اعداد وشمار
مادہ
سلام کے متصل بعد اذکار
درس کا خلاصہ
سلام کے فورا بعد تکبیر ، تین مرتبہ استغفار اور تیسرا «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ... الخ» یہ قبلہ رو ہو کے کہیں اسکے بعد دیگر اذکار کریں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
سلام کے متصل بعد کےاذکار
محمد رفیق طاہرعفی عنہ
سیدنا عبداللہ ابن عباسفرماتے ہیں:
«كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ» ([1])
’’ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا اختتام تکبیرسے معلوم کرتا تھا۔‘‘
نماز کا اختتام سلام سے ہوتا ہے، لیکن یہ فرمارہےہیں کہ اللہ اکبرکی آوازسےمجھے نبی ﷺ کی نماز کا اختتام معلوم ہوتا تھا ۔ دراصل سیدنا عبد اللہ ابن عباسچھوٹے بچے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اگلی صفوں میں بچے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ مرد، بڑے پہلے پہنچے ہوتے تھے تو بڑے پہلی صفوں میں اور بچے پچھلی صفوں میں ہوتے تھے ۔ اور بچوں کے بعد عورتوں کی صف ہوتی تھی۔ نبی ﷺ جب نماز کا سلام پھیرتے تو سلام قدرے آہستہ آواز سے کہتے۔ یہ چونکہ آخری صفوں میں ہوتے تھے، ان تک نبی ﷺ کےسلام کہنے کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔ سلام کے بعد جب اونچی آواز میں اللہ اکبر کہتےتو اللہ اکبر کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تو ان کو پتہ چلتا کہ نماز ختم ہوچکی ہے ۔اس سے دو باتیں سمجھ آتی ہیں:
نمبر ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ نماز ختم کرنے کے بعد اونچی آواز سے تکبیر کہتے اور صحابہ کرام بھی بآواز بلند تکبیر کہتے۔
دوسرا یہ کہ تکبیر کا مطلب اللہ اکبر ہے۔ اس لیے نمازی سلام پھیرنے کے بعد اللہ اکبر کہے ۔
سیدنا ثوبان فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نماز سے سلام پھیرتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے۔ استغفراللہ ، استغفراللہ ، استغفراللہ ،تین مرتبہ کہتے اور پھر کہتے:
«اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ([2])
’’اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے۔تجھ سے ہی سلامتی ہے۔ اے جلالت والےاو ر عزتوں والے! تو بڑا بابرکت ہے۔‘‘
یہ کلمات سلام پھیرنےکے بعد نبی ﷺ کہتے اور یہ الفاظ کہنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرلیتے ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کا سلام پھیرتے تو قبلہ رو ہو کے بیٹھے نہیں رہتے تھے، بلکہ مقتدیوں کی طرف منہ کرلیتے تھے اور اتنی دیر قبلہ رو ہوکے بیٹھتے تھے جتنی دیر کہتے:
«اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ([3])
یہ کہنےکے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرلیتے ۔
کئی ائمہ کرام نماز پڑھا کر بڑی بڑی دیر تک قبلہ رو ہو کر ہی بیٹھے رہتے ہیں۔
سیدنا انس ابن مالککہتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ»([4])
’’نبی ﷺ نے صحابہ کو نماز پر ابھارا اور انہیں منع کیا کہ میرے پھرنے سے پہلے تم نہ پھر ا کرو ۔‘‘
اس کے دو معنیٰ ہیں:
ایک تو یہ کہ میں جب تک سلام نہ پھیر لوں اس وقت تک تم نماز سے نہ پھرو ۔ یہ معنیٰ راجح معلوم ہوتاہے۔
لیکن ایک دوسرا معنیٰ بھی اس کا کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ جب تک میں قبلہ رو ہو کے بیٹھا رہوں ، تم اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ تو جب اما م مقتدیوں کی طرف رخ کرے، پھر مقتدی اٹھ کر چلے جائیں اس دوسرے معنیٰ کے مطابق ۔
ام المومنین ام سلمہ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو عورتیں سلام پھیرتے ہی اٹھ کر چلی جاتیں اور آپﷺ اور صحابہ کرام مرد بیٹھے رہتے۔([5])
جب رسول اللہ ﷺ اٹھتے تو صحابہ اٹھ کر چلے جاتے۔اصل میں آپﷺ نےدیکھا کہ مر د اور عورتیں راستے میں خلط ملط ہورہے ہیں تو آپ ﷺ نے انہیں منع کیا ۔
حمزہ بن ابی اُسَید انصاری اپنے والد گرامی ابو اسید انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو مسجد سے باہر سے سنا، جبکہ عورتیں راستے میں مردوں کے ساتھ خلط ملط ہوگئیں تو آپ ﷺ نے عورتوں کو فرمایا:
«اسْتَأْخِرْنَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ» فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ. ([6])
’’سائیڈ پر ہٹ کر رہو۔ تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم راستے کے درمیان میں چلو بلکہ تم راستے کے کنارے کنارے چلو۔‘‘اس حکم کے بعد عورت جب بازارمیں چلتی تو دیوار کےساتھ چمٹتی حتیٰ کہ بسا اوقات عورت کے کپڑے دیوار کےساتھ گھسٹتے۔
ایک تو یہ اہتمام کیاکہ عورتیں کنارے کنارے چلیں،اور مرد راستے کے درمیان میں چلیں اور دوسرا جب تک رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے رہیں، مرد بھی بیٹھے رہیں تاکہ اتنی دیر تک نماز پڑھنےکے لیے آنےوالی عورتیں اپنے گھروں کو پہنچ جائیں ۔یہ نبی ﷺ کا طریقہ کار تھا نماز کا اور نماز کےبعد کا ۔
تکبیر ، تین مرتبہ استغفار اور تیسرا «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ... الخ» یہ قبلہ رو ہو کے کہتے، اس کے بعد آپﷺ پیچھے کی جانب رخ کرلیاکرتے تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی اذکار ہیں جو نبی ﷺ سے ثابت ہیں۔
_____________________________
([1]) البخاري (842)، مسلم (583)
-
الخميس AM 10:46
2023-02-09 - 1060





