اعداد وشمار
مادہ
فتنے والی نماز
درس کا خلاصہ
رسول اللہ ﷺ کی نماز سے لمبی نماز بھی فتنے والی ہے اور آپ ﷺ کی نماز سے مختصر نماز بھی فتنے والی ہے!
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
فتنے والی نماز
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
نبیﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ جو دیگر صحابہ کرام تھے، رات کو بڑا طویل قیام کرتے تھے۔ اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ‹فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ› [المزمل: 20]
’’جو قرآن میسر آئے، وہ پڑھ لو۔
نبی ﷺ رات کی نماز میں بڑالمباقیام کیاکرتے تھے۔
سیدنا حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ رسول اللہ ﷺ نے سورہ بقرہ شروع کرلی۔ میں نے کہا: چلو ایک رکعت میں پوری سورہ بقرہ پڑھ کر رکوع کرلیں گے، لیکن آپ ﷺ پڑھتے گئے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے سورہ نساء شروع کی۔ سورت نساء مکمل کی۔ پھر آپ ﷺ نے سورہ آل عمران پڑھی۔آپﷺ نے بڑا ٹھہرٹھہر کر سکون سے پڑھا۔ تیزی کے ساتھ نہیں پڑھا۔ کوئی آیت تسبیح کی ہوتی تو تسبیح بیان کرتے اور عذاب والی آیت والی آیت ہوتی تو رکتے اور پناہ مانگتے اور اگر رحمت والی آیت ہوتی تو رکتے اور رحمت کا سوال کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»رکوع میں کہتے رہے اور آپ ﷺ کارکوع بھی قیام کی طرح ہی لمبا تھا۔ اسی طرح سجدہ کیا اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى»کہتے رہے اور آپ ﷺ کاسجدہ بھی اسی طرح بڑا لمبا سجدہ تھا۔([1])
نبی ﷺ کا قیام کرنے کا یہ طریقہ کار تھا ،اسی لیے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اتنے لمبے قیام کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے۔([2])
سیدنا معاذ ابن جبلکو رسول اللہ ﷺ نے اہل قباء کا امام مقرر کیا تھا۔ سیدنا جابر ابن عبداللہکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سیدنا معاذ ابن جبل عشاء کی نماز پڑھتے، اس کے بعد قباءجاتے اور انہیں عشاء کی نماز کروایا کرتے۔ ایک مرتبہ سیدنا معاذ نے قباء میں جا کر عشاء کی جماعت شروع کروائی اور سورہ بقرہ پڑھنا شروع کردی۔ نبی ﷺ نے بقرہ ، نساء اور آل عمران رات کی نفل نماز میں پڑھی تھی۔ا چونکہ معاذ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے عشاء کی فرض نماز پڑھ چکے ہوتے تھے، اب اہل قباء کی فرض نماز ہوتی تھی اور معاذ کی نفل نماز ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے سورہ بقرہ شروع کرلی۔ نبیﷺ نے فرض نماز میں اتنی لمبی قراءت نہیں کی۔ جابر کہتے ہیں کہ اہل قباء میں سے ایک آدمی پیچھے ہٹا۔ اس نے اکیلے نما زپڑھی اور نماز پڑھ کر چلا گیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو منافق ہو گیا ہے۔ مسئلہ بن گیا۔ اکیلے نماز پڑھنے والے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نبی ﷺ کے پاس ضرور جاؤں گا اور پوچھوں گا کہ کہیں میں منافق تو نہیں ہوگیا۔ کام تو میں نے خراب کیا ہے کہ امام نماز پڑھا رہا ہے اور میں نے نماز چھوڑ کر اکیلےنماز پڑھی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اورپو چھا کہ لوگ اس طرح کہتےہیں۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیوں؟ تو بتایا گیا کہ یہ نماز چھوڑ کر چلا گیا تھا۔آپﷺ نے پوچھا: کیوں؟ تو عرض کیا: وہ جو فلاں بندہ ہے، وہ ہمیں بڑی لمبی نماز پڑھاتاہے اور کہا کہ ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ ہیں، دن سارا ہم کام کاج کرتے ہیں اور معاذ آپ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتا ہے اور پھر آکر سورہ بقرہ شروع کردیتاہے۔ نبیﷺ معاذکی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: «يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ - ثَلاَثًا - اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَنَحْوَهَا» ([3])
’’اے معاذ! کیا تو لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتاہے؟ تو چھوٹی سورتیں پڑھاکرعشاء میں۔ سورۃ الشمس، سورۃ الاعلیٰ اور اس طرح کی سورتیں پڑھا کر۔‘‘
آج اگر کوئی تھوڑی لمبی نماز پڑھے تو کہتے ہیں کہ یہ فتنہ والی نماز ہے، حالانکہ معاذ نےتو عشاء کی نما زمیں مکمل سورہ بقرہ پڑھ دی تھی۔ یہ تو واقعی آزمائش اور فتنہ ہے۔ لیکن جتنی لمبی قراءت نبیﷺ نے کی ہے اتنی لمبی قراءت اگر کوئی کرے تو مسئلہ نہیں،بلکہ سنت ہے۔ لیکن نبی ﷺ کی نما ز سے لمبی نماز یقیناً فتنہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ چھوٹی نمازبھی فتنہ ہے۔ سنت جتنی ہے، اس کے درمیان درمیان رہا جائے ۔
سیدنا ابو بکر نے فجر کی نما ز میں پوری سورہ بقرہ پڑھ دی۔ جب فارغ ہوئے تو سیدنا عمر کہنے لگے: ’’امیر المومنین! سورج تو طلوع ہونے والا تھا۔‘‘ فرمایا: ’’اگر نکل بھی آتا تو ہمیں غافل ہونے والوں میں نہ پاتا۔‘‘ ([4])
فجر کی نما ز میں بڑی لمبی لمبی قراءت نبی ﷺ کیا کرتے تھے۔ فجر کی نمازمیں سورہ بقرہ پڑھنا بنتا ہے ، عشاء کی نما زمیں نہیں۔ فجرکی نما زکی رکعتیں دو ہی رکھی گئی ہیں،جبکہ باقی سب کی زیادہ ہیں۔ پہلے سب کی رکعتیں دو دو تھی، پھر چار چار کر دی گئیں۔ ([5])مغرب کی تین رکعتیں ہیں کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں۔([6])
اسی طرح احنف ابن قیسکہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کے پیچھے فجر کی نما زپڑ ھی تو انہو ں نے ایک رکعت میں سورہ یونس اور دوسری میں سورہ ہود کی تلاوت کی۔([7])
یہ بھی کوئی چھوٹی سورتیں نہیں ہیں۔
فرافضہ بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کے پیچھے فجر کی نماز میں سورہ یوسف سیکھی۔([8])
سیدنا عمر فجر کی نما زمیں سورہ یو سف اکثر پڑھا کرتے تھے ، حتیٰ کہ جب ابو لولؤ فیروز مجوسی نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا تو اس وقت بھی آپ سورہ یوسف کی ہی تلاوت کر ہے تھے۔([9])
عبداللہ ابن عمر و ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کو فجر کی نماز میں سورہ یوسف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ سیدنا عمر بڑا آہستہ ، آہستہ سورہ یوسف پڑھا کرتے تھے ۔([10])
سیدنا ابو ہریرہکہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علیکے پیچھے فجر کی نمازپڑھی تو انہوں نے فجر کی نما ز میں سورہ یونس اور سورہ ہود پڑھی ۔([11])
سیدنا معاذ ابن جبلنے فجر کی جماعت کروائی تو پوری سورۃ النساء فجر کی نما زمیں تلاوت کی۔ ([12])
فجر کی نماز میں لمبی تلاوت کی گنجائش ہے ۔ رسول اللہﷺ کا بھی یہی طریقہ کار تھا کہ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرمایا کرتے تھے۔([13])
جب نبی ﷺ نے اتنی لمبی نماز پڑھائی ہے تو اتنی لمبی نماز میں فتنہ کاکوئی شائبہ نہیں ہے۔ اگرکوئی اس سے لمبی کردے تو پھر یہ کام خراب ہے۔ اسی طرح نبی ﷺ کی مختصر نماز کو سامنے رکھ کر اتنی مختصر نماز ہو۔ اس سے زیادہ چھوٹی نما ز باعث فتنہ ہے ۔
________________________________
([4]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3545)
([5]) البخاري (350)، ومسلم (685)
([6]) مصنف ابن أبي شیبۃ (6709)
([7]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3546)
([8]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3549)
([10]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3548)
([11]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3552)
([12]) مصنف ابن أبي شیبۃ (3553)
([13]) البخاري (541)، ومسلم (461)
-
الخميس AM 11:18
2023-02-09 - 837





