اعداد وشمار
مادہ
امام مقتدیوں کا خیال رکھے
درس کا خلاصہ
لمبی نماز سے متعلق حدیث معاذ رضی اللہ عنہ کا درست فہم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
حدیث معاذ(امام مقتدیوں کا خیال رکھے)
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا حذیفہبیان کرتے ہیں کہ نفلی نماز کے قیام میں نبی ﷺ نے ایک ہی رکعت میں پہلے سورہ بقرہ پڑھی اور پھر سورہ نساء، پھرسورہ آل عمران اور پھر رکوع کیا ۔ ([1])
سیدنا معاذ آپ ﷺ کی اقتداء میں نما ز پڑھتے تھے ۔ اس کے بعد وہ قباء جاتے اور قباء جاکر عشاء کی نماز کرواتے۔ معاذ کی فرض نماز اد اہو چکی ہوتی تھی۔ قباء والوں کو جب امامت کرواتے تو ان کی نفل نماز ہوتی اور اہل قباء فرض نماز پڑھ رہےہوتے تھے۔ چونکہ نبیﷺ کی نفلی نمازمیں اتنا لمبا لمبا قیام کرنا ثابت ہے تو معاذ نے ایسا کیا کہ عشاء کی نماز کی ایک ہی رکعت میں پوری سورہ بقرہ پڑھ دی۔وہ پڑھتے گئے۔ ایک دیہاتی نما ز میں شامل ہوا ۔ اس نےدیکھا کہ امام صاحب لگتا ہے رکوع نہیں کرتے۔اس نے نماز توڑی۔ پیچھے علیحدہ ہوکر اکیلےنے نماز پڑھی اور نماز پڑھ کر چلا گیا۔اب لوگوں نے باتیں کرنا شروع کردی کہ یہ منافق ہوگیا ہے۔ وہ نبی ﷺ کےپاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ کہیں میں منافق تو نہیں ہوگیا؟یہ لوگ کہتے ہیں۔ لوگوں سے پوچھا: کیوں کہتے ہو؟کہنے لگے کہ یہ اس طرح نماز توڑ کر چلا گیا تھا۔ پوچھا:کیوں؟ کہا: آپ ﷺنے ہمارا جو امام مقرر کیا ہے،وہ بڑی لمبی نماز پڑھاتاہے۔آپﷺ نے معاذ ابن جبلکو بلایا۔ انہیں ڈانٹااور کہا:
«يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ - ثَلاَثًا - اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَنَحْوَهَا»([2])
’’اے معاذ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنا چاہتا ہے؟ (جب تو اکیلا نماز پڑھے تو جتنی لمبی چاہے نماز پڑھ لیکن جب تو امامت کروائے تو اس وقت چھوٹی نماز پڑھا اور مختصر نماز پڑھا) سورۃ الشمس، سورۃ الاعلیٰ اور اس جیسی سورتیں پڑھا کر۔‘‘
یہ نبی ﷺ نے معاذ کو حکم دیا ۔
اس سارے واقعے سے یہ بات سمجھ آتی ہے جب امام امت کروائے تو مقتدیوں کا خیال رکھے۔ زیادہ لمبی جماعت نہ کروائے۔اسی طرح بہت مختصر نماز بھی مقتدی کو فتنے میں ڈال سکتی ہے۔ مثلاًامام صاحب تو ماشاء اللہ قاری ہوتے ہیں، حافظ ہوتے ہیں، وہ بہت تیز تیز پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی مریض اس کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے ، اس نے آہستہ آہستہ جب سجدے تک پہنچنا ہے اتنی دیر میں امام صاحب اپنا سجدہ پورا کر چکے ہوں گے۔ یا مثلاً ایک رکعت پڑھ کر امام صاحب کھڑے ہوئے ہیں، خاص کر آخری دو رکعتوں میں تیسری رکعت پڑھ کر امام صاحب کھڑے ہوئے ہیں ا ور اما م صاحب جلدی جلدی سور ہ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے، تو وہ کمزور آدمی جس کے اٹھنے میں دشواری ہے ، وہ آہستہ آہستہ اٹھے گا۔ اِدھر امام صاحب رکوع کےقریب پہنچ جائیں گے ۔ لہٰذا اتنی چھوٹی بھی نہ ہو کہ مقتدی اس سے تنگ ہوجائیں اور اتنی لمبی نہ ہو کہ مقتدی پریشان ہوجائیں۔ جتنی مختصر نماز رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے، اس سے زیادہ چھوٹی نہ کرے اور نہ اس سے لمبی کرے ۔ اب نبی ﷺ نے ساری سورتیں اکیلے تہجد کی نماز میں پڑھی ہیں۔ معاذنے عشاء کی فرض نماز کی ایک رکعت میں پوری سورہ بقرہ پڑھ لی جبکہ عشاء کی فرض نما زمیں نبی ﷺ نے اتنا لمبا قیام نہیں کیا ۔ ہاں! اگر فجر کی نما ز ہوتی اور اس کی دو رکعتوں میں پوری سورہ بقرہ پڑھ لی جاتی تو کوئی حرج نہیں ۔
سیدنا ابو بکر امیر المومنین تھے۔ فجر کی نماز میں پوری سورہ بقرہ پڑھی تو سیدنا عمر نے کہا: ’’اے امیر المومنین! قریب تھا کہ ابھی سورج نکل آتا۔‘‘فرمایا: ’’اگر نکل بھی آتا تو ہمیں غفلت کی حالت میں نہ پاتا۔‘‘ ([3])
یعنی کہ کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ اس لیے فجر کی جماعت لمبی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔ نبی ﷺ نے فجر کی نماز لمبی کروائی ہے ۔ ([4])
ہمارے ہاں کیا ہے؟ سیدنا معاذ کی اس روایت کو بنیاد بنا کر لوگوں نے نماز کو بالکل ہی گھٹانا شروع کردیا ہے۔ مختصر سے مختصر تر، اور مختصر ترین کردیا ہے۔ حالانکہ سیدنا معاذ نے تو بہت زیادہ لمبی جماعت کرو ا دی تھی۔ اس لیے کہا گیا کہ یہ فتنہ ہے۔ اب اگر جماعت میں پندرہ منٹ لگ جائیں تو تب بھی اس سے کئی لوگوں کو فتنہ محسوس ہوتاہے۔دراصل فتنہ ان کے دماغ میں ہے، حقیقت میں نہیں۔ اگر فجر کی نماز میں پندرہ ، بیس منٹ لگ جائیں تو یہ بالکل سنت کے مطابق ہے ، ہلکی پھلکی ہے۔ اسی طرح ظہر کی نماز میں پہلی دونوں رکعتوں میں اگر سورہ سجدہ کے برابر قیام کیاجائے تو سب نمازوں سے زیادہ لمبی نماز بن جائے گی۔ ہاں مختصر ترین یہ ہے کہ نمازمیں اطمینان اورسکون ہو۔ ظہر کی نمازمیں اگر بارہ پندرہ منٹ لگ جائیں تو یہ متوسط قسم کی نماز ہے، طویل نہیں۔نبیﷺ کی جماعت سے لمبی نمازاگر کوئی کروائے تو اسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتنہ ہے اور نبی ﷺ کی نماز سے مختصر نماز اگر کوئی کروائے تو وہاں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتنہ ہے۔
___________________________
([3]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3545)
-
الخميس AM 11:12
2023-02-09 - 909





