اعداد وشمار
مادہ
بیٹھ کر نماز
درس کا خلاصہ
عذر شرعی کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو پورا اجر ملتا ہے اور بلا عذر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کو آدھا اجر ملے گا
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
بیٹھ کر نماز
محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ
سیدنا عمران بن حصینکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا:
«صَلِّ قَائِمًا, فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا, فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ»([1])
’’ کھڑا ہو کر نماز پڑھ۔ اگر کھڑا ہونے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھنےکی بھی استطاعت نہیں تو پہلو کے پل ہو کر نماز پڑھ۔‘‘
یعنی نماز میں اصل کام قیام ہے کہ بندہ کھڑا ہوکر نماز ادا کرے۔ اگر بیٹھ کر بغیر عذر کے نماز پڑھے گا تو نبی ﷺ نے فرمایا:
«صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ» ([2])
’’ بیٹھ کر نماز پڑھنےوالی کی نماز ، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے کی نسبت آدھی ہے۔‘‘
یعنی بلا عذرجو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کو آدھی نماز کا ثواب ملتاہے ۔ کچھ لوگوں کی عادت ہے کہ وہ مؤکدہ سنتوں کے بعد والے نوافل بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وتروں کے بعد والے نفل بھی بیٹھ کر پڑھتے ہیں جبکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جوآدمی بغیر عذر کے بیٹھےگا تو بیٹھ کر نماز پڑھنےسے صرف بیٹھنےکی وجہ سے اس کے آدھے نمبر ملیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے اور صحابہ کرام کو بھی یہ اشکال پید اہوا کہ نبی ﷺ وتروں کے بعد نوافل بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! آپ تو بیٹھ کر نماز پڑھنےسے منع کرتے ہیں جبکہ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں۔ تو فرمایا:
«أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ» ([3])
’’(مجھے پورا اجر ملتا ہے) میں اس معاملہ میں تمہارے جیسا نہیں ہوں۔‘‘
یعنی یہ نبی ﷺ کا خاصہ ہے۔ جیسے امت کے لیے چار سے زیادہ شادیاں کرنا منع ہےجبکہ نبی ﷺ کے نکاح میں بیک وقت نو ازواج مطہرات رہی ہیں۔یہ نبی ﷺ کا خاصہ ہے۔
اسی طرح امت کے لیے منع ہےکہ بندہ سحری کھائے اور اس کے بعد افطاری نہ کرے، پھراگلے دن سحری نہ کھائے اور اس دن افطاری کرے۔اس کو وصال کہتے ہیں، یعنی روزے کے ساتھ روزہ جوڑنا۔یہ امت کے لیے منع ہے۔ لیکن نبی ﷺ ایسا کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام کہنے لگے: ’’آپ ﷺ بھی تو یہ کا م کرتے ہیں، جس کام سے آپ ہمیں منع کرتے ہیں۔‘‘
اصل اصول اور قانون یہ ہے کہ جو کام نبی ﷺ کریں ، امت کے لیے جائز ہے ۔ اس لیے اشکال پیدا ہوتاہے کہ آپﷺ خود کررہے ہیں۔ فرمایا:
«وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» ([4])
’’تم میں سے میرے جیسا کون ہے ؟ میں رات گزارتا ہوں تو سوئے ہوئے ہی میرا اللہ میرا کھانا پینا پورا کردیتا ہے ، میں سیرہوجاتاہوں۔‘‘
یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کا خاصہ تھا۔ اسی طرح بیٹھ کر نفل پڑھنا اور بیٹھ کرنماز پڑھنا بھی رسول اللہﷺ کا خاصہ ہے۔ اگر کوئی امتی بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھے گا تو اس کو آدھا ثواب ملے گا۔
اب یہ جو معاملہ ہے کہ بندہ کھڑا ہوسکتاہے یا نہیں،یہ بندے اور اس کے اللہ کے درمیان معاملہ ہے۔ کوئی دوسرا بندہ اس پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔ کوئی فتویٰ نہیں لگا سکتا کہ اس کے لیے جائز ہے کہ نہیں۔ شریعت نے بنیادی سا اصول بتادیا ہے کہ اگر استظاعت ہے تو کھڑے ہوکر پڑھو۔ اگر کھڑے ہونےکی استظاعت نہیں ہے، پھر بیٹھو۔ اب جس نے بیٹھنے کی رخصت لینی ہے، اس نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ واقعتاً میں کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں یا نہیں۔ اگر نہیں کھڑا ہوسکتا تو ٹھیک ہے، پھر بیٹھ کر پڑھ لے۔
رسول اللہ ﷺ بھی رات کی نماز میں ایسا کیاکرتے تھے کہ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ جب تقریباً تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں آپ ﷺ کی قراءت کی تو پھر آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ ([5])
آپﷺ رات کی نماز میں طویل قیام کیا کرتے تھے اتنا لمبا قیام ہوتاتھا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اتنا لمبا قیام ہوتا تھا ۔‘‘ ([6])
مختصر یہ کہ بندہ اتنی رخصت لے جتنی اس کو ضرورت ہے۔ اگر بندہ ایک رکعت کھڑا ہوسکتاہے تو پہلے کھڑا ہوکر پڑھ لے۔ اس کے بعد اس کے اند ر کھڑے ہونے کی استطاعت نہیں ہے تو بیٹھ جائے۔ مثلاً بیمار آدمی ہے، امام صاحب نےسورت لمبی کردی ہے۔ کھڑاہوکر نماز شروع کی تھی لیکن اب طاقت نہیں ہے تو بیٹھ جائے۔ وہ بیٹھ بھی جائے گا تو اس کو پورا ثواب ملے گا کیونکہ اس میں استطاعت نہیں ہے۔ اگر بندہ بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کروٹ لے کر اپنا رخ قبلہ کی طرف کردے اور پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھ لے۔ لیٹ کر نماز تب پڑھنی ہے جب بیٹھنےکی بھی استطاعت نہیں ہے اور بیٹھنا تب ہے جب اس کے لیے کھڑا ہونا ممکن نہ ہو ۔
____________________________
([4]) البخاري (1965)، ومسلم (1103)
([5]) البخاري (1118)، ومسلم (731)
([6]) البخاري (1130)، ومسلم (2819)
-
الخميس AM 10:56
2023-02-09 - 776





