اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

درود

درس کا خلاصہ

درود کے مسنون الفاظ اور احکام



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

درود

محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ

سیدنا ابو مسعود انصاری﷜ کہتے ہیں کہ بشیر ابن سعد﷜ نے کہا:

’’أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟‘‘([1])

’’اےاللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں، تو کیسے آپﷺ پر درود بھیجیں ۔ ‘‘

ابن خزیمہ کی راویت کے الفاظ ہیں:

’’كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا؟‘‘ ([2])

’’جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں تو پھر ہم  کیسے آپ پر درود پڑھیں اپنی نماز میں۔‘‘

 اللہ تعالیٰ نے حکم دیا:

‹اِنَّ اللہَ وَمَلٰۗىِٕكَتَہٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ* يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا› [الأحزاب: 56]

’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبیﷺ پر درود  بھیجتے ہیں۔ سو اے اہل ایمان! تم بھی رسول اللہ ﷺ پر درود اور سلام بھیجو۔‘‘

سلام کا طریقہ تو انہوں نے سیکھ لیا تھا:

«السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ([3])

سلام کا یہ طریقہ نبی ﷺ انہیں سکھا چکے تھے کہ التحیات  اللہ کی حمد و ثناء اور پھر سلام اور پھر  اس کے بعد تشہدیعنی «أشھد أن لا إلہ إلا اللہ، وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ» اور  اس کے بعد جو دعا تم چاہو مانگ لو ۔اب اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کردیا:

‹صَلُّوْا عَلَيْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا› [الأحزاب: 56]

کہ تم صلاۃ  بھی کہو۔

صحابی نے کہا: ’’اب اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے تو جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں تو  ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟ رسول اللہ ﷺ نے سوال سنا تو خاموش ہوگئے۔ تھوڑی دیر خاموش رہنےکے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’تم کہو:

«اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»

ا س طرح تم درود پڑھو اور سلام، سلام ویسے ہی پڑھنا ہے جیسے تمہیں  سکھایا گیا ہے :

«التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

یہ انہیں پہلے سکھا دیا گیا تھا ، پہلے سلام ، تشہد ، اور دعاء۔درود نہیں تھا۔ پھر اللہ نے حکم دیا درود پڑھنےکا، تو پوچھا: ’’درود کیسے پڑھیں؟ تو اللہ  کےنبیﷺ نے انہیں درود سکھایا، جسے  ہم درود ابراہیمی کہتے ہیں۔یہاں  ایک  بات قا بل غور  ہے کہ نبی  ﷺ  نے  فرمایا ہے:

«اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»

کہ تم  یہ کہو۔  اور صلی اللہ علیہ وسلم بھی درود ہے ۔

 نبی ﷺ کا کہیں  پر بھی نام آئے، درود پڑھنا لازم ہے۔کیسے درود پڑھنا ہے ؟ جیسے آپ کی مرضی ! لیکن کچھ مواقع پر درود کےالفاظ نبی ﷺ نے  متعین اور مقرر فرما دیے ہیں، ان میں سے ایک موقع نماز کا ہے ۔نماز میں نبی ﷺ نے درود سکھایا ہے:

«اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»

یہ خاص  درود سکھایا ہے، لہٰذا  نماز میں یہی والا درود پڑھا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور درود  اگر پڑھ لیں تو کفایت نہیں کرے گا۔کچھ لوگوں نے نماز جنازہ میں پڑھنےکےلیے علیحدہ ہی درود بنایا ہوا ہے: ’’اللھم صل علی محمد   وعلی آل محمد کما صلیت وبارکت وترحمت علی ابراھیم، انك حمید مجید.‘‘

یہ جنازے میں پڑھتے ہیں۔ حالانکہ جنازہ بھی نماز ہے، اور نماز میں پڑھنے کے لیے  نبی ﷺ نےدرود ابرا ہیمی سکھایا ہے۔ اس کےعلاوہ کوئی اور درود کفایت نہیں کرے گا۔ جو چیز جس موقع پر نبی ﷺ نے مقرر کردی، اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جو قابل ذکر بات ہے  کہ رسو ل اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ درود تم  بس دوسرے تشہد میں پڑھ لو۔ بلکہ مطلق طور پر سائل  نے سوال کیا   کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے  کہ ہم نما ز پڑھ رہے ہو  تو درود کیسے  پڑھیں؟ سلام تو ہم پڑھتے ہیں۔تو نبی ﷺ نےانہیں درود سکھا دیا۔ سائل کےسوال سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے  کہ جہاں سلام پڑھنا ہے، وہیں درود بھی پڑھنا ہے ۔ اب پہلے تشہد میں سلام تو سارے پڑھتے ہیں، لیکن درود کئی لوگ چھوڑ جاتے ہیں۔ درود نہیں پڑھتے۔اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے:

‹صَلُّوْا عَلَيْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا› [الأحزاب: 56]

’’درود بھی پڑھو اور سلام بھی پڑھو۔‘‘

تو اللہ کا آدھا حکم بندہ مانےاور آدھا نہ مانے،یہ کوئی انصاف تو نہیں۔ اپنے آپ پر ہی ظلم ہے۔اللہ نے درود اور سلام دونوں پڑھنےکا حکم دیا ہے، خواہ وہ تشہد درمیانہ ہو یا آخری ہو۔اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

سیدنا فضالہ بن عبید﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سنا ، جس نے نہ  اللہ کی حمد  بیان کی، نہ نبی ﷺ پر درود  پڑھا   اور دعا کرلی،تو آپﷺ نے  فرمایا:

«عَجِلَ هَذَا»، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لْيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ» ([4])

’’ اس نے بڑی جلدی کی۔‘‘ نبی ﷺ نے اس کو بلایا اور بلا کر کہا: ’’جب تم میں کوئی نماز پڑھے تو پہلے اللہ کی حمد و   ثناء بیان کرے۔(التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ... الخ، یہ اللہ کی حمد ہے) پھر اس کے بعد درود پڑھے، اس کے بعد جو وہ چاہتا ہے، وہ پڑھے  یعنی دعا کرلے ۔  ‘‘

دوسری روایت میں  تھوڑا سا اضافہ ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دوسرے آدمی کو سنا، اس نے  اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر نبی ﷺ پر درود پڑھا  تو آپﷺ نے فرمایا:

«سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ» ([5])

’’تو اب دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی اور سوال کر ، تجھے  دیا جائے گا۔‘‘

 یعنی یہ دعا  کے آداب میں سے ہے کہ پہلے اللہ کی  حمد و ثناء بیان کی جائے، پھر نبی ﷺ پر درود پڑھا جائے  اور اس  کے بعد دعاکی جائے۔

درود اور دعاء درمیانے اور آخری دونوں تشہد میں لازم ہے۔

____________________________

([1])           مسلم (405)

([2])           ابن خزیمۃ (711)

([3])           البخاري (831)

([4])           الترمذي (3477)

([5])           الترمذي (593)

 

  • الخميس AM 10:30
    2023-02-09
  • 823

تعلیقات

    = 1 + 1

    /500
    Powered by: GateGold