اعداد وشمار
مادہ
تسلیم (نماز کے آخر میں سلام)
درس کا خلاصہ
سلام پھیرنے کا طریقہ اور مسنون الفاظ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
تسلیم
محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ
سیدنا وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔آپﷺ دائیں جانب سلام پھیرتے اور «السَّلَام عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» کہتے اور بائیں طرف سلام پھیرتے تو «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»کہتے۔([1])
یعنی بائیں طرف ’’وبرکاتہ‘‘ کے بغیر ۔
سیدنا عبداللہ ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دائیں جانب اور بائیں جانب سلام پھیرتے اور دونوں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»کہتے حتیٰ کہ آپ ﷺ کےرخساروں کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ([2])
تو دونوں طرح جائز اور سنت ہے۔اس حدیث میں ایک اور بات ذکر کی گئی ہے کہ سلام پھیرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی تھی۔ اس سےپتہ چلتا ہے کہ جب بندہ دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرے تو اپنی گردن کو اچھی طرح گھمائے۔ اس قدر گردن گھمانا نبی کریم ﷺ کی سنت اور طریقہ کار ہے ۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نے دیکھا نبی ﷺ جب بھی جھکتے یا اٹھتے تو اللہ اکبر یعنی تکبیر کہتے اور دونوں طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے حتیٰ کہ آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی جاتی۔میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو دیکھا، وہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔([3])
سیدنا وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز اداکی۔ آپﷺ نےآمین اونچی آواز میں کہی اور آپ ﷺ نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کہا حتیٰ کہ میں نے آپ کےرخساروں کی سفیدی دیکھی ۔([4])
سیدنا سعد ابن ابی وقاص کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کو دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے دیکھتا تھا اور آپ ﷺ کے گالوں کی سفیدی دیکھ لیتا تھا ۔ ([5])
آج کل کچھ لوگوں کو دیکھا گیاہے۔ وہ جب سلام پھیرتے ہیں تو تھوڑاسا گردن کو اِدھر کردیا، اُدھر کردیا۔ بس تکلف ہی کرتے ہیں اور گردن گھماتے نہیں ہیں ۔سر کو اِدھر گراتے ہیں، اُدھر گراتے ہیں۔ حالانکہ سر کو گھمانا ہے، گرانا نہیں ہے۔ اگر ذرا سا دائیں اور بائیں کریں تو وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو مطلوب ہے ۔
__________________________
-
الخميس AM 10:37
2023-02-09 - 895





