اعداد وشمار
مادہ
آخری دو رکعتوں کا قیام
درس کا خلاصہ
آخری دو رکعتوں کی ادائیگی کا طریقہ کا ر بالکل وہی ہے جو پہلی دو رکعتو ں کا ہے۔ صرف ایک فرق جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، وہ یہ کہ آخری دو رکعتوں کا قیام پہلی دو رکعتوں سے کم ہو۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
آخری دو رکعتوں کا قیام
محمد رفیق طاہر کان اللہ لہ
دورکعتیں مکمل کرنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھیں تو رفع الیدین کریں اور اس کے بعد آخری دو رکعتوں کی ادائیگی کا طریقہ کا ر بالکل وہی ہے جو پہلی دو رکعتو ں کا ہے۔ صرف ایک فرق جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، وہ یہ کہ سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ظہر کی پہلی دو کعتیں لمبی کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتیں مختصر پڑھا کرتے تھے۔([1])
نبی ﷺ کا قیام یہ تھا کہ ظہر کی پہلی دو رکعتو ں میں آپ سورہ سجدہ کی تلاوت کے برابر قیام کرتے تھے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کی نسبت آدھا قیام ہوتا ۔ ([2])
سیدنا جابربن عبداللہ کہتے ہیں:
«كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» ([3])
’’ہم ظہر اور عصر میں پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے اور آخری دو میں بھی ہم سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔ ‘‘
اس معنیٰ کی ایک روایت صحیح بخاری میں بھی ہے ۔ ([4])
یہاں سے کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ اخذکیا کہ پہلی دو رکعتو ں میں تو سورہ فاتحہ کے بعد قراءت ہے، لیکن دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد قراءت نہیں ہے۔
لیکن یہ بات یہاں سے نکلتی نہیں ہے۔ اس کی دو بڑ ی وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ کہ ایک اصول اور قانون ہے عدم ذکر ، عدم ثبوت کو مستلزم نہیں ہو تا۔یعنی ایک بات کو ایک جگہ اگر ذکر نہ کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ثابت ہی نہیں ہے۔ یہاں دوسری دو رکعتو ں میں یہ کہا گیا ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ فاتحہ کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھتے تھے یا صرف فاتحہ پڑھتے تھے۔ یہ معنیٰ نہیں ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺکے قیام کا طریقہ جو صحابہ کرام نے ذکر کیاہے وہ بڑا واضح ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ سجدہ کی تلاوت کے برابر قیام ہوتا اور دوسری دو رکعتوں میں پہلی دورکعتوں سے آدھا ہو تا اور عصر کی پہلی دورکعتیں ، ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر ، اور عصر کی آخری دورکعتیں ، عصر کی پہلی دو رکعتوں سے نصف ۔
لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ قیام میں فرض صرف اور صرف سورہ فاتحہ ہے ۔ فاتحہ کے علاوہ اور قراءت فرض نہیں ۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ قیام میں سورہ فاتحہ پڑھنا لازم ہے۔ اس کے بعد تو چاہتا ہے تو رکوع کر لے اور اگر تو چاہتا ہے تو مزید پڑھ لے نماز پوری ہو جائے گی ۔([5])
چاروں رکعتوں میں بھی اگر کوئی صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو نماز میں نقص اور کمی نہیں ہے۔ ہاں! اگر وہ زیادہ اجر و ثواب لینا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فاتحہ کے بعد بھی قراءت کرے اور جتنا ممکن ہے زیادہ کر لے۔اور افضل، بہتر ، مستحب اور ثواب والا طریقہ یہی ہے جوکہ نبی ﷺکا معمول تھا کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کرے ۔
قیام کے علاوہ جو ارکان ہیں رکوع ، قومہ ،سجدہ ،یہ نمازکی چارو ں رکعتوں میں برابر ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کا صرف بعد والی دو رکعتوں کا قیام پہلی دو رکعتوں کی نسبت کم ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ پہلی رکعت کا قیام دوسری سے بھی لمبا ہوتا تھا ([6])تاکہ زیادہ لوگ شامل ہو جائیں اور قیا م کے اعتبار سے دوسری رکعت چھوٹی ہوتی اور اور تیسری اور چوتھی رکعت اس سے بھی چھوٹی ہوتی۔
_________________________
-
الخميس AM 10:20
2023-02-09 - 1135





