جس میں انہوں نے ذکر کیا کہ  رسول اللہ ﷺ درمیانے تشہد میں بھی درود پڑھتے تھے ، دعا مانگتے تھے اور آخری تشہد میں بھی  درود پڑھتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ فرماتی ہیں:

"كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ." ([2])

’’ ہم رسول اللہ ﷺ کی مسواک اور آپ ﷺ کے وضو کا پانی تیار کرکے رکھا کرتے تو اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات کے وقت آپ کو بیدار کرتا۔ (یہ تہجد کی نماز کا تذکرہ ہے۔) آپﷺ مسواک فرماتے، وضو کرتے، نو رکعتیں پڑھتے۔آٹھویں رکعت میں بیٹھتے۔ اس سے پہلے کسی بھی رکعت میں تشہد نہیں پڑھتے ، اللہ کی حمد بیان کرتے  ، یعنی التحیات پڑھتے اور دعا مانگتے۔‘‘

 یہی روایت دیگر سندوں کے ساتھ تفصیل سے آئی ہے۔ اس میں ہے کہ دعا کرتے، استغفار کرتے، نبی ﷺ پر درود پڑھتے اور سلام نہ پھیرتے۔ پھر کھڑے ہو جاتے پھر آٹھویں رکعت پڑھتے اور پھر بیٹھتے اور پھر اللہ کی حمد بیان کرتے پھر دعا مانگتے اور پھر آپ سلام پھیرتے اور سلام آپ  اونچی آواز سے پھیرتے تھے کہ ہم وہ سلام سن لیتے تھے۔([3])

نماز چاہے نفلی ہویا فرضی ،دن کی ہو یا رات کی ،عید کی نماز ہے یا جمعہ کی  نماز ہے۔ طریقہ کار ایک ہی ہے نماز کا ۔ اِلَّا یہ کہ فرق کی کوئی دلیل ہو۔ جیسے فجر، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں امام اونچی قراءت کرے گا۔ مقتدی نہیں کریں گے  ۔ایسے ہی فرض اور نفل میں فرق کی دلیل ہے۔ نفل نماز بندہ جتنی مرضی لمبی کرلے، لیکن فرض نماز جب لوگوں کو امامت کروائے تو  حکم ہے   پھر  زیادہ لمبی نہ کرے  ۔([4])

سیدنا  حسین ابن علی ، نواسہ رسول ﷺ  کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«البَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» ([5])

’’بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔‘‘

کنجوس اور بخیل میں فرق ہے۔ کنجوس اس کو کہتے  ہیں جو کسی پر  خرچ نہ کرے ۔اور  بخیل جو اپنی ذات پر  بھی خرچ نہ کرے ۔ جو بخیل ہے وہ  کنجوس سے بھی  زیادہ برا ہے۔ نبی ﷺ نے اس آدمی  کو بخیل کہا ہے جس کے سامنے نبیﷺ کانام لیا گیا اور اس نے درود نہ پڑھا۔لہٰذا جو لوگ درمیانے تشہد میں ’’أشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ‘‘ تو کہتے ہیں لیکن درود نہیں پڑھتے تو یہ بخیلی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» ([6])

’’جس کے پاس میر ا تذکرہ  ہوا لیکن  مجھ پر درود نہ پڑھا  ، اس کی ناک خاک آلود ہو ۔‘‘

 تو نبی ﷺ کاتذکرہ  تشہد  میں ہوتا ہے اور بندہ درود پڑھے بغیر اٹھ جائے تو یہ بدنصیبی ہے۔

 کچھ لوگوں کو تو علم نہیں کہ درود پڑھنا ہے یا نہیں ۔ ان لوگوں کے نزدیک کچھ بھی پڑھنا  ضروری نہیں۔ان لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ جتنی دیر بندہ تشہد اور درود اور دعا پڑھتا ہے، اتنی دیر  چپ کرکے بیٹھ کر سلام پھیر دو، یہ عقیدہ اور نظریہ ہے کہ نہ بھی پڑھو تو خیر ہے۔جن کو علم نہیں، ان کا معاملہ تو  جہالت والا ہو گیا اور جہالت ایک عذرہے۔ لیکن جس کے سامنے دلیل آجائےاور وہ پھر بھی عمل پیرانہ ہو،  اسے پھر  اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے ۔

______________________

([1])           أبو داود (995)

([2])           مسلم (746)

([3])           النسائي (1720)

([4])           البخاري (703)

([5])           الترمذي (3546)

([6])           الترمذي (3545)

  • الخميس AM 09:24
    2023-02-09
  • 762

تعلیقات

    = 5 + 5

    /500
    Powered by: GateGold