اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سجدہ سہو کا طریقہ

درس کا خلاصہ

سجدہ سہو کرنےکے دو طریقے نبی ﷺ سے منقول ہیں۔ سلام پھیرنے سے پہلے اور سلام پھیرنے کے بعد دونوں طرح سے سجدہ سہو نبی ﷺ نےکیا ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

سجدہ سہو کا طریقہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

نماز میں اگر انسان کو اگر شک ہوجائے کہ اس نے  رکعتیں کتنی پڑھی ہیں، کم یا زیادہ، یا درمیانہ تشہد بھول جائے  تو اس پر سجدہ سہو ہوتا  ہے۔ سجدہ سہو کرنےکے دو طریقے نبی ﷺ سے منقول ہیں۔ سلام پھیرنے سے پہلے اور سلام پھیرنے کے بعد دونوں طرح سے سجدہ سہو نبی ﷺ نےکیا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ» ([1])

’’جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک کرے تو وہ درست بات اچھی طرح سوچ لے۔ پھر جوبات اس کے دل میں  سمجھ آتی ہے کہ یہ درست ہے، اس پروہ اپنی نماز پوری کرے، پھر سلام پھیرے اور دو سجدے کرے ۔‘‘

سیدنا ابو سعید خدری﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ, فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَثْلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا؟ فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ, ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ»([2])

’’جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نما ز میں شک کرے  اور اسےپتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار، تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقینی بات پر بنیاد رکھے اور پھر سلام پھیرنے سے  پہلے دو سجدے کرلے۔‘‘

پچھلی روایت میں تھا کہ سلام پھیرنےکے  بعد اب یہا ں آگیا سلام پھیرنےسے پہلے دو سجدے کرلے۔ اگر اس نےپانچ رکعتیں پڑھ لی  ہیں  تو یہ دو سجدے اس کی نمازکو جفت بنادیں گے اور اگر اس نے پوری پڑھی ہیں تو یہ شیطان کے لیے چوکا بن جائیں گے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے  ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دى۔ صحابہ نےپوچھا کہ کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیوں؟ کیا ماجرا ہے؟‘‘ انہوں نےکہا: آپﷺنے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ پانچ رکعتیں پڑھا کر سلام پھیرا۔ سوال جواب ہوا،  گفت و شنید ہوئی۔نبی ﷺ سلام پھیرنےکے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کرتے تھے۔ آپ ﷺ  نے اپنی ٹانگیں گھمائی قبلہ رخ ہوئےاور  دو سجدے کرلیے ۔ ([3])

سیدناابوہریرہ﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھا دی۔آپﷺ سے کہا  گیا کہ آپﷺ نےدو رکعتیں پڑھائی ہیں تو پھر آپﷺ نےدو رکعتیں مزید پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا پھر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔ ([4])

ایسےہی درمیانہ تشہدبھول جانےپر بھی آپﷺ نے سجدہ سہو کیا۔ سیدنا عبداللہ بن بحینہ﷜ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، تو ہمیں دورکعتیں  پڑھائی اور تشہدمیں  بیٹھے نہیں بلکہ تیسری رکعت کےلیے کھڑے ہو گئے آپﷺ کے ساتھ لوگ بھی کھڑے ہو گئے۔یعنی  صحابہ کرام اور آپ  ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھنے والے سب کھڑے  ہو گئے۔ آپ ﷺ نے تیسری رکعت پڑھائی ، چوتھی رکعت پڑھائی۔ جب نماز مکمل ہونے کو تھی اور لوگ اس انتظار میں تھے کہ اب رسول ﷺ نماز سےسلام پھیریں گے تو آپﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلےتکبیرکہی اور    دو سجدے کیے۔ پھر اس کے بعد  سلام پھیرا۔ ([5])

درمیانہ تشہد نبیﷺظہر کی نماز میں  بھول گئے اور اس کےبعد آپﷺ نے درمیانے تشہد کے بدلے میں سہو کےدو سجدے کیے۔یعنی    آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے  پہلے  بھی سجدہ سہو کیا ہےاور سلام پھیرنےکے بعد بھی سجدہ سہو کیا ہے۔جیسے کسی کو میسر آئے، وہ طریقہ کار اختیار کرلے ۔

 کچھ لوگ سجدہ سہو کرنے کےلیے ایک طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرتے ہیں، پھر دوبارہ تشہد پڑھتے ہیں اور تشہد پڑھ کر پھر سلام پھیرتے ہیں۔یہ طریقہ نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ اس کے بارے میں سنن ابو داؤد میں ایک روایت آتی ہے۔ اشعث ایک راوی ہیں، محمد ابن سیرین﷫ کے  شاگرد ، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن سیرین نے روایت بیان کی کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور بھول گئے اور آپﷺ نے دو سجدے کیے اور سجدے کرنے کے بعد پھر آپﷺ نےتشہدپڑھا، پھر سلام پھیرا۔ ([6])

ظاہر ی طور پر اس کی سند صحیح معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں۔ سند کے ظاہر کو دیکھ کر کچھ لوگ دھوکہ کھا گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ بھی ایک طریقہ ہے۔لیکن یہ طریقہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سلمہ بن علقمہ نے محمد ابن سیرین﷫سے پوچھا کہ سہو کے  دو سجدوں کے بعد تشہد بھی ہے؟ تو محمد ابن سیرین کہنےلگےکہ میں نےسجدہ سہو کے بعد تشہد کے بارے کچھ نہیں سنا ۔ اشعث جوکہ شاگردہیں محمد ابن سیرین کے، یہ روایت نقل کررہے ہیں ابن سیرین سے اور محمد ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے اپنےاستاد سے سہو کےسجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں کچھ نہیں  سنا، تو پھر بھلا محمد بن سیرین کا شاگرد کیسے روایت کر سکتا ہے ۔اصل میں ہو ایہ ہے کہ اشعث بن عبد الملک کو یہاں پر غلطی لگی۔یہ تشہد دو سجدوں سے پہلے  تھا ، جو انہوں نے غلطی سے سجدہ سہو کے بعد ذکر کردیا ہے۔یہ راوی کی غلطی ہے ۔سجدہ سہوکےبعد تشہد آپﷺ سےثابت نہیں ہے۔ سجدہ  سہو کرنےکے بعد سلام پھیر دے یا پھر سلام پھرنے کے بعد سجدہ سہو کر لے، دونوں طرح سے درست  ہے ۔

____________________________

([1])           البخاري (401)، ومسلم (572)

([2])           مسلم (571)

([3])           البخاري (1226)

([4])           البخاري (715)

([5])           البخاري (829)، ومسلم (570)، وأبو داود (1034)، والنسائي (3/ 19 - 20)، والترمذي (391)، وابن ماجه (1206)، وأحمد (5/ 345 و 346)

([6])           أبو داود (1039)

 

  • الخميس AM 11:26
    2023-02-09
  • 1567

تعلیقات

    = 5 + 9

    /500
    Powered by: GateGold