اعداد وشمار
مادہ
دعائے تشہد
درس کا خلاصہ
پہلے تشہد میں بھی دعاء مانگنا ضروری ہے اور آخری تشہد میں بھی پہلے تشہد کی دعاء متعین نہیں ہے آخری تشہد میں چار چیزوں سے پناہ مانگنے والی دعاء متعین طور پہ لازم ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
دعائےتشہد
محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے تشہد کا طریقہ سکھایا اور فرمایا:
«ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَيَدْعُو» ([1])
’’ اس کےبعد جو دعا اسے پسند ہے وہ کرے۔‘‘
مسند احمد ،سنن ابو داؤد ، سنن نسائی ، اور جامع ترمذی کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس آدمی کو جس نے اللہ کی حمد و ثناء پڑھے بغیر دعا شروع کی تھی آپﷺ نےفرمایا:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ, ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ يَدْعُو بِمَا شَاءَ» ([2])
’’اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو ،درود پڑھو اور پھر جو تمہارا جی چاہتاہے، دعاء مانگو۔‘‘
نبی ﷺ کے ان فرامین کی روشنی میں پتہ چلتاہے کہ تشہد میں دعا مانگنا لازم اور ضروری ہے ۔کون سی دعا مانگنی ہے درمیا نے تشہد میں؟ کوئی بھی دعا متعین نہیں ہے کہ یہ دعا لازمی مانگی جائے۔ لیکن آخری تشہد میں ایک دعا مقرر کی گئی ہے کہ وہ لازمی مانگنی ہے اور اس کے بعد مزید دعائیں کرنی ہیں ۔ لیکن درمیانے تشہد میں کوئی بھی دعا مقرر نہیں ہے ۔قران مجید میں جتنی بھی دعائیں ذکر ہوئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے۔احادیث میں جتنی دعائیں ذکر ہوئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی دعا کی جاسکتی ہیں۔ کئی دعائیں ہیں جو قرآن مجیدمیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً:
‹رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۲۰۱› [البقرۃ: 201]
اور بھی بے شمار دعائیں ہیں۔ کوئی سی بھی دعا کی جاسکتی ہے، کیونکہ آپﷺ فرما رہے ہیں:’’یہ کام کرنے کے بعد پھر جو دعا اسے پسند ہے، وہ کرے۔‘‘
اسی طرح سجدے میں کرنے کی دعا ئیں نبی ﷺ نے سکھائی ہیں، وہ دعائیں بھی اس موقع پر کی جاسکتی ہیں، کیونکہ پابندی نہیں ہے۔مثلاً سجدے کی دعا ہے:
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ([3])
’’اےاللہ! میرے سارے گناہ معاف کردے چھوٹےبھی، بڑےبھی ، اعلانیہ بھی ، اور پوشیدہ بھی ،پہلے بھی اور آخری بھی ۔ ‘‘
استغفار کی بہت ہی بہترین دعا ہے۔ بندہ یہ کرلے۔ سید الاستغفار پڑھ لے۔ کوئی پابندی نہیں۔ ہاں ! کچھ دعائیں نبی ﷺ نے خاص اس موقع پر سکھائی ہیں، اگر وہ پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ لے ۔
سیدنا ابو بکر صدیق کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں، جو میں اپنی نماز میں مانگوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کہہ:
«اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ» ([4])
’’ اے اللہ! میں نے بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور تیرے سو ا گناہوں کو کوئی بخشنے والا نہیں ہے۔لہٰذا اپنی طرف سے تو خاص مغفرت مجھ پر فرما اور مجھ پر رحم کر۔ یقیناً تو ہی بے حد بخشنےوالا ، رحم فرمانے والاہے ۔‘‘
یہ دعا سیدنا ابو بکر صدیق کو نبی ﷺ نے سکھائی تھی۔یہ دعا پڑھ لیں یا کوئی سی بھی دعا۔یہ دعا مانگنا ضروری ہے درمیانے تشہد میں بھی اور آخری تشہد میں بھی ۔تو درمیانے تشہد میں سوائے سلام کے باقی سب کرناہے ۔
____________________
([2]) أحمد (6/ 18)، وأبو داود (1481)، والنسائي (3/ 44 - 45)، والترمذي (3477)، وابن حبان (1960)، والحاكم (1/ 230 و 268)
-
الخميس AM 09:40
2023-02-09 - 1101





