اعداد وشمار
مادہ
کرسی پر نماز
درس کا خلاصہ
کرسی وہ استعمال کرے جو نیچے زمین پر نہیں بیٹھ سکتا۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
کرسی پر نماز
محمد رفیق طاہر وفقہ اللہ
سیدنا جابر ابن عبد اللہفرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک بیمار کی بیمار پرسی کی تو اسے دیکھا کہ وہ مریض تکیے پر نماز پڑھ رہا تھا ۔ آپﷺ نے وہ تکیہ پکڑا اور پھینک دیا۔ پھر فرمایا:
«صَلِّ عَلَى الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ, وَإِلَّا فَأَوْمِئْ إِيمَاءً, وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ» ([1])
’’اگر تجھ میں قوت ہے تو زمین پر نماز پڑھ، وگرنہ اشارہ کرلے اور اپنا سجدہ اپنے رکوع سے زیادہ جھکا ہوا، زیادہ نیچا بنا۔‘‘
اس نے سجدے والی جگہ پر تکیہ رکھا ہوا تھا اور بیٹھ کر نما ز پڑھ رہا تھا تاکہ اس پر ماتھا ٹیک کر سجدہ کرسکے ۔
ہمارے ہاں بھی بعض مساجد میں یہ چیز دیکھنے کو آتی ہے کہ بیمار کے لیےکرسی کا اہتمام ہوتاہے اور کرسی وہ جس میں طالب علموں کے لیے پھٹی لگی ہوتی ہے۔ نمازی جب نماز کےدوران سجدہ کرتا ہے تو اس پھٹی پر ماتھا ٹیک کر سجدہ کرلیتاہے، حالانکہ نبیﷺ نے اس آدمی کا تکیہ جس پر وہ سجدہ کررہاتھا، اسے پکڑکر پھینک دیاتھا۔ اس لیے اگر بندے سے زمین پر سجدہ ہوتا ہے تو ٹھیک ہے۔ نہیں ہوسکتا تو نہ سہی۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ, وَالرُّكْبَتَيْنِ, وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ» ([2])
’’مجھےحکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں۔ یعنی ماتھے (ناک کی ہڈی بھی اس میں شامل ہے)، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور پاؤں کے دونوں اطراف پر۔‘‘
جس میں یہ ساتوں ہڈیاں لگانے کی استطاعت ہے، اس کےلیےلازم اور ضروری ہے، اور جس میں استطاعت نہیں تو ‹لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا› [البقرۃ: 286]
’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت اور وسعت سےبڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔‘‘
لہٰذا اگر کوئی جھک کر ماتھا ٹیک نہیں سکتا، تو وہ کوئی چیز اپنے قریب کرکے اس پر سجدہ نہ کرے۔ شریعت نے اس سے منع کیاہے ۔
نماز میں قیام اصل ہے۔قیام کی طاقت نہیں تو بیٹھ جائے اور بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں تو لیٹ جائے۔([3]) یہ جو درمیانی کیفیت ہے قیا م او رقعو د کی کرسی پر بیٹھنے والی،یہ انتہائی صورت ہے کہ اگر کوئی آدمی زمین پربیٹھ نہیں سکتا تو ان پر بیٹھ کر نماز ادا کرلے۔ آج کل ایسی بیماریاں ہیں، جو اس وقت نہیں تھیں۔صحابہ کرام کے دور میں ایسا ہوسکتا تھا کہ جس طرح نبیﷺ کےلیے انہوں نے منبر بنوایا،([4])وہ بھی بیٹھنے کےلیے کوئی پھٹی یا ایسی کسی چیز پر بیٹھ کر نما زپڑھتے، لیکن نہیں، ان کو ضرورت ہی نہیں تھی۔ استطاعت ہوتی تو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور اگر استطاعت نہ ہوتی تو بیٹھ کر نمازپڑھتے۔ آج کل جیسے بیماریاں بڑھ گئی ہیں، ویسے اللہ نے سہولیات بھی پیدا کر دی ہیں۔
وہ آدمی جس کو زمین پر بیٹھنےکی سکت نہیں، نیچے نہیں بیٹھ سکتا، یا بیٹھ جائے تو اس سے اٹھا نہیں جاتا، جس کی یہ کیفیت ہوجائے، وہ کرسی استعما ل کرلے۔
زمین پر بیٹھے تو تشہد کی حالت میں بیٹھے۔ اگر ایسے بیٹھنے کی استطاعت نہیں ہے تو چوکڑی مار کر، جیسے اس کے لیے آسانی اور سہولت پیدا ہوتی ہے، وہ طریقہ اختیار کرلے جو نماز کی حالت کے قریب تر ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کرسی وہ استعمال کرے جو نیچے زمین پر نہیں بیٹھ سکتا۔ کیونکہ اس سےکئی ایک مسائل پیدا ہوتےہیں۔ کرسی استعمال کرنےکی وجہ سے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کرسیاں آپس میں جڑتی نہیں، جیسے بعض کرسیوں کی اگلی ٹانگیں چوڑی ہوتی ہیں اورپچھلی تنگ، تو بندہ ان کے ساتھ مل کر کھڑانہیں ہوسکتا ۔ یعنی صف بندی کا جو حکم ہے، اس کا بھی لحاظ اور خیال رکھنا ضروری ہے۔
____________________________
([1]) البيهقي في «المعرفة» (4359)
([2]) البخاري (812)، ومسلم (490) (230)
-
الخميس AM 11:06
2023-02-09 - 1055





