اعداد وشمار
مادہ
دو رکعتوں کے بعد رفع الیدین
درس کا خلاصہ
جو دو رکعتوں سےاٹھے، وہ رفع الیدین کرے اور جو دو رکعتوں سے نہیں اٹھا، پہلی رکعت سے اٹھاہے یا تیسری رکعت سے اٹھاہے ، وہ رفع الیدین نہیں کرے گا۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
دو رکعتوں کے بعد رفع الیدین
محمد رفيق الطاهر أَيَّدَهُ اللهُ
سیدنا عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں:
«كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ» ([1])
’’نبی ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے اوررفع الیدین کرتے۔ جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو رفع الیدین کرتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی رفع الیدین کرتے۔‘‘
درمیانہ تشہد مکمل کرنے کے بعد جب تیسری رکعت کے لیے بندہ جب اٹھے تو وہ رفع الیدین کرے۔ یہاں حدیث کے الفاظ اچھی طرح سمجھ لیں کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے۔ تشہد کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ عام طور پر دو رکعتوں کے بعد تشہد ہوتا ہے ، اس وجہ سے لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جب بھی تشہد سے اٹھنا ہے تو رفع الیدین کرناہے ۔ حدیث میں یہ نہیں آیا کہ نبی کریم ﷺ جب تشہد سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے بلکہ الفاظ ہیں کہ جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے ۔
نبی کریم ﷺ سفر میں تھے۔ ایک جگہ نماز کے لیے رکے تو آپﷺ قضائے حاجت کے لیے راستے سے ذرا ہٹے اور تھوڑا دور نکل گئے۔ تاخیر ہوگئی۔ لوگوں نے عبد الرحمٰن ابن عوف کو امامت کے لیےمصلیٰ پر کھڑا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ جو آپﷺ کے ساتھ تھے جب پہنچے تو ایک رکعت گزر چکی تھی۔ اب نبی کریم ﷺ نے ایک رکعت عبد الرحمان ابن عوف کے پیچھے اد ا کی اور دوسری رکعت آپ ﷺ نے اٹھ کر ادا کی اور رفع الیدین نہیں کیا ۔ ([2])
رفع الیدین دو رکعتو ں کے بعد ہے۔ اگر تشہد کے بعد رفع الیدین ہوتا تو یہاں بھی ایک رکعت کے بعد رفع الیدین کیا جا تا۔ اب عملی طور پر ہوتا ایسے ہی ہے۔ چونکہ تحت الشعور میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ تشہد سے اٹھنا ہے تو رفع الیدین کرنا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک نمازی جو تاخیر سے پہنچا اور ایک رکعت اس کی رہ گئی۔ امام کی دوسری رکعت ہے، اس کی پہلی رکعت ہے۔ امام دو رکعت مکمل کرکے اٹھتا ہے تیسری رکعت کے لیے اوریہ اس مقتدی کی دوسری رکعت ہوتی ہے۔اب امام تو رفع الیدین کرے گا، مگر جو تاخیر سے آیا ہے، وہ رفع الیدین نہیں کرے گا۔کیونکہ رفع الیدین دو رکعتوں کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے ہوئے ہے۔ پھر اگر چار رکعتوں والی نماز ہے تو امام چوتھی رکعت کے لیے اٹھے گا اور اس مسبوق کی یہ تیسری رکعت ہوگی تو یہ رفع الیدین کرے گا۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ رفع الیدین کرنے میں امام کی اقتداء نہیں ہے۔ امام کی اقتداء ان معلوم کاموں میں ہے جن کا نام لے کر نبی کریم ﷺ نے ذکر کیاہے ۔ اب ہوتا کیا ہے؟ امام صاحب نے چار رکعتیں ادا کیں اور اس مقتدی کی تین رکعتیں ہوئیں۔ اب یہ تین رکعتوں کے بعد جب تشہد سے اٹھتا ہے امام کے سلام پھیرنے کے بعد تو رفع الیدین نہیں کرے گا ۔ رفع الیدین دو رکعتوں کے بعد ہے۔ اسی طرح وتر کی پانچ، سات، نو رکعتیں بندہ ایک سلام سے پڑھ سکتا ہے۔ وہاں دو رکعتوں کے بعد تشہد نہیں ہے،نہ تین رکعت وتر میں، نہ پانچ رکعت وتر میں، نہ سات رکعت وتر میں، نہ نو رکعت وتر میں۔ دو رکعت کے بعد تشہد نہیں، لیکن رفع الیدین ہے:
«وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ»
’’دو رکعتوں سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے ۔‘‘
مختصر یہ کہ اس رفع الیدین کا تعلق دو رکعتو ں کے بعد ہے۔ تشہد کے بعد سے نہیں۔ لہٰذا جو دو رکعتوں سےاٹھے، وہ رفع الیدین کرے اور جو دو رکعتوں سے نہیں اٹھا، پہلی رکعت سے اٹھاہے یا تیسری رکعت سے اٹھاہے ، وہ رفع الیدین نہیں کرے گا۔
____________________________________________
([2]) أبو داود (149)۔ اس روایت میں رفع الیدین نہ کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
-
الخميس AM 09:46
2023-02-09 - 1612





