اعداد وشمار
مادہ
سلام میں اقتداء
درس کا خلاصہ
مقتدی سلام پھیرنے میں بھی امام کی اقتداء کرے امام کی آواز ختم ہونے کے بعد ایک طرف سلاف پھیرے پھر دوسری جانب سلام کی آواز ختم ہونے پہ دوسری جانب سلام کہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
سلام میں اقتدا
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا علی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» ([1])
’’ طہارت ، وضو نماز کی چابی ہے اور نماز کےلیے تحریم تکبیر ہےاور تحلیل سلام ہے۔‘‘
تکبیر کہنے سے نماز شروع ہوجاتی ہے اور تمام تر کا م نمازی کے لیے ناجائزاور حرام ہو جاتے ہیں۔ اب اس نے نماز کا آغاز کرلیا۔ اب اور کام نہیں کر سکتا۔جبکہ نماز کو ختم کرنے والی، نمازسے بندے کو خارج کرنے والی اورنمازی کو نماز کے علاوہ دوسرے کام حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔ جب نمازی سلام پھیر لیتا ہے تو اس کی نماز ختم ہوجاتی ہے اور اب وہ نماز کے علاوہ دیگر افعال سرانجام دے سکتاہے ۔
اس سے ایک تو یہ پتہ چلتاہے کہ نماز سے نکلنے کاطریقہ کار سلام پھیرنا ہے ۔عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جملہ اسمیہ کے دونوں حصے مبتدا اور خبر اگر معرفہ ہوں تو تخصیص کا فائدہ دیتے ہیں کہ صرف یہی، اس کے علاو ہ اور کچھ نہیں۔ جیسے: ‹اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ› [الفاتحۃ: 5] میں بھی تخصیص ہے تقدیم و تاخیر کی وجہ سے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے علاوہ اور کسی کی عبادت نہیں کرتے اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، تیرے سوا کسی اور سے مدد نہیں مانگتے۔ یہاں بھی یہی حصر والا معنیٰ ہے کہ نماز کے لیے تحلیل صرف تسلیم ہے، تسلیم کےعلاوہ اور کچھ نہیں۔سلام پھیرنے کے علاوہ بندہ اور کچھ بھی حرکت کرے نماز سے خارج ہونے کے لیے تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ پوری نہیں ہوگی ۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اتنی دیر تک تشہد میں بیٹھ جائے ، جتنی دیر میں تشہد پڑھا جاتا ہے اور اس کے بعد جان بوجھ کے خلاف ِ نماز کوئی حرکت کرے ، یعنی جان بوجھ کے ہوا خارج کردے یا بات چیت شروع کردیے تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی۔لیکن یہ بات غلط ہے ۔نبی ﷺ نے تحلیل صرف سلام کو قرار دیا ہے۔
نمبر دو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک نمازی سلام نہیں پھیرتا، اس وقت تک وہ نماز سے خارج نہیں ہوتا، نماز میں ہی رہتا ہے۔ دونوں طرف سلام پھیرنے سے پہلے نماز کے خلاف کوئی بھی کام نہیں کرے گا ۔
یہاں سے ایک اور با ت سمجھ میں آتی ہے کہ جب امام دونوں طرف سلام پھیرے گا تو اس وقت امام کی نماز پوری ہوگی۔سادہ سی بات ہے عام فہم سی، کوئی بھی نمازی، چاہے وہ امام ہو، جب سلام پھیرے گا تو اس کی نماز پوری ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ مقتدی جو امام کی اقتدا کر رہاہے، امام جب دائیں طرف السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ کہے اور اس کی آواز ختم ہو تو مقتدی دائیں طرف سلام پھیرے، جب امام بائیں طرف سلام پھیرے اس کی آواز ختم ہو پھر مقتدی بائیں طرف سلام پھیرے۔ یہ امام کی اقتداء ہے۔ اور وہ مقتدی جو مسبوق ہے، جس کی ایک، دو یا زائد رکعتیں رہ گئیں، دیر سےنماز میں شامل ہوا، اب جب تک امام دونوں طرف سلام پھیر کر فارغ نہیں ہو جاتا، تشہد کی حالت میں بیٹھا رہے۔ عام طور پر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ امام صاحب ایک طرف سلام کہتے ہیں، بلکہ ابھی کہہ رہے ہوتے ہیں، اور مسبوق مقتدی جس کی ایک دو تین رکعتیں رہتی ہیں، وہ فوراً کھڑے ہو کر اپنی بقیہ نماز پوری کرنا شروع کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ امام کا پابند ہے، جب تک امام نماز میں ہے۔ اور امام کب تک نماز میں ہے؟ جب تک امام دونوں طرف سلام نہیں پھیر لیتا۔ جب امام دونوں طرف سلام کہہ لے گا، پھر اس کی پابندی ختم ہوگی۔پھر یہ اٹھے اور بقیہ نماز ادا کرے۔ یہ امام کی اقتدا ء کا طریقہ کار ہے کہ نماز کے اختتام تک وہ امام کا پابند ہے۔ اس سے پہلے اٹھے گا تو گویا اس نے آخر میں جا کر امام کی اقتداء چھوڑ دی ۔
ایسے ہی کچھ لوگ امام کےساتھ ہی سلام پھیرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ جب امام کے سلام کی آوازختم ہو تو پھر سلام شروع کرنا چاہیے۔ جس طرح جب امام اللہ اکبر کہےتو تم اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرو اور اسی طرح جب امام اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جانا شروع کرواور جب امام اپنا ماتھا زمین پر رکھ دے سجدے میں، تو تم سجدے میں جھکنا شروع کرو۔ یہ ہے امام کی اقتداء۔ ایسے ہی سلام پھیرنے میں ، امام دائیں طرف رخ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر چپ ہو جائےتو تم سلام پھیرنا شروع کرو۔ پھر امام بائیں طرف کہہ کر چپ ہو تو تم بائیں طرف سلام پھیرنا شروع کرو ۔جس طرح امام کی نماز کاآغاز آپ کی نماز سے پہلے ہوا، اسی طرح امام کی نماز کا اختتام بھی آپ کی نماز سے پہلے ہو گا ۔
____________________________
-
الخميس AM 10:41
2023-02-09 - 841





